تیل کی قیمتوں میں کمی مگر مہنگائی عروج پر!!!

0
3
ماجد جرال
ماجد جرال

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی خبر پاکستان جیسے ممالک کے عوام کے لیے ہمیشہ امید کا پیغام سمجھی جاتی ہے اور عام توقع یہی ہوتی ہے کہ جب دنیا میں تیل سستا ہو رہا ہے تو ملک میں پٹرول، ڈیزل، کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آنی چاہیے مگر حقیقت اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف کیوں نہیں ملتا۔ اس کا جواب محض حکومتی نااہلی تک محدود نہیں ہے اگرچہ پالیسی سازی اور انتظامی کمزوریاں اپنا کردار ضرور ادا کرتی ہیں لیکن اس مسئلے کے پیچھے کئی معاشی حقائق اور ریاستی مجبوریاں بھی موجود ہیں۔ پاکستان ایک درآمدی معیشت ہے جہاں توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے پورا کیا جاتا ہے اور خام تیل کی خریداری امریکی ڈالر میں ہوتی ہے اس لیے اگر عالمی مارکیٹ میں تیل سستا بھی ہو جائے مگر پاکستانی روپیہ کمزور ہو رہا ہو تو قیمتوں میں کمی کا فائدہ محدود ہو جاتا ہے کیونکہ حکومت کو کم قیمت پر تیل ملنے کے باوجود درآمدی اخراجات اور زر مبادلہ کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسرا بڑا عنصر ٹیکس پالیسی ہے کیونکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات صرف ایندھن نہیں بلکہ حکومتی آمدن کا اہم ذریعہ بھی ہیں اور بجٹ خسارہ پورا کرنے، قرضوں کی ادائیگی اور سرکاری اخراجات چلانے کے لیے حکومت اکثر تیل پر عائد لیویز اور دیگر مالیاتی بوجھ برقرار رکھتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمت کم ہونے کے باوجود پمپ تک پہنچتے پہنچتے عوام کو اس کمی کا مکمل فائدہ محسوس نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حکومتیں فوری عوامی ریلیف کے بجائے معاشی استحکام کو ترجیح دیتی ہیں اور معاشی ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت کو زر مبادلہ کے ذخائر، قرضوں یا مالی خسارے کو سنبھالنے میں استعمال کیا جائے تو طویل مدت میں معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اس دلیل کے ساتھ یہ بنیادی سوال جڑا رہتا ہے کہ اگر قربانی عوام دے رہے ہیں تو ریلیف بھی آخر کب اور کیسے واپس ملے گا۔ ایسے میں حکومتی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ عوام صرف معاشی وضاحت نہیں بلکہ شفافیت چاہتے ہیں اور اگر عالمی منڈی میں قیمت کم ہو تو حکومت کو واضح انداز میں بتانا چاہیے کہ کتنی بچت ہوئی، کہاں استعمال ہوئی اور عوام کو کتنا فائدہ منتقل کیا گیا کیونکہ معلومات کی کمی اکثر بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔
مزید یہ کہ ہمارے مقامی بازاروں کا رویہ بھی قابل غور ہے کیونکہ ایندھن مہنگا ہو تو کرائے اور اشیائ فوراً مہنگی ہو جاتی ہیں لیکن تیل سستا ہونے پر قیمتیں اسی رفتار سے نیچے نہیں آتیں اور اس عدم توازن کا بوجھ بھی عام شہری ہی اٹھاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اصل کامیابی صرف عالمی قیمتوں میں کمی نہیں بلکہ ایسے معاشی ڈھانچے کی تشکیل ہے جو عالمی فائدے کو عوامی فائدے میں بدل سکے ورنہ عالمی منڈی میں سستا تیل صرف خبروں تک محدود رہ جاتا ہے اور عام آدمی کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here