مکہ معاہدہ: نئے اسلامی دفاعی ماڈل کی ابتدائ!!!

0
6
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پائیدار امن کی عالمی تلاش میں خطے کے سیکیورٹی خدشات، طاقت کے نئے توازن اور ابھرتے ہوئے عسکری و سیاسی اتحاد ہمیشہ سے صحافتی اور تجزیاتی بحث کا اہم ترین موضوع رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کا موجودہ وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا بین الاقوامی سیاسی و عسکری نظم و ضبط انتہائی تیز رفتاری سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ عالمی سپر پاورز کا ہر معرکے میں براہ راست کود پڑنا اور ہر معاملے کی اکیلے ضمانت دینا اب ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔ دنیا اب ایک نئی حلمت عملی اور دفاعی حکمت سے روشنی حاصل کر رہی ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے حلیفوں کو علاقائی سطح پر خود مختار اور مضبوط بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ اسی تبدیل ہوتے منظر نامے میں حال ہی میں سامنے آنے والا معاہدہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوب ایشیائی اور بین الاقوامی سیاست میں ایک لرزہ خیز اور ڈرامائی تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ محض تین الگ الگ ریاستوں کا کاغذی معاہدہ نہیں ہے بلکہ ایک نیا علاقائی محور ہے جو آنے والے کل میں طاقت کی مساوات کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔
اس تزویراتی پیش رفت کے سیاسی، معاشی اور فوجی ابعاد انتہائی گہرے اور پیچیدہ ہیں۔ جب ہم اس دفاعی شراکت داری میں شامل تینوں طاقتوں کے انفرادی اور اجتماع? وجود پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا محض کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ ایک طرف شمال مغربی خطے سے تعلق رکھنے والی وہ مسلم ریاست ہے جو اپنی جدید ترین روایتی عسکری طاقت اور اعلیٰ تکنیکی صلاحیتوں کی بنا پر عالمی سطح پر جانی جاتی ہے اور بین الاقوامی دفاعی اتحاد کا باقاعدہ حصہ بھی ہے۔ دوسری طرف جنوب ایشیا کی وہ واحد طاقت ہے جو اسلامی دنیا کی واحد جوہری قوت اور انتہائی تجربہ کار مسلح افواج کی مالک ہے۔ ان دونوں کے ساتھ مل کر توازن قائم کرنے والی تیسری ریاست مالیاتی اعتبار سے بے حد مستحکم، توانائی کے وسیع وسائل سے مالا مال اور عرب دنیا میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھنے والی مملکت ہے۔ ان تینوں ریاستوں کے فوائد اور صلاحیتوں کو جب ایک جگہ یکجا کیا جاتا ہے تو ایک ناقابل تسخیر علاقائی حصار کی بنیاد پڑتی ہے۔
عام طور پر اس قسم کے معاہدو ں کو کسی خاص ملک یا نظریاتی گروہ کے خلاف کارروائی تصور کیا جاتا ہے، تاہم حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور باریک بین تجزیے کی طلبگار ہے۔ اگرچہ بنیادی کوشش یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بندوبست کسی انفرادی ریاست کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں بنایا گیا، لیکن خطے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورت حال اور بالخصوص بحیرہ احمر، خلیج کے پانیوں اور ہمسایہ علاقوں میں جاری معرکہ آرائی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اپنے دفاع کے لیے اجتماعی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس معاہدے کی سب سے زیادہ طاقتور اور اہم ترین شق یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام شراکتی ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول ایک زبردست دفاعی رکاوٹ اور دھاک بٹھانے کا سبب بنتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ایک ایسا دو دھاری چاقو بھی ہے جو کسی ایک خطے کے بحران کو باقی تمام شراکت داروں کے دروازے تک لا سکتا ہے۔
اس پورے تناظر میں جب ہم دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب عالمی محافظ کا روایتی لباس اتار کر ایک مرکزی رابطہ کار کا روپ دھار رہی ہے۔ طویل اور بے مقصد جنگوں کے اخراجات، اپنے عوام میں بڑھتی ہوئی بیزاری اور دیگر بڑے حریفوں کے ساتھ درپیش چیلنجز نے اس سپر پاور کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے حلیفوں پر دفاعی اخراجات کا بوجھ منتقل کرے۔ اب وہ براہ راست میدان جنگ میں اترنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، جاسوسی کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ چنانچہ اس معاہدے کو عالمی نظام سے فرار کے بجائے ایک نئے نیٹ ورک کے تحت بدلتی ہوئی سیکیورٹی ضروریات کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم اس معاہدے کا ایک دوسرا رخ بھی انتہائی قابل غور ہے اور وہ ہے اس کا جغرافیائی دائرہ کار۔ ابتدائی بات چیت کے دوران چار اہم ممالک گفتگو کا حصہ تھے لیکن حتمی مرحلے میں ایک انتہائی اہم افریقی عرب ملک اس سے باہر ہو گیا۔ اس فیصلے کے پیچھے گہرے سیاسی، تاریخی اور جغرافیائی اسباب کارفرما ہیں۔ اس طاقتور ملک کی عدم شمولیت نے معاہدے کے جغرافیائی پھیلاؤ کو محدود رکھا اور اسے مشرقی بحیرہ روم کے سلگتے ہوئے مسائل اور دیگر براہ راست تنازعات سے فی الوقت دور رکھا ہے۔ اگر وہ ملک بھی اس دفاعی دھاگے میں پرویا جاتا تو اس معاہدے کا مرکز صرف انقرہ سے ریاض اور اسلام آباد تک محدود نہ رہتا بلکہ غصہ، فلسطین اور سوئز کی نہر کے تمام پیچیدہ مسائل اس میں براہ راست شامل ہو جاتے، جس سے اس نوخیز اتحاد پر شروعات ہی میں بے پناہ دباؤ آ جاتا۔
دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین کے لیے یہ سوال انتہائی بنیادی ہے کہ کیا یہ تین رکنی ڈھانچہ اپنی موجودہ حالت میں برقرار رہے گا یا پھر وقت کے ساتھ اس میں دیگر علاقائی ریاستوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ شام، عراق اور حتیٰ کہ دیگر عرب ممالک کی موجودہ سیاسی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی کا یہ جال مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پرانے اور وزنی بین الاقوامی دفاعی بلاکس کے دن گزر چکے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لچکدار، دو طرفہ اور سہ طرفہ نیٹ ورکس جنم لے رہے ہیں جو ضرورت کے تحت قائم ہوتے ہیں اور ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ پیش رفت کسی ایک یکطرفہ راستے کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ ایک غیر یقینی لیکن انتہائی متحرک مستقبل کا پتہ دیتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ کاغذوں پر کیے گئے دستخطوں سے زیادہ اہم وہ عمل ہوتا ہے جو کسی بحران کے وقت میدان میں نظر آتا ہے۔ آنے والا وقت، خطے کی غیر مستحکم صورت حال اور عالمی طاقتوں کا ردعمل ہی یہ طے کرے گا کہ یہ مکہ کا تاریخی دفاعی سمجھوتہ واقعی اسلامی دنیا کا ایک پائیدار اور ناقابل تسخیر سیکیورٹی حصار بن پاتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کے بے رحم طوفانوں میں محض ایک تزویراتی تجربہ بن کر رہ جاتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here