قرضوں کے بوجھ تلے معیشت کی آزمائش

0
27

حالیہ دنوں منظرِ عام پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضوں کا مجموعی حجم تقریبا 138ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ مجموعی سرکاری قرضہ 70ہزار ارب روپے سے زیادہ بنتا ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار جی ڈی پی کے تقریباً 70سے 75فیصد کے درمیان ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ سماجی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی بہبود کے منصوبوں کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی سالانہ قومی آمدن کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔ مالی سال 2024-25کے بجٹ میں تقریبا ً9سے 10 ہزار ارب روپے صرف قرضوں کے سود اور اصل زر کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے، جو وفاقی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، پینے کے پانی، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے شعبے مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر، زرعی اصلاحات اور صنعتی توسیع جیسے طویل المدتی منصوبے محض اعلانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔پاکستان کو قرض فراہم کرنے والے بڑے عالمی اداروں میں آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک شامل ہیں۔ ان اداروں کے قرضوں کے ساتھ سخت شرائط بھی منسلک ہوتی ہیں، جن میں سبسڈی میں کمی، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات وقتی طور پر مالی خسارہ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن عوامی سطح پر مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ بھی انہی پالیسیوں کا نتیجہ بنتا ہے۔قرضوں کے استعمال کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ متعدد آڈٹ رپورٹس اور پارلیمانی مباحث میں یہ بات سامنے آئی کہ قرضوں کا قابلِ ذکر حصہ پیداواری سرمایہ کاری کے بجائے انتظامی اخراجات، سرکاری گاڑیوں، دفاتر کی تزئین، غیر ملکی دوروں اور مہنگے مشاورتی معاہدوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ غیر ملکی ماہرین کی خدمات اور تکنیکی معاونت کے نام پر کروڑوں ڈالر بیرونِ ملک منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ بدعنوانی اور کمزور نگرانی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔مزید یہ کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بھی معیشت پر اضافی دباو ڈال رہا ہے، جو ڈھائی ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ قرضہ بجلی کی پیداواری لاگت، ترسیلی نقصانات اور ناقص وصولیوں کے باعث مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کا اثر صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت، جس کی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، نے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے چند اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرکاری اداروں کی نجکاری، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے کہ ٹیکس وصولیوں کو 13 ہزار ارب روپے تک بڑھانے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے مالی دباو کم کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ دوست ممالک سے رول اوور اور ری شیڈولنگ کے ذریعے فوری ادائیگیوں کا بوجھ بھی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سٹیٹ بینک مالیاتی استحکام کے لیے شرح سود، زرِ مبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ تاہم بلند شرح سود نجی سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی معیشت قرض سے مکمل آزاد نہیں، مگر کامیاب ممالک قرض کو پیداواری سرمایہ کاری میں استعمال کر کے اپنی ادائیگی کی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ قابلِ عمل ہے۔سب سے پہلے، قرض صرف ان شعبوں کے لیے لیا جانا چاہیے جو براہِ راست معاشی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کریں۔ توانائی کے متبادل ذرائع، زرعی ویلیو ایڈیشن، آئی ٹی برآمدات، معدنی وسائل اور صنعتی زونز ایسے شعبے ہیں جہاں سرمایہ کاری سے زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آئی ٹی برآمدات کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10ارب ڈالر تک لے جایا جائے تو قرضوں کی ادائیگی نسبتاًآسان ہو سکتی ہے۔ دوسرا اہم پہلو مالی نظم و ضبط اور اخراجات میں کفایت شعاری ہے۔ ڈیجیٹل گورننس اور ای آڈٹ کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی موثر بنائی جا سکتی ہے۔تیسرا، برآمدات میں پائیدار اضافہ ناگزیر ہے۔ پاکستان کی برآمدات طویل عرصے سے 25تا 30ارب ڈالرکے درمیان جمود کا شکار ہیں، جبکہ درآمدات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ برآمدی تنوع، نئی منڈیوں تک رسائی اور صنعتی جدت اس فرق کو کم کر سکتی ہے۔ اسی طرح بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو سالانہ 30 ارب ڈالر کے قریب ہیں، کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے خصوصی بانڈز اور مراعاتی سکیمیں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔چوتھا، آبادی کو انسانی سرمایہ میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ تعلیم، فنی تربیت اور صحت پر سرمایہ کاری طویل المدتی معاشی خودمختاری کی بنیاد بنتی ہے۔ قرض خود مسئلہ نہیں بلکہ اس کا غیر دانشمندانہ استعمال اصل بحران ہے۔ اگر قرض ترقیاتی منصوبوں، برآمدی صنعت اور انسانی وسائل کی بہتری پر خرچ ہو تو یہی قرض معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ انتظامی فضول خرچی اور بدعنوانی کی نذر ہوتا رہے تو قرضوں کا بوجھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہے گا۔پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ پائیدار مالیاتی اصلاحات، شفاف حکمرانی اور پیداواری سرمایہ کاری کے بغیر قرضوں کے چکر سے نکلنا ممکن نہیں۔ بصورتِ دیگر معیشت مسلسل دباو کا شکار رہے گی اور عوامی بہبود کے خواب ادھورے رہیں گے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here