فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! دیوانے، عاشقان مصطفیٰۖ اپنے آقا ومولیٰۖ کا میلاد شریف منانے میں مصروف ہیں۔ اور یقیناً میلاد شریف منانے کی برکات بہت زیادہ ہیں۔ جب ہم صدق دل سے والہانہ انداز میں میلاد شریف منائیں گے تو یہ سب برکات پائیں گے۔ لیکن سب دلائل کے باوجود کچھ لوگوں کو یہ اشکال رہتا ہے۔ کہ حضورۖ کا وصال مبارک بھی بارہ ربیع الاوّل کو ہے اور پھر خوشی کی جگہ افسوس کرنا چاہئے ید کا تو سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ اس اشکال کا جواب بہت سی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن ہم بخاری شریف کا سہارا لیتے ہیں ہمارے آقا ومولیٰ علیہ الصّلوٰة والسّلام نے ارشاد فرمایا” جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اسے ہرگز روا نہیں کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے صرف خاوند کی وفات پر چار ماہ اور دس دن سوگ منائے گی۔(کتاب الجنائز بخاری شریف)
ایک اور حدیث مبارکہ میں وار ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا بردار مکرم فوت ہوگیا انہوں نے (تین روز کے بعد) خوشبو منگوائی اور لگا کر فرمایا کہ ”مجھے خوشبو کی چنداں ضرورت نہیں مگر میں نے رسول اللہۖ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اسے ہرگز روا نہیں کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپۖ کے عورت کے ہاں سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر کر۔(کتاب الجنائز) ان ارشادات سے ثابت ہو گیا کہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا قانون اسلام کے خلاف ہے۔ پھر ہمارے آقاومولیٰۖ نے آن کی آن ہی موت کا ذائقہ لیا ہے۔ آپۖ موت کو چکھ کر حسب سابق زندہ ہیں۔ گویا حضورۖ کی حیات آپۖ کے وصال پر غالب ہے پھر ہم سوگ کیوں منائیں؟؟ حضور پاکۖ کی پاک ولادت اور پاک وصال دونوں امت کے لئے رحمت ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے فرمایا: ”میری حیات ظاہری اور میری وفات دونوں تمہارے لئے خیر کا باعث ہیں؟ آپ ۖ آج بھی اپنی امت کے نگہبان اور شاہد ہیں۔ آج بھی بے کسوں اور غلاموں کو نوازتے ہیں پھر ہم افسوس کیوں کریں؟ وہ اب بھی درد ہجر اور آتش فراق میں جلنے والوں کو رخ زیبا دیکھاتے ہیں اور ان کو اپنے وصال سے مشرف کرتے ہیں۔ پھر ہم غمگین کیوں ہوں؟ اور جب آپ کی وفات وحیات دونوں امت کے حق میں خیروبرکت ہیں تو پھر دیکنا چاہئے کہ آخر ”ہائے وائے” کرنے کی کیا ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ خوشی تو آپ ۖ کے اس عالم محسوسات میں جلوہ گر ہونے کی ہے وہ اب بھی موجود ہیں ان کا قانون بھی موجود ہے ان کی کتاب بھی موجود ہے صرف پردے میں رہتے ہیں کہ اس عالم آب وخاک میں ہر کوئی دیدار کے قابل نہیں ہے۔ جس کو نوازنا چاہتے ہیں ملحہ بھر میں مالا مال کر دیتے ہیں۔ جبھی تو اہل جنہوں ان کے آستاں سے ہر طرح کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔
جانے کب دے دیں صدا ساقی حریم ناز سے
بزم والو! گوش برآواز رہنا چاہئے
بعض لوگوں کو یہ بھی اشکال ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو جو ابولہب عالم خواب میں ملا تھا اور اس نے اپنی صورت حال بیان کی تھی وہ معتبر دلیل نہیں۔ کافر کا خواب میں آنا اور اس کو بطور استدلال پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ہم عرض کرتے ہیں کہ ہم نے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر یقین کیا ہے وہ فرماتے ہیں تو ٹھیک ہی ہوگا باقی کافر کے خواب میں دکھائی دینے کا جہاں تک تعلق ہے تو ہم بادشاہ مصر کے بارے میں پوچھنے کی جسارت ضرور کریں گے۔ کیا وہ صاحب ایمان تھا؟ اگر کافر کے خواب پر استدلال کرنا مطلقاً ناجائز ہے تو حضرت یوسف علیہ السّلام نے اس کے خواب پر مستقبل کے حالات کا کیوں جائزہ لیا؟ آپ نے کافر کے خواب کو مدنظر رکھتے ہوئے قحط سالی، اس کے اثرات اور اس سے بچنے کے عملی اقدامات کیوں سوچے؟ قرآن پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسا اس کافر کو خواب آیا اور جیسی پیغمبر برحق نے اس کی تعبیر فرمائی سب کچھ ویسا ہی ہوا۔ پھر یہاںتو خواب کسی کافر کو نہیں آیا بلکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ صحابی رسول اور عمّ مصطفیٰ ۖ کو آیا ہے۔ حیرت ہے کہ اعتراض واشکال صرف اور صرف نبی علیہ الصّلوٰة والسّلام کے میلاد پر ہوتا ہے اور سارے کام جیسے بھی ہوتے رہیں جن کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ بہرحال میلاد منانے والے خوش قسمت ہیں جو نبی علیہ السّلام کو خالق کائنات کی بہترین مخلوق سمجھتے ہیں اور شرک کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلّ جلالُہ ہمیں نبی پاکۖ سے والہانہ عشق، پیار اور محبت عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












