اسلام آباد (پاکستان نیوز)پاکستان اور چین کے مابین دیرینہ اور آزمودہ دوستانہ تعلقات کو مزید پائیدار بنانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے حالیہ چار روزہ سرکاری دورے کے دوران بیجنگ اور ہانگڑو میں مصروف ترین وقت گزارا جہاں انہوں نے چینی قیادت اور ممتاز کاروباری شخصیات سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس دورے کا بنیادی محور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کو قرضوں اور امداد کے روایتی ڈھانچے سے نکال کر خالصتاً سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنا تھا۔ وزیر اعظم نے ہانگڑو میں منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اب چینی کمپنیوں کو اپنے ہاں کام کرنے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گا تاکہ پاکستان کی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین ایک اعشاریہ بائیس ارب ڈالر مالیت کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے جن کے تحت پاکستان میں برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کی تیاری، جدید زرعی تحقیق اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دورے کی سب سے اہم پیش رفت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہے جس میں اب بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، ماحول دوست توانائی اور سائنس و ٹیکنالوجی کو اولیت دی جائے گی۔ بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال بالخصوص مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ چینی قیادت نے کشمیر کے دیرینہ تنازعے پر پاکستان کے اصولی موقف کی ایک بار پھر تائید کی اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ اس کے علاوہ پنجاب اور چین کے صوبے ڑجیانگ کے مابین جڑواں صوبوں کا معاہدہ بھی طے پایا جس سے مقامی سطح پر تجارتی اور تعلیمی روابط کو فروغ ملے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے خصوصی اقتصادی زونز کو فوری طور پر فعال کرنا ہو گا تاکہ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔










