پیارے نبیۖ کی پیاری باتیں!!!

0
6
رعنا کوثر
رعنا کوثر

پیارے نبیۖ
کی پیاری باتیں!!!

پیارے نبیۖکی آمدِ ماہِ ربیع الاول سے وابستہ ہے۔ ہم اس مبارک مہینے میں اپنے نبی کی یاد مناتے ہیں اور جتنا ان کی تعلیمات کو اپناتے جائیں گے، اتنا ہی ہمارے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلنا آسان ہوتا جائے گا۔ آج ہمیں اپنے پیارے نبی کے اخلاق، دوستوں سے محبت اور پیار کے سلوک کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے اور ان کے اسوہ کی خوشبو کو محسوس کرنا چاہیے۔ مومن کا وجود سراپا الفت و محبت ہوتا ہے اور اس انسان میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے محبت کرے اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں۔
قرآنِ پاک کی رو سے مومن مرد اور مومن عورتیں باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں اور یوں اپس میں سچے دوست ہیں۔ دنیا میں اگر بہترین دوستوں کا ساتھ مل جائے تو انسان بڑا خوش قسمت تصور ہوتا ہے۔ اس لیے دوستوں کے ساتھ مل جل کر محبت کی زندگی گزارنے اور مخلصانہ تعلقات قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ یہ راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ جب انسان دوستوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ہر معاملے میں ان کا شریک بنتا ہے تو اسے طرح طرح کی آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور کبھی ذاتی آرام میں خلل پڑتا ہے جہاں صبر و برداشت امتحان ہوتا ہے۔ تاہم یہ تمام مراحل ایک باوقار، مخلص اور سچے دوست کی خاطر طے کیے جاتے ہیں۔ اس برداشت اور تحمل کے نتیجے میں نہ صرف دوستی پائیدار ہوتی ہے بلکہ انسان معاشرے کے لیے سراپا خیر و برکت بن جاتا ہے۔
ایسے انسان کے وجود کو ہر شخص اپنے لیے رحمت کا سایہ سمجھتا ہے۔ اس ضمن میں نبی کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو مسلمان لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے، وہ اس شخص سے کہیں بہتر ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہے اور ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر دل ہی دل میں کڑھتا رہے۔ لہٰذا ہمیشہ نیک، صالح اور مخلص انسانوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے تاکہ دل برداشتہ ہونے کے مواقع کم سے کم پیش آئیں۔
اچھے دوستوں کی مثال خوشبو کی مانند ہے، جب ان کا بہترین اخلاق ظاہر ہوگا تو وہ ماحول کو بھی معطر اور خوشگوار بنا دے گا۔ جب دوستوں کی صحبت سچی اور بے غرض ہو تو ان پر اعتماد کا اپنا ہی اثر ہوتا ہے۔ ان کے درمیان ہنستی مسکراتی زندگی گزارنی چاہیے کیونکہ خود افسردہ رہنے یا دوستوں کو غمگین دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوستوں کے ساتھ بے تکلف، پرخلوص اور خوش باش رہنا چاہیے تاکہ باہمی تعلق میں کشش اور دلی سکون برقرار رہے۔ اپنے پیارے دوستوں کو خوشیاں بانٹنا درحقیقت اپنے ہی دل کو اطمینان فراہم کرتا ہے۔
اپنے دوستوں سے محبت اور تعلق کا اظہار بھی ضروری ہے۔ نبی کی ہدایت ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں اپنے بھائی کے لیے خلوص و محبت کے جذبات ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دوست کو ان جذبات سے آگاہ کر دے۔ دوستی کو پائیدار بنانے کے لیے عفو و درگزر، صبر و تحمل، ایثار، فیاضانہ برتاؤ اور فراخ دلی انتہائی اہم بنیادیں ہیں۔ جب ان اوصاف کو پیشِ نظر رکھا جائے گا تو دوستی مضبوط ہوگی اور یہ شکایت بھی ختم ہو جائے گی کہ مخلص دوست نہیں ملتے۔ عموماً لوگ سچے اور مخلص دوستوں کو نظر انداز کر کے محض دنیاوی مفادات اور نفع نقصان کی بنیاد پر تعلقات بڑھاتے ہیں۔
اگر حقیقی اور مخلص دوستوں کی تلاش ہے تو اس معاملے میں بھی اسوہِ رسول? کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے، جس کے نتیجے میں بہترین رفقاء میسر آئیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق اس کی بہترین مثال ہیں جنہوں نے ہر قدم پر نبیۖ کا ساتھ دیا اور یہ ثابت کیا کہ سچی دوستی کی قوت سے کتنا بڑا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ دوستی میں خلوص اور محبت بنیادی شرط ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوست کا دیندار، سچا اور مشکل وقت میں کام آنے والا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ یہی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے گرد اچھے اور نیک دوستوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here