جیو نیوز کی مذہبی جذبات کی پامالی :نشریات پر15 روزہ پابندی

0
4
شمیم سیّد
شمیم سیّد

گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ کے افق پر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ملک بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے قلبی اور ایمانی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کی جانب سے محرم الحرام کے مقدس ایام کے دوران نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی ایسی منظر کشی کی گئی جو اسلامی تعلیمات، ملکی قوانین اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے صریحاً منافی ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی غلطی یا ادارتی کوتاہی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا آزادی صحافت کے نام پر مذہبی تشخص اور عقائد کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں جہاں آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جاتا ہے، وہیں مذہبی تقدس کی حدود کا تعین بھی لازم ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے نظریاتی مملکت میں، جہاں آئین کی بنیاد ہی اسلام پر رکھی گئی ہے، ایسی جسارت کا ارتکاب نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ عوامی اشتعال کا باعث بھی بنتا ہے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد ردعمل کی شدت اس بات کی غماز تھی کہ پاکستانی قوم اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں کسی قسم کی لچک یا رواداری دکھانے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی سطح تک ہر طرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس توہین آمیز رویے کا نوٹس لیا جائے۔ اس موقع پر ملک بھر کے جید علمائ کرام نے یکجا ہو کر اپنی دینی ذمہ داری کا احساس دلایا اور بڑی متانت کے ساتھ حکومتی اداروں کو قانون پر عملدرآمد کرنے پر مجبور کیا۔ یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ اس حساس موقع پر جذباتیت کے بجائے قانونی اور آئینی راستے کا انتخاب کیا گیا، جس کا نتیجہ پیمرا کی جانب سے چینل کے لائسنس کی عارضی معطلی کی صورت میں نکلا۔ تاہم، چینل کی جانب سے ٹیلی ویڑن سکرینوں سے ہٹائے جانے کے بعد یوٹیوب پر اپنی نشریات جاری رکھنا ان کی غیر سنجیدگی اور درشتی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا ادراک تو ہے مگر اس پر ندامت کا فقدان ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جب معلومات کی ترسیل کی رفتار برق رفتار ہو چکی ہے، ایسے جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات کے ساتھ اخلاقی اور شرعی حدود کی پابندی کی بریک لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جس طرح ایک تیز رفتار گاڑی کو موڑ پر قابو پانے کے لیے بریک کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح میڈیا ہاؤسز کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی سکرینوں سے نشر ہونے والا ہر لفظ اور منظر سماجی و مذہبی ڈھانچے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جیو نیوز کا یہ دعویٰ کہ یہ ایک ادارتی غلطی تھی، اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک وہ اپنے ادارتی نظام میں شفافیت لانے اور ایسے متنازع اقدامات کو ہمیشہ کے لیے روکنے کا عزم نہ کریں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کیا یہ واقعہ کسی مخصوص سوچ کے تحت کیا گیا یا یہ محض ایک لاپرواہی تھی، بہرحال اس نے ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے تھے۔
اب جبکہ حکومتی اداروں نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ صرف پندرہ دن کی معطلی کافی نہیں ہوگی بلکہ مستقبل کے لیے ایسے ٹھوس ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی جانی چاہیے جو کسی بھی چینل کو ایسی جسارت کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کرے۔ قانون کا اطلاق صرف ایک ادارے پر نہیں بلکہ سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ اگر یہ خبریں درست ہیں کہ دیگر نجی ٹی وی چینلز پر بھی ایسی ہی منظر کشی جاری ہے تو پیمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نگرانی کے نظام کو فعال کر کے ان تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرے جو ملک کے نظریاتی تشخص کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آزادی صحافت کی اصل معراج حق و سچ کی ترویج اور معاشرتی اقدار کا تحفظ ہے، نہ کہ تنازعات کو ہوا دے کر اپنی درجہ بندی بڑھانا۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اس پوری صورتحال میں پاکستانی عوام اور علماء کرام کا کردار لائق تحسین ہے جنہوں نے ثابت کیا کہ وہ اپنے دینی معاملات میں کس قدر حساس ہیں۔ یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ میڈیا کے ایوانوں میں بیٹھنے والے پالیسی ساز اب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی نشریات سے کسی بھی صورت میں مذہبی ہم آہنگی متاثر نہ ہو۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے قوانین کا سختی سے نفاذ کرے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور اسلامی شعائر کے تقدس کو یقینی بنا سکیں۔ مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی کارروائی کا تدارک صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جب ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں اور قانون کی بالادستی کو سب پر مقدم رکھیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here