معاف کر دینا…!!!

0
8
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج کل جس طرف بھی نظر دوڑائی جائے کوئی نہ کوئی بری خبر سننے کو ملتی ہے۔ وقت ایسا آ گیا ہے کہ خوشیاں سمٹ چکی ہیں اور ہنستے بستے گھرانے ٹوٹ رہے ہیں۔ بعض اوقات خواتین بلا وجہ ایسی ضِد پکڑ لیتی ہیں کہ اکثر مرد اس کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ بہت سی اچھی خواتین بھی موجود ہیں، لیکن ہر اچھی خاتون کے قریب کوئی نہ کوئی کان بھرنے والا، بہکانے والا یا حاسد موقع کی تاک میں بیٹھا رہتا ہے جو درحقیقت شیطان کا آلہ کار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر گھرانے کو ایسے شر سے محفوظ رکھے، آمین۔
اس ضمن میں سائیکولوجسٹ مریم کا شیئر کردہ ایک واقعہ قابلِ غور ہے۔ ان سے ایک سرکاری افسر نے اپنے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی کی طلاق کو دو سال ہو چکے ہیں، مگر وہ کسی صورت اپنی سابقہ اہلیہ کو بھول نہیں پا رہا۔ وہ اسی کو حاصل کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنے میں ناکام ہے اور غم کی وجہ سے اس پر دنیا تنگ ہو چکی ہے۔ مریم نے مشورہ دیا کہ وہ سابقہ اہلیہ اور اس کے گھر والوں کو منائیں تاکہ دوبارہ تجدیدِ نکاح ہو سکے۔
اس پر سرکاری افسر کا جواب تھا کہ پاکستان کے ہر شہر، بیرونِ ملک، تمام رشتہ داروں اور صاحبِ اثر شخصیات کے ذریعے دو سال کے دوران اس خاتون کو سمجھانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا بھائی سسرال جا کر سسر کے پاؤں پکڑتا ہے اور خاتون کے سامنے گریہ و زاری کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلع ہوئی تھی لیکن اب دوبارہ نکاح کر لیا جائے؛ وہ اپنے والدین کو چھوڑنے، الگ گھر دینے، گھر نام کرنے اور تمام تعلقات توڑنے سمیت ہر شرط ماننے کو تیار ہے، بس گھر دوبارہ بس جائے۔ تاہم، وہ خاتون جو چار بچوں کی ماں بھی ہے، کسی صورت نرم پڑنے یا واپس لوٹنے کو تیار نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ چاہے مرد ہو یا عورت، اگر اس کا شریکِ حیات غلط بھی ہو تو انسان اسی کی ہدایت اور اصلاح کا خواہش مند ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ تمام زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اگر کسی شخص کو آپ سے بے انتہا اذیت ملی ہے لیکن اب وہ پلٹ آیا ہے، اپنی اصلاح کر چکا ہے، اسے غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور وہ ہر شرط ماننے کو تیار ہے، تو اسے زندگی میں دوبارہ موقع ضرور دینا چاہیے۔
ایسا نہ ہو کہ آپ کی انا اور اکڑ کو اسے ٹھکرا کر یا معاف نہ کر کے عارضی تسکین تو مل جائے، مگر آگے چل کر قدرت آپ کو ایسا موقع دوبارہ نہ دے اور مستقبل میں ویسا شریکِ حیات نہ مل سکے جیسا وہ تھا۔ یا پھر قدرت معافی نہ دینے کی ایسی سزا دے کہ انسان تمام زندگی اسے کھونے کے پچھتاوے میں گزار دے اور اس کا دل اور ضمیر معاف نہ کرنے پر ملامت کرتا رہے۔رشتوں میں نرمی اختیار کیجیے اور سخت دل نہ بنئے، کیونکہ حدیثِ مبارکہ کے مطابق سخت دل انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا۔۔ المعجم الکبیر۔
عربی معاشرے کا ایک واقعہ بھی اس سلسلے میں انتہائی سبق آموز ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کچھ لوگ اس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ خاتون ابھی عدت میں ہے اور شرعی طور پر ابھی تک اس کی بیوی ہے، نیز اسے رجوع کا حق حاصل ہے؛ لہذا اگر وہ اس کے عیب بیان کر دے تو رجوع کیسے کرے گا۔ لوگوں نے انتظار کیا اور جب عدت ختم ہو گئی اور اس شخص نے رجوع نہ کیا، تو لوگ دوبارہ اس کے پاس آئے۔ اس پر اس نے کہا کہ اب اس کے بارے میں کچھ بتانا اس کی شخصیت کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا۔ لوگوں نے مزید انتظار کیا یہاں تک کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو گئی۔ لوگ پھر اس کے پاس آئے اور طلاق کی وجہ پوچھی۔ اعرابی نے جواب دیا کہ اب وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کسی کی اہلیہ اور اجنبی عورت کے بارے میں زبان بند رکھے۔ کیا آج کے دور میں ایسے لوگ میسر ہیں؟
محترم قارئین، اس بات پر ضرور غور کیجیے کہ جب کسی عورت یا مرد کی علیحدگی ہوتی ہے تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ طلاق سے عرش کے کنگورے ہل جاتے ہیں۔ جس عمل کو انسان معمولی سمجھتا ہے وہ انتہائی غیر معمولی معاملہ ہے۔ اس بنا پر آپ کسی کے ساتھ رہیں یا نہ رہیں، شرعی حدود میں رہتے ہوئے اگر ایسی نوبت آ بھی جائے تو یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ انسان کسی کی بددعا کا سبب نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بھی جوڑا اس بندھن میں بندھا ہے وہ محبت سے زندگی گزارے، ایک دوسرے کی عزت کا ڈھال بنے اور مسائل پیدا نہ کرے، آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here