رب کریم پاکستان کی حفاظت فرما!!!

0
9
جاوید رانا

اپنے گزشتہ کالم کیا حالات یونہی رہیں گے، میں وطن عزیز میں سیاسی و مقتدر ارباب حل و عقد کی خود غرضیوں و مفاداتی کردار اور آزادی کے مہینے میں عوام کی بشمول اوورسیز پاکستانیوں کی وطن سے محبت کے حوالے سے جن احساسات کا اظہار کیا تھا، الحمد اللہ عوام کے ناطے، امریکہ بالخصوص شکاگو لینڈ میں وطن سے محبت کے جو مظاہر سامنے آئے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ کیئر اینڈ کیور کے زیر اہتمام 23 اگست کو ڈی پارک میں ہونیوالا جشن آزادی پاکستان کلچرل ڈے معرکة الآرا پروگرام نہ صرف گزشتہ دس برسوں کی کامیابیوں کے ریکارڈز پیچھے چھوڑ گیا بلکہ پاکستانیوں کی وطن سے لازوال محبت اور جذبے کی نئی تاریخ قائم کر گیا۔ جشن کی سب سے اہم خوبی سارے پاکستانی اکابرین کے ہمراہ امریکی منتخب و آفیشلز کی بھرپور شرکت کے ساتھ ہزاروں پاکستانیوں کی ریکارڈ شرکت، جوش و جذبہ عرش کو چُھو رہا تھا۔ الحمد اللہ اس تحریر کے لکھے جانے تک راقم الحروف کو جشن کی ریکارڈ ساز کامیابی اور حُسن انتظام کے تحسین و انصرام کے ناطے مبارکبادی کالز و پیغامات کا طویل سلسلہ جاری ہے۔ یقیناً یہ سب وطن سے غیر متزلزل محبت اور وفاداری کا آئینہ دار ہے۔ راقم الحروف اپنی ٹیم کے ساتھیوں آصف ملک، ثروت صدیقی، سلمان آفتاب کی جانب سے مشکور و ممنون ہے لیکن بقول شاعر ”ایں سعادت بزور بازو نیست” اس کامیابی کا سہرا ہمارے اسپانسرز، معاونین کے ساتھ سب سے بڑھ کر اپنے ہزارہا ہم وطنوں کو جاتا ہے جن کو دور دیس میں رہتے ہوئے بھی دھرتی ماں کی محبت اپنے وجود سے بھی زیادہ ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ وطن سے دور رہنے والوں میں وطن کی محبت و عقیدت اور سلامتی کا جذبہ فزوں تر ہوتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ وطن میں رہتے ہوئے بھی وطنیت کی معراج سرفراز ہوتی ہے، البتہ جب حقوق سلب کر لیے جائیں، انصاف مفقود ہو، عوامی رائے اور جمہوری نظام کی پامالی کیساتھ اظہار کا گلا گھونٹ دیا جائے تو حالات سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر حوالوں سے وہ رُخ اختیار کر لیتے ہیں جو اس وقت وطن عزیز پاکستان کو درپیش ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ”محبت امن ہے اور امن کا پیغام کا پیغام پاکستان” جیسے نغمے تخلیق کرنے اور گانے سے یا عالمی و غیروں کے تنازعات میں ثالثی و سہولتکاری گھر کے حالات میں بہتری کا سبب نہیں ہو سکتے۔ گھر کو سنوارنے، خوشحال کرنے اور یکجہتی کیلئے افتراق و اقتدار کی ہوس اور حقوق سے محروم کیا جانا وطن کیلئے زہر قاتل ہیں۔
ہم دُور دیس میں رہتے ہوئے ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے تسلسل سے پاکستان میں ہونے والے مفاداتی و منفی آئینی و جمہوری امور کے ناطے ملک اور عوام کی بہتری کیلئے اپنے کالم سیاہ کرتے رہے لیکن اقتدار کے اور ہوس کے بھوکوں کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی۔ حالات جن حدوں کو پہنچ چکے ہیں وہ کسی بھی طرح نہ ملک کے مفاد میں ہے نہ عوام کے حق میں ہے۔ قارئین لمحہ لمحہ کے حالات سے واقف ہیں دشمن قوتوں سے نبرد آزمائی، اندرون ملک انتشار و عدم استحکام، ملک کے مقبول ترین رہنما اور سیاسی پارٹی کیخلاف ہر دشمنانہ اقدام حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کی صحت سے کھلواڑ اور دوغلے پن کا اقدام نیز معاشی، امن و امان اور دیگر عوامل میں ابتری کے نتیجے میں نظام کے زوال کا اعتراف تو ملک کا وزیر داخلہ اور مقتدرین کا قریب ترین کا بھی کر چکا ہے۔ ان تمام معاملات سے بڑھ کر اہم ایشو آزاد کشمیر میں گزشتہ76 روز سے عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے لیڈر سردار امان کے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیری دیہات کیلئے سیاسی، معاشی، مالیاتی و دفاعی منصوبوں کیساتھ مظاہرین کے پاکستانی فوجی دستوں کے آزاد کشمیر کے شہروں میں داخلے کیخلاف مزاحمت اور مظاہروں کی قیادت خواتین کے سپرد کرنے کے اعلانات خطرناک پیش رفت ہیں۔ پاکستانی ریاست اور حکومت گو ان خبروں کو خفیہ رکھ رہی ہے لیکن کیا اس طرح حالات کی سنگینی کو کم یا کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ ہماری تشویش ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح پچپن برس بعد خدانخواستہ ہم آزاد کشمیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھنے کی طرف تو نہیں جا رہے ہیں جسے قائد اعظم نے پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here