ڈاکٹر مقصود جعفری ایک ممتاز شاعر ، ادیب ، خطیب ، کالم نگار ، مفکر ، فلسفی اور ماہرِ تعلیم کے طور پر نمایاں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا تازہ ترین مجموعہ گنبدِ افلاک شائع ہو کر منظر عام پر آ چکا ہے۔میں ڈاکٹر مقصود جعفری کی شاعری اور ان کی ادبی شخصیت کے حوالے سے توخصوصی طور پر مطالعہ رکھتا ہوں مگر اب ان کی شاعری کے مجموعے گنبدِ افلاک کو پڑھا تو ان کی شاعری کے تانے بانے ، خوبیوں اور افکار کی وسعت کو مزید سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا گنبدِافلاک ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جو 2018 میں شائع ہوا تھا اور علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ گنبدِ افلاک ان کی غزلیات شامل ہیں۔ ان کی ہر اصنافِ شعر میں خصوصی خوبیاں موجود ہیں مگر ان کی غزل میں جو شائستگی اور تہذیبی رچاو ہے وہ موجودہ عہد کے بہت کم شعرا کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹرمقصود جعفری کی گنبدِ افلاک کی شاعری بلا شبہ وسیع النظری اور وسعتِ خیال کی حامل ہے ۔انھوں نے علامہ اقبال کی غزل اور نظم کا وسیع مطالعہ کیا اور ماہرِ اقبالیات کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت کروا چکے ہیں ۔ ان کی شاعری میں علامہ اقبال کی شاعری اور افکار و نظریات کے اثرات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں مقصود جعفری نے علامہ اقبال کی شاعری کا رنگ اپنایا ہے بلکہ انہوں نے اپنے کلام میں الگ تھلگ رنگ اپنایا ہے اور اپنی منفرد شناخت کرائی ہے۔ڈاکٹر مقصود جعفری کے ہاں جہاں خیال کا تنوع ہے وہیں الفاظ کا چناو بھی خوب ہے۔ وہ قدیم الفاظ کو اپنی غزل کے موضوع میں لاتے ہیں تو جدیدیت کا گماں ہو تا ہے اور وہ لفظ آج کی ضرورت بن جاتا ہے۔ ان کی یہ خوبی بھی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ڈاکٹر مقصود جعفری کو اردو ، فارسی ، انگریزی ، پنجابی ، کشمیری اور پوٹھواری یعنی سات زبانوں پر دسترس حاصل ہے۔ انہوں نے ان سب زبانوں کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے اور ان زبانوں میں شعر کہے ہیں ۔ ان کو ہفت زباں شاعر کہا جاتا ہے اور کشمیر کے حوالے سے ان کی خدمات بھی نمایاں ہیں جن کا تذکرہ ان کی شاعری اور نثر میں ملتا ہے۔گنبدِ افلاک کے علاوہ ان کی شاعری کی جو کتب شائع ہو چکی ہیں ان میں شعلہ کشمیر ، گوشہ قفس ، نخلِ آرزو ، میخانہ ، متاعِ درد ، اوجِ دار، آوازِعصر، جبرِ مسلسل ، روزن ِ دیوارِ زنداں اور شورشِ ِ جنوں شامل ہیں۔ ڈاکٹر مقصود جعفری کی غزل میں عشق اور انسان ایک خاص موضوع ہے جس میں حقیقی عشق بھی ہے اور مجازی عشق بھی۔ انسان کے موضوع میں ان کے ہاں انسانیت کے مثبت رویے کا مثبت اظہار ہے اور منفی رویوں کی بھرپور نفی ہے۔ ان کی غزل میں عشق، انسان اور انسان کے مثبت رویوں کی عکاسی نمایاں نظر آتی ہے ۔ کہتے ہیں!
دشمن کی حمایت کرتے ہو احسان بھی ہم پر دھرتے ہو
کیا ایسے کبھی کرتا ہے کوئی اپنوں کی حمایت کچھ تو کہو
گرے تھے جب در و دیوار میرے
کہاں تھے نخلِ سایہ دار میرے
ہوس کی شمعیں بجھائو کہ تِیرگی ہے بہت
چراغِ عقل جلائو کہ تِیرگی ہے بہت
مجھ سے کرو نہ واعظ دیر و حرم کی باتیں
میں کر رہا ہوں تم سے انساں کے غم کی باتیں
ڈاکٹر مقصود جعفری کی غزل میں خیال آفرینی اور نرم و گداز خیالات ہیں ۔ تغزل اور موسیقیت کو غزل کی جان سمجھا جاتا ہے ہر غزل گو میں تغزل اور موسیقیت جس قدر نمایاں ہو اس کی غزل میں دلکشی اور دلچسپی ایک انفرادیت پیدا کر دیتی ہے۔ مقصود جعفری کے ہاں غزل میں یہ عناصر نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں ۔
وہ جنہیں زعمِ محبت تھا کہاں ہیں اب وہ
جتنے آتے ہیں اسیرانِ وفا آنے دو
٭٭٭













