ایک ایسا سچ ہے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ایران کے رہبرِ معظم علی حسینی خامنہ ای کی عظیم قربانی کے باعث عالمِ انسانیت کی تاریخ میں یہ ہفتہ رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔ سپر پاور امریکہ سے ڈرنے کی بجائے ایرانی قیادت کا اپنے ملک کی حفاظت کیلئے ڈٹ جانا یقیناً ایک انتہائی غیر معمولی کارنامہ تو ثابت ہو ہی گیا ہے لیکن سپریم لیڈر نے چھپنے کے بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی جانی قربانی دے کر سانحہ کربلا کی یاد یقیناً تازہ کردی ہے۔ فیض نے کیا خوب کہا تھا کہ
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
گزشتہ ہفتے جب دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک کے لوگ ایران کی سرزمین پر رہبرِ معظم کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پہنچے تو میزبانوں کی اعلیٰ درجے کی مہمان نوازی نے انہیں بیحد متاثر کیا۔ تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد کے شہروں نے اپنے دروازے کچھ اس طرح وا کئے کہ کروڑوں افراد کی آمد و رفت بھی انتہائی آسان ہو گئی۔ جس ایران پر چالیس سے بھی زائد سالوں سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں اور جہاں پھر چالیس دن تک وحشیانہ بمباری بھی کی گئی، اس اسلامی جمہوریہ ایران نے جس انداز سے اپنے سپریم لیڈر کو الوداع کہا اس کو دیکھ کر تمام مغربی طاقتیں تو حیران و پریشان ہیں ہی، ہمارے امریکی صدر کی تو راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ عام طور پر اسلام کے فلسفہ شہادت کا ادراک نہ ہونے کے باعث اور خاص طور پر شیعہ اثنائ عشری کے فلسفہ عزاداری سے ناواقفیت کی بنا پر امتِ مسلمہ کی موجودہ کیفیت کو سمجھنا کسی کیلئے بھی کوئی آسان کام نہیں البتہ فیض نے سمجھانے کی کوشش ضرور کی ہے کہ
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
دنیا کی واحد سپر پاور کا ایران کے رہبرِ معظم یا سپریم لیڈر کے ساتھ مقابلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں نے معاملات کو خاصا الجھا بھی دیا ہے۔ اس لڑائی میں غزہ کے مظلوموں کی قربانیوں نے یقیناً پوری دنیا کی رائے عامہ کو امریکہ کے خلاف لا کھڑا کیا ہے اور صیہونیت خود مغرب کے اندر بھی انتہائی غیر مقبول ہو چکی ہے۔ ان حالات میں امریکی انتظامیہ کیلئے ایران اور اس کے سپریم لیڈر کو جنگ میں شکست دینا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ بھارت کی پارلیمنٹ کے رکن اور مشہور شاعر عمران پرتابگڑھی کہتے ہیں کہ!
سب کچھ نچھاور کرکے بھی فرض نبھایا جاتا ہے
اس دنیا سے واپس جانے کو ہی آیا جاتا ہے
اک بوڑھے سے شخص نے ساری دنیا کو یہ بتا دیا
اپنی شہادت دے کر بھی ملک بچایا جاتا ہے
ایران کے شہید رہبرِ معظم تو اپنا فرض ادا کرکے اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ اب دیکھنا یہ کہ ان کے جانشین حق و باطل کی اس کشمکش میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ سید مودودی نے اپنی کتاب شہادتِ حق میں تحریر فرمایا ہے کہ شہادت حق کی ذمہ داری سے مراد دراصل یہ ہے کہ جو حق ہمارے پاس آیا ہے، اور انسان کے لیے فلاح اور نجات کی جو راہ دکھائی گئی ہے، ہم دنیا کے سامنے اس کے حق اور صداقت کی گواہی دیں، اسی شہادت کے لیے انبیاء کو بھیجا گیا۔ پھر یہ ذمہ داری انبیاء کی امتوں پر ڈالی گئی۔ اب خاتم النبیین کے بعد یہ فرض امت مسلمہ پر بحیثیت مجموعی اسی طرح عائد ہے، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی زندگی میں شخصی حیثیت سے عائد تھا۔ شہادتِ حق کا یہ فریضہ انجام دینا ہر خاص و عام کی اولین ذمہ داری ہے اور فیض احمد فیض نے کس خوبصورتی سے اس مضمون کو اپنے اس شعر میں باندھا ہے کہ
میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں











