پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک نیا تنازع !!!

0
10
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت پاکستان کو آرڈر دیا تھا کہ دو دن کے اندر اندر عمران خان کو شفا ہسپتال بھیجا جائے جہاں ان کا علاج ہو سکے۔ اس تبدیلی کی وجہ شفا ہسپتال کے باہر سیکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی بتائی جا رہی ہے اور حکومت کے مطابق طبی طور پر عمران خان کو فٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جس پر پاکستان میں اور پاکستان سے باہر اوور سیز پاکستانیوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک بار پھر سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے گرد گھومتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جو حکم دیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوا جب عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا وقت آیا تو انہیں شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا حکومت کے مطابق پمز میں ہونے والے طبی معائنے میں ماہر امراض چشم ماہ امراض قلب اور دیگر ڈاکٹر ز شامل تھے حکومتی بیان کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹر بھی اس طبی معائنے میں شریک ہوئے جبکہ عمران خان کے معالج ڈاکٹر فیصل دو گھنٹے تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ عمران خان آ رہے ہیں اس کے بعد ان کو کہہ دیا گیا کہ عمران خان کو پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا ہے آپ واپس جا سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عدالت نے واضح طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اس لیے حکومت کو اپنی مرضی سے ہسپتال تبدیل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پی ٹی آئی نے اسی معاملے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ یہ تنازع صرف ایک ہسپتال کی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان میں عدلیہ اور حکومت کے اختیارات، قیدیوں کے طبی حقوق اور عمران خان کیسا تھ ریاستی رویے کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کی جانب مسلسل یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ جیل میں ان کی صحت خصوصا بینائی متاثر ہوئی ہے اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عمران خان کو متعدد با رطبی معائنہ اور علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کا پیر منتقل کرنے کا فیصلہ واقعی سیکورٹی ضرورت کے تحت تھا یا یہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے گریز کی کوشش تھی اس کا حتمی فیصلہ اب عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہونا باقی ہے۔ دوسری طرف یہ معاملہ پاکستان کے پہلے سے کشیدہ سیاسی ماحول میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔ عمران خان کے حامی اسے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ایک اور مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ حکومت اسے سکیورٹی اور انتظامی ضرورت قرار دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ اب محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پاکستان کی موجودہ صورتحال ، سیاسی کشمکش عدالتی اختیارات اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ بن چکا ہے ، آنے والے دنوں میں عدالت کا مؤقف اور حکومت کی وضاحت اس تنازع کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ یہ صرف حکومت کو ایک تنبیہہ ہے کہ دیکھو ہم سب کچھ کر سکتے ہیں اگر حالات صحیح ہوئے اور صوبوں کی مخالفت ترک نہ کی تو پھر صدارتی نظام کے دروازے کھل سکتے ہیں اس لیے اپوزیشن بھی متحرک ہو رہی ہے آنے والے دنوں میں تقدیر کیا گیم کھیلتی ہے کسی کو نہیں معلوم کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، حکومت کا یہ اقدام سپریم کورٹ کے اعلان کی خلاف ورزی ہے حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا یا پھر طے کر لیں کہ ہماری سپریم کورٹ اور عدالتیں بیچاری ، محدود اور لاچار ہیں جو اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کراسکتیں ۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو سلامت رکھے اور ہمارے اندرونی خطروں سے نجات دلائے بیرونی طاقتوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے ہمارے اپنے اندر جب تک ایک قوم کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here