کس کی دُم کس سے بندھ جاتی ہے یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جب کسی کی دُم کسی سے بندھتی ہے تو وہ تن و تنہا نہیں ہوتا ، اُس کے جڑ سے رشتہ داری کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔
مثلاًعامر خان کی شادی زلیخہ بی بی سے ہوجاتی ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ زلیخہ بی بی کے گھر والے اِس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کس طرح اُس کی بہن کی شادی بھی عامر خان کے بھائی سے ہوجائے ، اُدھر عامر خان کے گھر والے اُس کی بہن کی شادی عامر خان کے بھائی سے شادی سے کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ جب بات نہیں بنتی تو عامر خان کے داد ا کی شادی زلیخہ بی بی کی نانی سے ہوجاتی ہے۔ یا نہیں تو عامر خان کے پھوپھو کے بیٹے کی شادی کی بات زلیخہ بی بی کے کزن سے شروع ہوجاتی ہے، اور جب وہ آگے نہیں بڑھتی تو معاملہ عامر خان کے کزن سے طے ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک سال کی مدت میں ایک ہزار لوگوں کا جم غفیر ایک دوسرے کا رشتہ دار بن جاتا ہے۔ جب بھی کوئی کسی سے تعلق کے بارے میں پوچھتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ فلاں اُن کے کزن کے شوہر کا بھائی ہے۔لیکن بعض اوقات بات رشتہ داری سے آگے بھی نکل جاتی ہے ۔ مثلا”عامر خان کے ایک کزن کی شادی اُس کے دفتر کے ایک منیجر کے بیٹے سے چلنے لگی تھی ، لیکن معاملہ کٹھائی میں اُس وقت پڑگیا تھا جب منیجر کے بیٹے کے خاندان والوں نے یہ چغل خوری کردی کہ وہ لوگ اپنے بہو سے شادی کے چند دِن بعد ہی گھر میں جھاڑو پھیڑ وانا شروع کروادیتے ہیں۔لیکن منیجر کے بیٹے والوں نے اِس کی تردید کی اور عذر یہ پیش کیا کہ یہ محض اتفاق تھا ۔ گھر کی ماسی علالت کی وجہ کر کام پر نہیں آئی تھی اِسلئے بہوں کو گھر میں جھاڑو پھیرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ لیکن معاملہ طوالت پکڑ گیا۔ منیجر کے گھر والوں نے اِس بات کی تحقیقات شروع کردی کہ کس طرح یہ بات گھر سے باہر پہنچ گئی۔ مطلب اِس کا یہ ہوا کہ گھر کی بہو لنکا ڈھائے۔
عموماً ایسا نہیں ہوتا لیکن پاکستان کے ڈراموں میں سنسنی خیز منظر پیش کرنے کیلئے ایسا دکھا دیا جاتا ہے۔پاکستانی چینلز اِن دنوں خاندانی تعلقات ، خاندانی تصادم اور خاندانی گلہ و شکوہ کا منبر اور اِس کے ڈرامے مبلغ بنے ہوے ہیں۔۔ جو کچھ بھی اِس میں نظر آتا ہے ، گھر کی بہو فورا”اُس کی تقلید شروع کردیتی ہیں۔مثلا”ڈرامہ میں جس طرح ایک خاتون دوسرے خاتون کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہیں ٹھیک اُسی طرح وہ بھی جواب دیتی ہیں یا دینا چاہتی ہیں۔ عامر خان کی تیسری بہن جب شادی کے بعد اپنے سسرال منتقل ہوئیں تو اُنہوں نے اُس کا مظاہرہ کیا۔ جب اُن کی بھاوج نے اُنہیں ایک دفعہ کہا کہ” وہ اخلاق و اطوار میں بالکل کوری معلوم ہوتی ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اُنکا تعلق کسی پودے بونے والے گھرانے سے ہے۔” عامر خان کی بہن نے فورا” جواب دیا کہ ” روز روز کے اُن کے تیور کو دیکھ کر معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ۔ اخلاق بات لوگوں سے ملنے جلنے کے طریقے سے تو پتا چلتا ہے کہ ” اُن کا تعلق کسی ناچ گانے والے گھر انے سے ہے۔ ” بھاوج نے چیخ کر جواب دیا کہ اُنہوں نے ناچ گانے والوں سے اُنکا رشتہ جوڑ اہے۔ عامر خان کو آنے دو وہ اُن سے شکایت لگا ئینگی۔ عامر خان کی بہن نے جواب دیا کہ ” ناچ گانے والوں سے تعلق لگا کر کون سی میں نے معیوب بات کردی۔ اُن کا تعلق انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے ہوتا ہے جس کے ڈارامے اور فلموں کو دیکھنے کیلئے وہ ہمیشہ بے چین رہتی ہیں۔” عامر خان کی بھاوج کے ذہن میں فورا”جیو ڈرامے کا وہ منظر یاد آگیا اور وہ اُسے دہرانے کو ضروری سمجھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ” خبردار جو اُنہوں نے اُن کا رشتہ کبھی ناچ گانے والوں سے جوڑا ہے۔ ورنہ وہ اُنہیں ایک طمانچہ لگادینگی۔ اُن کے والد کا تعلق لکھنئوکے ایک معزز گھرانے سے تھااور کراچی میں وہ پبلک اسکول میں اُردو کے استاد تھے۔ اُن کے سینکڑوں شاگرد اِن دنوں فٹا فٹ اُردو بولا کرتے اور لکھتے ہیں۔” ” ٹھیک ہے میں اُردو زبان کے مسئلے پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن یاد رکھو یہ بات کبھی آگے نہ بڑھے۔’












