شہباز اور جنرل عاصم کی ٹرمپ کی بے جا تعریفیں!!!

0
27
سردار محمد نصراللہ

قارئین اور عزیزانِ وطن!ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کم اور تاج امریکہ کے شہنشاہ پیس کانفرنس میں زیادہ لگے بلکہ یوں کہ لیجئے کہ ایسا لگا رومن ایمپائر دوبارہ تخت پر براجمان ہو گیا ہے۔ رومن تو اپنے شہریوں سے دربار سجاتے تھے لیکن یہاں تو توڈونلڈ ٹرمپ نے 60 / 70 ممالک کے حکمرانوں سے دربار سجایا ہوا تھا درباریوں میں ہمارے فارم 47کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے براتی بھی پہنچے ہوئے تھے۔وہ کیا ہے رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ جی نے بہت بلند آواز میں شہباز شریف اور ہمارے نام نہاد فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے کہ دینائے سیاست حیرت زدہ ہوگئی ۔جب جب ڈونلڈ ٹرمپ تعریف کرتا ہمارے وزیر اعظم کی اور فیلڈ مارشل صاحب کی طرح باقی درباری حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور مسکرا دیتے بلکہ ڈونلڈ صاحب کو ہمارے عاصم منیر صاحب سب سے زیادہ پسند آئے اس نے شہباز کی جانب دیکھتے ہوئے عاصم کی بہادری کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ مجھ کو ایسے بہادر لوگ بہت پسند ہیں۔صدر صاحب نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ سندوری جنگ میں بھارت کے دس تیاروں کی بربادی کا ذکر کیا اور مودی اور اس کی سرکار پر نمک مرچ خوب چھڑکا ۔ویسے تو ڈونلڈ نے مودی کی بھی بڑی تعریف کی کہ وہ بھی میرا بڑا اچھا دوست ہے دنیا بھر سے آئے حکمرانوں ، مبصروں اور عسکری لیڈروں نے امریکہ کی بدلتی جمہوریت کا رنگ روپ دیکھا اور کوئی کڑتا رہا اور کوئی پریشان حال کہ 21ویں صدی میں دنیا کدھر کو چل پڑی ہے۔
قارئین اور عزیزان وطن!ڈونلڈ ٹرمپ کی شہباز شریف اور عاصم منیرکی چکنی چوپڑی تعریفوں نے مجھے فیلڈ ماشل ایوب کے دور میں دکھیل دیا۔ یہ دور تھا صدر کینڈی کا اس نے بھی ایوب خان کو سونے کی تشتری میں بٹھا کر پورے امریکہ کی سیر کروائی اور ہر ریاست میں ایسا شاندار استقبال ہوتا کہ ہم پاکستانی جھوم جھوم جاتے ایوب نے امریکہ کے دونوں ایوانوں سے خطاب فرمایا لیکن یہ آئو بھگت اس لئے ہو رہی تھی کہ امریکہ کو بھڈا بھیر کا روس کے خلاف اڈہ چاہئے تھا اور جب روس نے پاکستان کو دھمکی دی اور پشاور شہر کے گرد نقشہ پر لال رنگ سے دائرہ بنایا اور ہمارے اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری آگئی۔پھر دیکھئے وہی امریکہ جو ایوب پر فریفتہ تھا 1962کی چین اور بھارت کی جنگ کے دوران صدر جانسن ہمارے فیلڈ مارشل ایوب خان کو اپنے دفتر کے باہر4گھنٹے تک باہر بٹھا نے کے بعد جب اس کو اندر بلایا تو ڈانٹ کر کہا کہ اگر تم نے چین کے کہنے پر کشمیر میں ہندوستان پر حملہ کیا تو تمھاری ایسی کی تیسی کردوں گا۔یہی وہ موقع تھا جب پاکستان آرام سے کشمیر کو آزاد کر وا سکتا تھا لیکن ہمارے فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب اپنی ڈھیلی پینٹ کے ساتھ واپس آگئے۔اب ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی بیجا تعریفیں کیا گل کھلاتی ہیں اب پاکستان اور اس کی افواج سے کیا کام لینا ہے ،پاکستان کی سیاسی اور عسکری طاقتیں صرف اپنا اور اپنے خاندان کا سوچتے ہیں ان کو کروڑ وںعوام کی اور قائد اعظم کے آدرشوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے جس کو پرواہ ہے وہ پاکستان کا نیلسن مینڈیلا عمران خان قید میں ہے اور وہ اس وقت تک قید میں رہے گا جب تک موجودہ فارم47 وزیر اعظم سے امریکہ کا دل بھر نہیں جاتا یا قوم انقلابی روپ نہیں ڈھالتی۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here