امریکہ اور پاکستان میں دھاندلیوں کے الزامات !!!

0
71
رمضان رانا
رمضان رانا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2020ء سے انتخابات میں دھاندلیوں کا الزامات لگاتا چلا آرہا ہے جن کے مطالبے پر الزام شدہ ریاستوں میں کئی بار تحقیقات کی گئی ہے جس میں کوئی دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے ہیں جبکہ بعض ریاستوں کے حکمرانوں کا تعلق ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی سے ہے جس کے باوجود صدر ٹرمپ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے باوجود مطمئن نہیں ہیں جو سمجھتے ہیں کہ 2020کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی حالانکہ 2020 میں تاریخی ووٹنگ سال بھر جاری رہی تھی تاکہ کرونا وبا کے باوجود ہر امریکن ووٹ کاسٹ کر پائے جس کی وجہ سے کامیاب امیدوار صدر جوبائیڈن کو 91 ملین اور موجودہ صدر ٹرمپ کو اس وقت 85 ملین ووٹ ملے تھے چونکہ امریکن ووٹنگ نظام بہت مضبوط ہے جس پر ریاستوں کا مکمل قابو ہے جس میں دھاندلی کرنا ممکن نہیں ہے۔ جو ناہی ماضی ہوئی ہے ناہی آئندہ آثار نظر آرہے ہیں بشرطیکہ امریکی دنیا کا عظیم آئین بچا رہا جس پر حملہ آوری جاری ہے جس کا امریکی عدالتی نظام دفاع کر رہا ہے۔ برعکس پاکستان میں دھاندلی ایک کلچر بن چکی ہے جو ہر دور میں ہوتی چلی آرہی ہے۔ کہ جس میں جنرل ایوب خان نے بنگال اور کراچی کے تمام پی ڈی ممبران کو اغواء کرکے صدر منتخب ہوگئے تھے۔ جنرل ضیا نے غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد کرکے ملک بھر کی سیاسی پارٹیوں کو انتخابات سے دور رکھا جس کی وجہ سے شیداٹلی، جاوید ہاشمی، جیلانی، قریشی نہ جانے کون کون سیاستدان پیدا کئے گئے۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے اپنے اپنے دور آمریت اور بربریت میں عوامی ریفرنڈم کرانے کی کوشش کی جس کا پاکستانی عوام نے نفی میں جواب دیا جس پر دونوں جنرل ضیا اور جنرل مشرف بری طرح رسوا ہوئے۔ علاوہ ازیں آئین شکن جنرلوں نے قاف لیگ اور تحریک انصاف جیسے گروہ پیدا کئے جن کو بزور طاقت اقتدار میں لایا گیا جو بری طرح ناکام ہوئے جس کی مثال 2018 ء کے انتخابات کا انعقاد تھا کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں ووٹرز کے ڈبے اٹھا کر لے گئے جس کے بعد اپنی مرضی سے انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ جس کو2018ء کا دھاندلی کا نام دیاگیا تھا۔ جس کے باوجود متاثرہ ہارنے والی سیاسی پارٹیوں نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کی بجائے سیاسی نظام کو آگے چلنے کی ترجیح دی تھی تاکہ پاکستان میں جہوری نظام کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈھا جائے۔ موجودہ پارلیمنٹ کے خلاف بھی پی ٹی آئی کے رہنمائوں کا الزام ہے کہ 2024 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے جس کو وہ نہیں مان رہی ہے مگر پارٹی کے ممبران اب سنی اتحاد کونسل کے لے پالک پارلیمنٹرین کہلاتے ہیں جن کے وارث قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ عباس ہیں جن کا پی ٹی آئی سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اب لاوارثوں کی پارٹی ہے جن کو اچکزئی اور راجہ عباس جیسے قوم پرست اور فرقہ پرست گود لے چکے ہیں۔ جو انتخابات میں دھاندلیوں کا بھی چرچا رکھے ہوئے ہیں۔ بائیکاٹ بھی کرتے نظر آتے ہیں مگر کروڑوں کی تنخواہیں وصول کرنے سے انکار نہیں کر رہے ہیں حالانکہ انتخابات 2024 میں دھاندلی کے شک وشبہات بالکل جائز ہیں جو ہوئی بھی ہے جس کے صرف اور صرف دو راستے کہلاتے ہیں کہ دھاندلی کی بنا پر پہلے دن ہی پارلیمنٹ سے استعفٰے یا پھر موجودہ نظام کو چلنے دیا جائے تاکہ آج نہیں تو کل مخیر کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوگا چاہے مخیر کا پیٹ کاٹ کر بچہ پیدا کیا جائے۔ بہرحال پاکستان میں دھاندلیوں کا آغاز گورنر جنرلوں، فوجی جنرلوں اور ان کے زیرسایہ پلنے والے سیاستدانوں کے دور سے ہوتی چلی آرہی ہیں جس کا واحد علاج ہے کہ ملک بھر کی سیاسی پارٹیوں کو بلاتفریق مل کر اصلاحات کرنا ہونگی، ایک دوسرے کا بائیکاٹ کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کو روکنا ہوگا جو اپنے من پسند سیاست دان پیدا کر رہی ہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here