برفانی طوفان اور خدمت خلق !!!

0
34
شبیر گُل

مالک کائنات کا احسان ہے کہ اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کو ایک اور رمضان المبارک کی رحمتوں ، برکتوں اور فیوض وبرکات سمیٹنے کا موقع فراہم کیا۔ ماہ رمضان گناہوں سے بچنے کا ، اللہ بارک سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ مہینہ ہماری ٹریننگ کا مہینہ ہے۔ رواداری کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کے تقدس کے پش نظر زبان ، قلم اور سوشل میڈیا پر احتیاط کی بہت ضرورت ہے۔ جیسے رمضان المبارک میں اللہ سبحانہ تعالی ہمارا خدا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد بھی وہی ہمارا خدا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں حرام سے اجتناب، چودہ پندرہ گھنٹے مالک کائنات کی حلال چیزوں سے اجتناب کرتے ہیں تاکہ اللہ رب العزت ہم سے راضی ہو۔ اگر تیس دن گزرنے کے بعد ہم ارا طرز طریق وہی ہوں۔ اعمال و کردار وہی ہوں۔ افکارو اخلاق وہی ہوں ۔ تو سمجھ لیجئے ہم نے اس مقدس مہینے سے کچھ نہیں سیکھا۔ دین سے کچھ نہیں سیکھا۔ دین اپنے آپ کو اللہ کے آگے سرنڈر کرنے کا نام ہے۔ صرف اسی کے سامنے سر جھکانے کا نام ہے۔ ہر اس چیز کو چہوڑنے کا نام ہے جسے اللہ نے منع کیا ہے۔ آج ہم وقت کے فرعونوں کو سجدہ کر چکے ہیں ، پاکستان سے لیکر سعودی عرب ۔ یمن سے لیکر انڈونیشیا تک وقت کے فرعونوں کے سامنے سر نگوںہیں۔ ہم ہر گناہ کرتے ہیں۔ بدکاری کی ہر حد کو عبور کرچکے ہیں۔ اسلام سے وابستگی بھی رکھتے ہیں اور بغاوت بھی کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے۔ سوکالڈ مسلمان افغانستان سے ٹرینگ لیکر مساجد ، سکولز، پولیس اسٹیشنز اور سیکورٹی فورسیز پر حملہ آورہیں۔ گزشتہ روز نیویارک، نیوجرسی، پنسلوانیا، میں شدید برفانی طوفان آیا ۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں اکنا ریلیف پورے امریکہ میں ضرورت مند مسلم فیملیز کیلئے گراسریز اور اشیا خوردونوش کا بہت بڑے پیمانہ پر انتظام کرتی ہے۔ جو انتہائی مستحسن کام ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو ایک دوسرے کی ہم دردی، دلجوئی اور مشکل میں مدد کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ مشکل وقت اور قدرتی آفات میں درد دل رکھنے والا انسان ضرورت مند اور پریشان حال کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ گزشتہ دنوں برف کے طوفان نے زندگی کو جام کردیا۔ لوگ گھروں میں محصورہو گئے ۔ تیزہوائوں سے بجلی کی کھمبے اکھڑ گئے ۔ نظام زندگی مفلوج ہو گیا۔ کئی مقامات پر بجلی کا نظام درہم ہوگیا۔ اس طوفان میں ریلوے ،بسیں، ائیرپورٹس فلائیٹ متاثرہوئی ہیں۔ کئی سو فلائیٹ متاثر ہوئی ہیں۔ ایم ٹریک سروس کئی گھنٹے بند رہی۔ اکنا ریلیف ،بروکلین،کیونیز، برانکس کے رضاکاروں نے شدید برف کے باوجود ضروتمند فیملیز کو گراسری اور کھانے پینے کی اشیا گھر گھر پہنچانے کا فریضہ انجام دیا۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہو۔ وہ خدمت خلق اور انسانی ہم دردی میں پیش پیش رہتا ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اکنا کے برادر اسحاق الپار،معوذ صدیقی،انور گجر خوزیفی بخش ،اسامہ صدیقی ، رفیق بخش نے تمام بوروز میں ضرورتمندوں کیلئے ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ جو وائلنٹیرز اور رضاکاروں کے ذریعے مختلف مساجد میں گراسری کے رمضان پیکج پہنچانے کافریضہ انجام دیتے ہیں۔ کورونا ہو یا فلو کی بیماری ۔ اکنا کے میڈیکل شعبہ کی ٹیمیں ۔ وائلنٹیرز ڈاکٹرز، ہنگر پریونشن کے مستعد کارکن خدمت انسانی کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ برانکس بلڈنگ کی فائر میں جس طرح اکنا نے کئی ماہ ریلیف کا کام کیا جس سے نان مسلم کمیونٹی میں مسلمانوں کے لئے بہت اچھا میسج گیا۔ پنسلوانیا میں میلوں دور نا کوئی گاڑی اور نا ٹریفک نظر آرہی تھی۔ اکنا ریلیف کے دیوانے جانب منزل،موسم کی پروا کئے بغیر الحمد للہ منزل پر بخیر خوبی پہنچ گئے۔ میں ساری رات ان سے فون پر رابطے میں رہا ۔ لمحہ لمحہ نیویارک سے شکاگو تک سفر کی داستان۔ گاڑیوں کے حادثات اور شدید برفباری اللہ رب العزت کا احسان عظیم ہے کہ اکنا ریلیف کے ساتھ سینکڑوں ڈاکٹرز فی سبیل اللہ خدمت کرتے ہیں۔ امریکہ دنیا کے امیر ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں صحت، تعلیم اور سیکورٹی کے شعبوں کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ لوگوں کی ہر جگہ ہر مقام پر امدادی ادارے موجودہیں۔ پینتیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں سب کچھ ہونے کے باوجود ۔ ضرورتمندوں افراد موجود ہیں جنہیں خوراک، گرم لباس اور شیلٹرز کی ضرورت رہتی ہے۔ اکنا ریلیف ڈیزاسٹر مینجمنٹ نارتھ امریکہ ،ساتھ امریکہ اور سینٹرل امریکہ میں فوڈ، بیک ٹو سکول ، ہنگر پریونشن، پراجیکٹس بہت بہتر انداز میں کرتے ہیں اکنا ریلیف ڈومیسٹک وائلنس ، لو اِنکم مسلم فیملیز کو زکوٰة مد سے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اکنا ریلیف کے چھبیس شیلٹرز ہوم ہیں جو ٹرازشن ہوم کی سروس فراہم کرتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے کردار و افکار سے دنیا کے کونے کونے میں دعوت دین کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ امر بالمعروف کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ اور نہی عن المنکر کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں۔ ان افراد کا تعلق چونکہ قرآن اور سنت رسول اللہ سے ہوتا ہے اسلئے انکے ہاں کرپشن، بددیانتی اور لوٹ مار کا کوئی تصور نہیں۔ ایک ایک پائی مستحقین تک پہنچانا انکا دینی ، ایمانی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اسی لئے گرمی کی تمازت۔ موسم کی خنکی،سردی کی لہر ،طوفان ، بارش اور ڈیزاسٹرز انکی راہ میں حائل نہیں ہوتے۔ یہ کسی قسم کی جھوٹی تنقید کی پروا کئے بغیر جانب منزل رواں دواں رہتے ہیں۔ انکی منزل آخرت کی جوابدہی کا احساس ہے۔ تحریک اسلامی کے کارکنان پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں۔ ان پر لوگوں کا اعتماد ہے۔ میرے آج کے کالم کو نہ تو کسی کی خوشامد سمجھا جائے اور نا ہی خود ثنائی کی زمرہ میں ڈالا جائے ۔ اللہ رب العزت کو شکر گزار انسان بہت مقدم ہے اور محسنوں کے احسانات کا اظہار ہم یں ناشکری اے بچاتا ہے۔ جو لوگ انسانیت کے لئے اپنے مال، اپنی جان اور مصروفیات سے وقت نکال کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ انسان کہلانے کے حق دار کہلاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر تبلیغی جماعت والے دوستوں کا بیحد احترام کرتا ہوں مگر انکا مشن صرف تبلیغ ہے۔ نہ کے عملی میدان میں ضرورتمند لوگوں کی خدمت۔ اکنا اور اس جیسی بہت ساری تنظیموں کو تبلیغی جماعت کے مشن پر خدمت انسانی کی وجہ سے فوقیت دیتی ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے سندھ، بلوچستان، پنجاب، گلگت اور سرائیکی علاقوں میں تباہی پھیلائی۔ تو الخدمت فاونڈیشن کی رضاکار پوری پاکستان میں امدادی سامان لئے جگہ جگہ پہنچ گئے۔ اس میں کام کرنے والا ہر شخص اپنی بساط میں عبدالستار ایدھی ہے۔ پوری دنیا میں یہ لوگ رفاعی کاموں کے لئے دستیاب ہیں۔ دنیا کے کسی بھی مسلم ممالک میں امدادی سرگرمیوں کے لئے یہ لوگ پہنچ جاتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے کارکنان ہی امدادی سامان، امدادی، رقوم کو منصفانہ تقسیم کرتیہیں۔ اللہ رب العزت کو جوابدہی کے احساس کے تناظر میں تحریک اسلامی کا ہر کارکن خوداحتسابی کے لئے پیش پیش رہتا ہے۔ اکنا ریلیف ، ہیلپنگ ہینڈ اور الخدمت کے نوے فیصد افراد رضاکارانہ طور ہر فی سبیل اللہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ ہم ارے اس کام میں کالجز کے پروفیسرز، پولیس ڈیپارٹمنٹ ،چیپلن، اسٹیٹ ٹروپرز،انجنئیرز ، ڈاکٹرز، بزنس کمئونٹی امام ،ٹیچرز،پاسٹرز مذہبی رہنما اور رضاکار پیش پیشہیں۔ کووڈ ہو یا کوء طوفان ، امریکہ میں اکنا ریلیف کے رضاکاروں نے گھر گھر جاکر ضرورتمند لوگوں کو گراسری،اور کھانا فراہم کرتے ہیں۔ برانکس، مین ہیٹن، ویسٹ چسٹر کاونٹی،کنیکٹی کٹ ، نیوجرسی اور پینسلوانیا میں تقریبا ڈیڑھ ملین ماسک، سینی ٹائزرز،اور لاکہوں کووڈ کٹ مساجد، چرچز اور کمئونٹی سینٹرز کو فراہم کیں ۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ہالیڈے سیزن میں اکنا ریلیف نے پانچوں بوروز میں کپڑے اور کھلونے تقسیم کئیہیں۔ برانکس اور آپ اسٹیٹ میں پولیس ڈیپارٹمنٹ،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ،بورو پریذڈنٹ،کلرجی کونسلز، مئیر آفس کے اشتراک سے مختلف چرچز اور کمئونٹی سینٹرز میں کھلونے ،جیکٹس اور گرم کپڑے تقسیم کئے گئے ہیں۔ جو مسلم کمئونٹی کیلئے باعث فخر ہے۔ پچیس دسمبر کی شب منفی ڈگری ٹمپریچر میں انور گجر اور معوذ صدیقی اپنے رضاکاروں کیساتھ ٹائمز اسکوئر پر جیکٹس،جرابیں، ٹوپیاں اور مفلر تقسیم کرتے رہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔ چوہدری انور گجر ہر ہفتہ کی شب ہوم لس افراد میں گرم کھانا،لحاف، موسمی کپڑے تقسیم کرتے ہیں۔ برف کے طوفان میں اکنا ریلیف کے رضا کاراپ اسٹیٹ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو امداد فراہم کررہے ہیں۔ انہیں نہ کسی فوٹو شوٹ اے غرض ہوتا ہے اور نہ ذاتی شہرت اور نہ ہی چند چیزیں سامنے رکھ کر نمود و نمائش کی حرص۔ یہ اللہ کے سپاہی، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی آبیاری اور مسلم تشخص کی پہچان ہیں۔ پاکستانی قوم نے دیکھا ہے کہ گزشتہ ستر سال سے ملک پر ظالم بدکرداروں کا ٹولہ مسلط ہے جس کی لوٹ مار نے ملک کو کنگال کردیا ہے۔ رجیم چینج کے نام پر قوم سے بار بار دھوکہ کیا جاتا ہے۔ وہی زرداری، وہی شریف فیملی، وہی فضل الرحمن اور وہی ایم کیوایم جس نے لوگوں سے زندگی کا سکون چھین لیا ہے۔ کبھی کسی کو قوم کے وسیع تر مفاد میں تبدیلی کے نام پر لایاجاتا ہے۔ انکی فحش گوئی اور کردار سے لوگ تنگ ہیں۔ یہ لوگ ایاک نعبد ،امر بالمعروف کی بات کرتے بیں۔ لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد اور منفی کردار نے آنکھوں کی پٹی کھل دی ہے۔ یہ سبھی ایک جیسے ہیں۔ ان اب دھوکے بازوں کو قوم ہر بار دیکھتی ہے۔ آزماتی ہے اور پھر وہی مایوسی ۔ قوم کو چاہئے کہ ایمانت و دیانت اور اچھے کردار کے حامل لوگوں کو منتخب کیا جائے۔ جنہوں نے گزشتہ ستر سال قوم کی ہر مشکل گھڑی میں خدمت کی ہے۔ پاکستان کی بقا اور سلامتی اسی میں ہے کہ جماعت اسلامی کو منتخب کیا جائے ۔ یہ لوگ نظریاتی،اخلاقی اور اعمال کے لخاظ سے بہترین لوگ ہیں۔ آئیندہ انتحابات میں انکو ووٹ دیکر کامیاب کرائیں تاکہ ملکی معیشت تباہ کرنے اور لوٹ مار کرنے والے عناصر کا احتساب ہوسکے۔ ذخیرہ اندوزوں، چینی، آٹا مافیا سے جان چہوٹ سکے۔ لوگوں کو ضروریات زندگی کی چیزیں سستی مل سکیں۔ لوگوں کی مشکلات کم ہوسکیں۔ اللہ بارک سے دعا ہے کہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔ دہشتگردوں سے محفوظ فرمائے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here