امریکا، مولویوں کی جنت، اسلام پھیل رہا ہے! !!

0
28
کامل احمر

امرجلیل، سندھ کا ایک لکھاری اور کالم نگار ہے جو سندھی اور اردو میں چونکا دینے والے کالم لکھتا ہے اور کھلے دل سے جرات کے ساتھ ملائوں، دوکانداروں رشوت خوروں کی چھترول کرتا ہے حال ہی میں رمضان شریف کے چاند کے تنازعے پر وہ کھل کر بولے۔ پاکستان کو ملائوں کے سپرد کردیا ہے چاند دیکھنے کے لئے ملائوں کو دوربین دے کر حبیب بنک، پلازہ کی بلڈنگ کے اوپر بٹھا دیا جاتا ہے اور وہ وہاں بیٹھ کر خوب کھاتے پیتے ہیں وقت وقت سے کہتے رہتے ہیں ابھی چاند نظر نہیں آیا کیا پاکستان میں دوسرے پڑھے لکھے ادارے نہیں کراچی میں ہی SPARKU ہے اور راولپنڈی میں ”کہوٹا” ہے ان دو اداروں سے جو سائنس کے ہیں کیوں مدد نہیں لی جاتی کیا وہ چاند کی بابت درست معلومات نہیں دے سکتے جب کہ سائنس زندگی کے ہر شعبہ میں کام کر رہی ہے کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ سائنس زندگی کے ہر شعبہ میں کام کر رہی ہے کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستانی ملائوں کو سنتے ہیں سائنسدانوں کو نہیں۔
لگتا تو ایسا ہی ہے یہاں نیویارک ہیوسٹن، کیلیفورنیا، ورجینیا، نیوجرسی اور کئی جگہوں پر دو قسم کے ملائوں نے فیصلہ کیا ایک وہ جو چاند دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جو سعودی عرب کے ساتھ چلتے ہیں کہ ان مساجد پر سعودیہ کا ہاتھ ہے مالی اعانت میں ہمارا اور کئی دوسرے ہم عمر لوگوں کا کہنا ہے یہ نہیں سدھریںگے اور ہمیں کیا عید یا رمضان کسی دن بھر کرو۔ عید کسی دن منائو ہم شریک ہیں کہ ہم لڑکپن سے اس تنازعہ کو دیکھتے آئے ہیں بس ایوب خان نے اس کا حل یہ نکالا کہ کمیٹی بنا دی اور اس کا فیصلہ اٹل رہا۔ ویسے بھی مولوی حضرات اپنی اہمیت اور موجودگی کو طرح طرح سے ثابت کرتے رہتے ہیں یہاں کالے پیلے دونوں ملائوں کی طرف اشارہ ہے مسلمان میئر ممدانی کے آنے کے بعد انہیں آزادی مل گئی اور مین ہٹن کے بیچ ٹاغزاسکوائر (برائووے اور 42 سے47 اسٹریٹ) کو بند کروا دیا نا صرف یہ بلکہ ممدانی کو کوئی 50 پولیس آفیسروں کو بھی حفاظت کے لئے تعینات کرنا پڑا، کہ وہ روزہ افطار اور تراوی پڑھ سکیں۔
سوچیئے ایسا کرنے سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا اور عوام کو کیا نقصان پہنچا۔ پہلے فائدے کی بات کرلیں کہ ایسا کرنے سے کیا اسلام پھیل رہا ہے اور پھیل رہا ہے تو ایسے اسلام کا فائدہ جو غزہ میں جاکر صدر ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ دوسرے 43 مسلمان ممالک شامل ہے جو وہاں اپنی مدد بھیج کر فلسطینیوں کی قبروں پر عالیشان عمارتیں بنوائینگے، حماس سے ہتھیار چھین کر اسرائیل اور مضبوط کرینگے۔ پاکستان کے ڈفر جنرل عاصم منیر اور عوام پر بٹھائے چور ڈاکو اپنے بچائو کے لئے کرپشن سے وہ کچھ کرینگے کہ عمران خان کی آنکھ جائے یا مرے۔ اُن کی کامیابی ہے اور اب تو عوام بھی عاصم منیر کے خوف سے ”جے ہو” کا نعرہ لگاتی دکھتی ہے کہ وہ پھر سے رات کے اندھیرے میں انکی ماں بہنوں اور بچوں کو اٹھانہ لے جائے۔ ٹرمپ کی نظر میں عاصم منیر گریٹ، فیلڈ مارشل ہے اور شہباز شریف بہترین انسان اور عوام؟
کل مہم ایک ایسے ہی بزدل اور مفاد پرست انسان شہزاد نواز کا انٹرویو سن رہے تھے جو میڈیا پر تھا اور لینے والے احمد علی بٹ تھے۔ شہزاد نواز کا تعلق کراچی سے ہے وہ ایکٹر، ڈائریکٹر، گرافک ڈیزائنر ایڈورٹائزر بھی تھے اور ہیں۔ احمد علی بٹ کے ایک سوال کے جواب میں کہنے لگے سوال تھا ”پاکستان آرمی کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ جواب تھا” ایک اچھی قوم کی ”اس انسان کو یہ کہنے میں ذرا بھی شرم نہ آئی۔ اس کے لئے ہم عدنان سمیع کا گانا رکھ دیتے ہیں کیسوں کیسوں کو دیا ہے ایسے ویسوں کو دیا ہے مجھ کو بھی تو لفٹ کرا دے پاکستان میں اب کوئی دانشور نہیں دیا۔ اسکے لئے بھی عاصم منیر کو کھڑے ہو کر لعنت بھیجتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے ہم اور قبضہ ان جیسے جنرلوں کا۔
آئیں دوبارہ ٹائمز اسکوائر مین ہٹن میں دیکھیں کیا ہورہا ہے عورتیں مرد بچے اور افطاری کر رہے ہیں پھر نماز اور تراویح شروع ہوتی ہے کیا ان لوگوں کے گھر اور مساجد نہیں۔ اور فخر کرتے ہیں انشاء اللہ اسلام امریکہ کے کونے کونے میں پہنچے گا۔ یہ سب کے سب حکومت کی دی گئی مالی امداد سے مزے کر رہے ہیں اور نفرتوں کے بیچ بو چکے ہیں ہم یہ بات کسی ڈر سے نہیں لکھ رہے کہ 53 سال میں ہم نیویارک اور ٹیکساس کو بدلتے دیکھا ہے۔ پھرلکھتے چلیں ان کے آنے سے ہر کھانے پینے کی چیز مہنگی ہوئی ہے گوشت سے لے کر مصالحے تک ،ریستوراں بڑی تعداد میں کھل رہے ہیں، الحمد للہ کہتے ہیں اور منافع خوری کرتے ہیں اور ٹائمز اسکوائر میں جو لوگ ہیں وہ کونے کونے پر اپنی ریڑھی لگائے چکن یا لیمب چاول 12 ڈالر کا بیچتے ہیں ایک پانی کی بوتل 2 ڈالر کی ہے۔ بتاتے چلیں ان میں سے کوئی چیز، چکن یا لیمب یا چاول 10فیصدی مہنگے ہوئے ہیں کرایہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ اور ٹیکسی تو بھول جایئے دیتے ہی نہیں۔ کیا یہ منافع خوری حلال ہے اور یہ خوش ہیں اسلام پھیل رہا ہے ہم نے پاکستانیوں کو سوشل میڈیا پر نیویارک سے ٹیکساس تک کھانا پینا کرتے دیکھا ہے، موجاں ہی موجاں اور یہ سب تھرڈ ورلڈ کنسٹری کے ہیں انہیں دیکھ کر امریکہ امریکہ نہیں لگتا اگر یہ مساجد میں بھی نماز پڑھنے جاتے ہیں یا تراویح جمعہ کے دن دیکھنے کا سماں ہوتا ہے ۔جلدی میں نہ کاریں صحیح بارک کرتے ہیں اور ڈبل پارکنگ، یا گیٹ کے سامنے کار میں کسی کو بٹھا کر مسجد میں جا بیٹھتے ہیں امام صاحبان ہدایت دیتے دیتے تھک چکے ہیں مگر یہ آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور پولیس کے نہ ہونے کا بھی اگر ٹکٹ ملے تو گالیاں دیتے ہیں۔
کیا یہاں کا امریکن شہری یہ دیکھ کر خوش ہوگا نہیں وہ اندر ہی اندر نفرت کرے گا اور وقت کا انتظار جب یہ سب یہاں سے نکالے جائینگے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہر شعبہ میں تھرڈ ورلڈ کنٹری کے مسلمان ریاست کے بنائے اور قانون کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ پکڑے جاتے ہیں ڈاکٹر ہو کر لے بے ایمانیاں کرتے ہیں اربوں روپے کی چوریاں اور غلط بلنگ کرتے ہیں۔ کیا یہ سب اسلام نے سکھایا ہے تو کس منہ سے کہتے ہو کہ امریکہ میں اسلام پھیل رہا ہے پہلے اپنے رویئےّ اور لین دین میں ایمانداری لائو۔ مساجد کھولنا ایک بڑا کاروبار ہے مسجد میں ایک امام اور ایک موذّن کو گرین کارڈ پر بلا سکتے ہیں یہ مساجد جمعہ کو بارونق رہتی ہیں بس یہ اسلام ہے باقی چیزوں کے لئے اُن کے اپنے رویئےّ انکی اپنی چور بازاری، پڑوسی کے ساتھ کیسے برتائو کیا جائے انہوں نے نہیں سیکھا۔ تو کیا اسلام میں جو ہے وہ سیکھ کر عمل کرتے ہیں؟….۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here