ماہ ربیع الاوّل مبارک!!!

0
10
رعنا کوثر
رعنا کوثر

ماہ ربیع الاوّل مبارک!!!

یہ ماہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ مسلم امہ کے لیے یہ انتہائی مسرت اور سعادت کا موقع ہے کیونکہ آپ نے دنیا میں تشریف فرما ہو کر نوع انسانی کو اسلام کے عالمگیر اصولوں سے روشناس کرایا اور اس عظیم مقصد کی خاطر بے شمار مصائب و مشکلات برداشت کیں۔
خوشی انسان کا ایک طبعی تقاضا اور فطری ضرورت ہے۔ دینِ اسلام فطری تقاضوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مفید حدود اور شرائط کے ساتھ انہیں پورا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام خوشی کے تمام جائز مواقع پر مسرت کے اظہار کا پورا حق فراہم کرتا ہے تاکہ انسان بلند حوصلوں اور نئی امنگوں کے ساتھ بیدار اور متحرک رہے۔ اسلام نہ صرف معتدل خوشی کی اجازت دیتا ہے بلکہ اگر اسے شرعی ہدایات کے مطابق منایا جائے تو اسے عین دین داری قرار دیتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کی خوشی مناتے وقت اسلامی ذوق، ہدایات اور آداب کا لحاظ رکھنا ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔ اس موقع پر سب سے پہلے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے امت کو اس عظیم نعمت سے نوازا۔ خوشی کے اس موقع پر جذبات پر قابو رکھنا اور کسی بھی ایسے عمل یا رویے سے گریز کرنا ضروری ہے جو اسلامی مزاج سے میل نہ کھاتا ہو یا شریعت کے آداب کے خلاف ہو۔ مسرت کا اظہار ضرور کیا جائے لیکن اعتدال کی حدوں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
خوشی کے اظہار میں اس قدر غلو نہ ہو کہ عاجزی اور بندگی کے جذبات کی جگہ فخر اور غرور لے لے۔ جب میلاد کی پرنور محفلیں محض نام و نمود اور نمائش کا ذریعہ بن جائیں تو ان کی روح اور مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اترانے نہ لگو جو خدا نے تمہیں دی ہیں کیونکہ خدا اترانے والے اور بڑائی جتانے والے کو ناپسند کرتا ہے۔
مومن کی حقیقی خوشی یہ ہے کہ وہ نعمت عطا کرنے والے رب کو اور زیادہ یاد کرے، اس کے حضور سجدہ شکر بجا لائے اور اپنے عمل و گفتار سے اس کے فضل و کرم اور عظمت کا اعتراف کرے۔ اس لیے اس مبارک مہینے میں تلاوتِ قرآن، نوافل کی ادائیگی، درود و سلام کا اہتمام اور زیادہ سے زیادہ استغفار ہی مسرت کے اظہار کے بہترین ذرائع ہیں۔
اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا، ذکر و فکر کی محافل قائم کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی س?رت اور احادیثِ مبارکہ کا درس دینا انتہائی استحسان کا باعث ہے۔ علاوہ ازیں، صدقہ و خیرات کا اہتمام، غریب مسلمان بھائیوں اور نو مسلموں کی دلجوئی، اور ان کی مالی و معاشی ضروریات کو پورا کرنا شکر گزاری کے شایانِ شان راستے ہیں۔
اسلام میں مسرت کے مواقع پر خوشی کا اظہار اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینا خیر و برکت کی دعا دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے اس بابرکت مہینے میں جتنے بھی کارِ خیر اور برکت والے امور ممکن ہوں، انہیں پوری خوش دلی سے سرانجام دینا چاہیے اور اس پورے مہینے کو اللہ تعالی کی عبادت اور اتباعِ رسول میں اس طرح گزارنا چاہیے کہ خوشی کا اظہار پروقار، باوقار اور شرعی حدود کے مطابق ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here