حضرت حسین علیہ السلام کی یاد اور سیرت!!!
محرم میں حضرت حسین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ان کی شہادت اور بہادری مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ مسلمان پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں مگر ہر دل میں درد ہے اور واقعہ کربلا کو یاد کر کے غم محسوس کیا جاتا ہے۔ ہر شخص حضرت امام حسین کے بارے میں دعا گو رہتا ہے کہ اللہ ان کی نسلوں کو سلامت رکھے اور ان کی قربانیوں کو ضائع نہ ہونے دے۔ شعراء نے حضرت حسین کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کے والد نے بھی ان کی تعریف میں فارسی زبان میں اشعار کہے ہیں جن میں سے ایک درج ذیل ہے۔
ہادی او فاطمہ، پدر او حضرت علی
جداد حضرت رسول، برادر حضرت حسین
جن کے آبا و اجداد اتنی بلند شخصیات ہوں، اللہ تعالیٰ ان کے اندر بہادری اور شہادت کا شوق کیوں نہ ڈالے گا، مگر اولاد کی اچھی تربیت میں ماں اور باپ کے کردار کا بنیادی عمل دخل ہوتا ہے۔ صرف آبا و اجداد کے نام پر انحصار نہیں ہوتا، اس سلسلے میں ایک نظم بیان کی گئی ہے جس سے حضرت فاطمہ اور حضرت علی کی پرہیز گاری اور صاحب اولاد ہونے کے باوجود ان کے تقویٰ کا اندازہ ہوتا ہے۔
راوی بیان کرتا ہے یوں حال فاطمہ
اب غور سے سنو ذرا احوال فاطمہ
یہ داستان نیاری ہے بنت رسول کی
دلچسپ یہ کہانی ہے بنت رسول کی
یہ حد یہ پیاری بیٹی ہے اپنے رسول کی
محشر میں بخشوائے گی امت رسول کی
حضرت فاطمہ کا نکاح جب حضرت علی سے ہوا تو انہیں نبوت کے گھر سے تربیت ملی۔ وہ ہر مصیبت کو خوشی سے سہہ لیتی تھیں اور زیورات یا آرائش کی بجائے سادگی کو ترجیح دیتی تھیں۔ وہ شوہر کی اطاعت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتی تھیں۔ ایک بار فرشتوں نے ان کے صبر و استقامت پر تعجب کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کے گھر کے کرشمے کا مشاہدہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی اور حضرت فاطمہ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور افطار کے وقت سائل نے صدا لگائی۔ انہوں نے اپنی ضرورت کے باوجود کھانا سائل کو دے دیا اور فاقہ کشی کے عالم میں رہے۔ ایسا ہی معاملہ دوسرے اور تیسرے دن بھی پیش آیا۔
سائل کی صدا پر فقیر نے بھوک کا ذکر کیا تو حضرت فاطمہ نے اس کی مدد کی اور غیب سے کھانا پہنچا جو کہ ایک امتحان تھا۔ ایسی صفات رکھنے والے انسانوں کے گھر میں اولاد کی تربیت بھی انہی بنیادوں پر ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ دنیاوی الجھنوں میں لوگ قربانیوں کو فراموش کر دیتے ہیں لیکن حضرت حسین ان برگزیدہ ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ وہ رہتی دنیا تک کے لیے مثال ہیں اور اللہ ان پر اور ان کے اہل و عیال پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی طرح دوسروں کو دل کھول کر دینے کی توفیق عطا فرمائے۔












