ہم نے سوچا تھا کہ اگلا کالم ایران امریکہ جھگڑے اور پاکستان کی کامیاب سفارتکاری و ثالثی کے ایشو سے گریز کرتے ہوئے وطن عزیز کے امن و عافیت اور عوام کے ایشوز پر اظہار کرینگے۔ اپنے گزشتہ کالم کا اختتام ہم نے یوں کیا تھا کہ اکناف میں ثالثی، اعانت، صلح و عافیت بہت اچھی بات ہے لیکن اپنے وطن کی عافیت، سالمیت اور امن و امان، خوشحالی فرض عین ہے۔ ہمارا مطمع نظر یہی رہا ہے کہ وطن عزیز کی اولیت و سبقت محض نعروں یا بیرونی طاقتوں کی کاسہ لیسی سے نہیں وطن و عوام سے وفاداری میں ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مفادات و سبقت کی دوڑ میں عام فرد سے سیاسی اشرافیہ و مقتدرہ تک سب ہی بٹے ہوئے ہیں اور بیرونی و اندرونی مخالفین اس تفریق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اس سچائی سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ ہمارا وطن دین اسلام کے نظرئیے پر وجود میں آنے والی دنیا کی دوسری ریاست ہے علامہ اقبال کے نظرئیے اور قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانان برصغیر کی جدوجہد کے نتیجے میں قائم مملکت ایک گلدستے کی مانند ہے جس میں لسان، رسوم، اقدار و ثقافت کی رنگ برنگی صفات و خوشبو کے باوجود ایک وحدانیت اللہ اکبر کی ہے، بقول شاعر ”اسیں سندھی، پنجابی، بلوچ، پٹھان تے نسل محمود غزنوی و غوریاں دے” لیکن اس تخصیص سے بالا تر ہم ایک قوم ہیں اور سبز پرچم تلے متحد ہیں، سبز ہلالی پرچم میں سفیدرنگ گو اقلیتوں کی نشاندہی ہے لیکن وطن کی محبت اور سانجھے رسوم و رواج اور ثقافتی یکجائی ایک قوم کی تصدیق ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ ہمارا لوک ورثہ مشترک ہے جو ہماری نسل در نسل ہمارا مشترکہ اثاثہ بھی ہے آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک نظرئیے اور لوک وراثت کے باوجود ہمیں تقسیم و تفریق سے دوچار رکھتے ہیں اور ہمارے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو پاکستان دشمن ایجنڈے پر عمل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ سطور میں عرض کیا ہے کہ مفادات و سبقت کی دوڑ میں عام فرد سے سیاسی اشرافیہ و مقتدرہ تک سب ہی بٹے ہوئے ہیں وطن عزیز کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہر دور اسی صورتحال کا آئینہ دار نظر آتا ہے اور اس کا ایڈوانٹیج ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھانے میں پیش پیش رہتاہے۔ بھارتی منصوبوں میں اسرائیل و افغان طالبان اور ان کی پراکسیز بشمول علیحدگی کے ناپاک ارادوں کے حامل قوم پرستوں کی شمولیت سونے پر سہاگہ ہے۔
اس کے باوجود کہ گزشتہ برس مئی میں بدترین شکست اور دنیا بھر میں ذلت و رسوائی کے باوجود بھارت اپنی کمینہ فطرت اور دشمنی سے باز نہیں آیا ہے اور اپنی پراکسیز کے توسط سے شیطانیت پر اُترا ہوا ہے۔ کے پی ہو یا بلوچستان حتیٰ کہ آزاد کشمیر میں بھی فتنہ الہند، فتنہ الخوارج اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے توسط سے پاکستان دشمنی کا طویل سلسلہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہا ہے، نتیجتاً نہ صرف ہمیں اپنے بیٹوں کی شہادتوں اور مضروبیات کا سامنا ہے بلکہ امن و امان کے ایشوز کیساتھ سیاسی اشرافیہ کے اختلافات کی خلیج کیساتھ دہشتگردی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پاکستان کے معاشی قلب اور تین کروڑ شہریوں پر مشتمل کراچی میں جماعت الاحرار کا رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملہ دشمنی کی تازہ ترین مثال ہے، ہمارے عساکر نے اگرچہ جواباً افغانستان اور پراکسیز کو بمعہ طالبان کمانڈرز اور ٹھکانوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے لیکن کیا یہی مسئلے کا حل ہے اور کیا محض ہماری افواج کی ہی یہ واحد ذمہ داری ہے کہ دشمنوں، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں یا پھر سیاسی اشرافیہ اور دیگر طبقات کو بھی تحفظ وطن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان کی صورتحال اس وقت منیر نیازی کے شعر ”اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو، میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا” کی آئینہ دار ہے، سیاسی، معاشی، معاشرتی و مفاداتی اختلافات و ناچاقیوں کی بدولت وطن عزیز عالمی اہمیت کے باوجود بحرانی کیفیات کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہمارا نظریہ ایک ہے، ہمارا تشخص ایک اور ورثہ ایک ہے تو محض مفادات کے حصول اور ذاتیات کے تناظر میں تفریق و تضادات آخر کس لئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی، ریاستی، گروہی و ذاتی اختلافات و مفاداتی روئیوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک قوم کا کردار یقینی اپنایا جائے کہ یہ وطن بھی اپنا ہے، سیاستدان بھی اپنے ہیں، افواج بھی اپنی ہیں اور عوام بھی اپنے اتحاد و اتفاق ہی وطن کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
٭٭٭٭٭٭















