واشنگٹن (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور اہم قانونی کامیابی دیتے ہوئے وفاقی خود مختار اداروں کے سربراہان کو ملازمت سے برطرف کرنے کے ان کے اختیار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ پیر کے روز دیے گئے اس فیصلے کے بعد صدر اب کسی بھی رکاوٹ کے بغیر ان اہم سرکاری اداروں کے سربراہوں کو عہدوں سے ہٹا سکیں گے، جس سے امریکی انتظامی ڈھانچے پر ان کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ عدلیہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کو درپیش ایک اور بڑی حمایت ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں نے ٠٩ سال پرانی قانونی روایت کو ختم کر کے صدر کے انتظامی اختیارات کو لامحدود بنا دیا ہے۔ ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس اقدام سے امریکی جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور سرکاری اداروں کی خود مختاری کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ اب ان اداروں میں سیاسی مداخلت کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کا اندازہ حال ہی میں سپریم کورٹ کی مقبولیت میں تیزی سے ہونے والی کمی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران عدالت کی مقبولیت میں22 فیصد تک گراوٹ آئی ہے۔ دریں اثنا، سپریم کورٹ کی جانب سے اپنی سیکیورٹی فورس کو دوگنا کرنے کے فیصلے نے بھی قانون سازوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایک ایسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں انتظامیہ اور عدالت کے گٹھ جوڑ سے جمہوری ادارے کمزور ہو رہے ہیں۔











