محترم قارئین کرام آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ دنیا میں طب ایک ایسا پیشہ ہے جو ہمیشہ انسان کی ضرورت رہا ہے۔ آج کل اکثریت ایسے اطبا کی ہے جو دنیا دار ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو حلال کی کمائی پر یقین رکھتے ہیں۔ آج ایک فرض شناس ڈاکٹر صاحب کا قصہ بیان کرتے ہیں جو آپ بیتی سنانے والے نے سنائی اور انٹرنیٹ پر بھی وائرل ہوئی۔
کچھ لوگ دنیا میں صرف انسان نہیں بلکہ مسیحا بن کر آتے ہیں۔ آج سے ٹھیک 2 سال پہلے 2024 کی ہی ایک صبح تھی، جو بقرہ عید اور محرم الحرام کے درمیانی ایام تھے۔ وہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔ صبح اٹھا تو والدہ کی طبیعت کچھ خراب محسوس ہوئی۔ انہیں صبح سویرے موشن کی شکایت ہوئی۔ ہم نے سوچا کہ بقرہ عید کا سیزن ہے، گوشت کھانے کی وجہ سے پیٹ کی صفائی ہو رہی ہوگی، لیکن اگلے ہی دن یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ ایک ہفتے تک یہ صورتحال جاری رہی تو ہماری تشویش بڑھنے لگی۔ گھر کے قریب ایک کلینک پر ڈاکٹر کو دکھایا جنہوں نے ڈھیر ساری ادویات لکھ کر دیں اور کہا کہ اگر فرق نہ آئے تو دو دن بعد دوبارہ آئیں۔ ادویات کے استعمال کے باوجود کوئی بہتری نہ آئی۔ دو دن بعد دوبارہ گئے تو ڈاکٹر نے ادویات تبدیل کر کے مزید دوائی دے دی، لیکن پھر بھی کوئی بہتری نہ آئی اور ایک ہفتہ مزید اسی تکلیف میں گزر گیا۔ گھر کا ایک فرد بیمار ہو تو پورا گھرانہ ہی پریشان ہو جاتا ہے۔
ایک دوست جو میڈیکل اسٹور پر کام کرتا تھا، اس سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ ڈاکٹر سے ٹیسٹ کروانے کا کہیں، لیکن جب ہم نے ڈاکٹر سے ٹیسٹ کا پوچھا تو انہوں نے بجائے ٹیسٹ لکھنے کے مزید ادویات دے دیں۔ ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز مسیحا کم اور نوٹ چھاپنے کی مشین زیادہ نظر آتے ہیں۔ خیر، میں نے ڈاکٹر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ والدہ کی کمزوری بڑھتی جا رہی تھی۔ اگلے دن فیس بک پر ایک ڈاکٹر کا اشتہار نظروں سے گزرا جو کراچی میں شہید ملت روڈ، چغتائی لیب اور کلفٹن جیسی بڑی جگہوں پر بیٹھتے تھے اور ان کی فیس بھی دو ہزار روپے تھی۔ ہم نے پیسوں کی پرواہ نہ کی اور اگلے دن والدہ کو چیک اپ کے لیے لے گئے۔ ڈاکٹر نے دو ہزار روپے فیس لی اور پانچ ہزار روپے کے ٹیسٹ لکھ کر کہا کہ اگلے ہفتے رپورٹ لے کر آنا۔ میں نے سوال کیا کہ سر ہم ایک ہفتے تک کیا کریں گے اور موشن پر کیسے قابو پائیں گے، جس پر انہوں نے مزید ڈھیر ساری ادویات دے دیں۔ گھر آ کر جب والدہ نے وہ ادویات لیں تو حالت مزید بگڑ گئی اور انہیں دن میں نو بار واش روم جانا پڑا۔ والدہ بستر پر آ گئی تھیں اور میں اپنے حواس کھو چکا تھا کہ کیا کروں۔
اچانک والد کے ایک دوست کا خیال آیا، انہیں پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی والدہ کی حالت کافی خراب ہے، آپ فوراً ایک کلینک پر چلے جائیں جہاں کے ڈاکٹر ایم بی بی ایس بھی ہیں، حکیم بھی ہیں اور ہومیوپیتھک بھی جانتے ہیں اور تینوں طریقوں سے علاج کرتے ہیں۔ پہلے تو کچھ ہچکچاہٹ ہوئی لیکن آخری آپشن سمجھ کر میں والدہ کو لے کر وہاں پہنچ گیا۔ کلینک پر بہت رش تھا۔ جب ہماری باری آئی تو ڈاکٹر صاحب کو پچھلی رپورٹس دکھائیں، انہوں نے رپورٹس پڑھے بغیر والدہ کے ناخن اور زبان دیکھی اور مرض کی تشخیص کر لی۔ انہوں نے اپنے تیار کردہ ہومیوپیتھک قطرے، ایک جڑی بوٹی سے تیار کردہ جیلی اور کچھ عام سی ادویات دیں۔ چار دن کی دوا کی فیس صرف چھ سو روپے تھی، وہ بھی محض اپنی ادویات کی، جبکہ مشورہ اور معائنہ بالکل مفت تھا۔
خیر قصہ مختصر، چار دن کی دوا سے فرق پڑا اور دل کو سکون ملا۔ مسلسل چھ ماہ کے علاج کے بعد والدہ مکمل صحت یاب ہو گئیں۔ جب وہ ٹھیک ہوئیں تو پرانی رپورٹس کا خیال آیا اور ہم نے کسی میڈیکل اسٹور والے سے ان کی تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ والدہ کی آنتیں بالکل گل چکی تھیں اور جس حالت میں ہم انہیں لے کر گئے تھے، اگر کسی اور ڈاکٹر کے پاس جاتے تو انہیں داخل کر لیا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب کی تشخیص کو سلام ہے جنہوں نے بغیر داخل کیے اور بغیر ڈرپ لگائے درست علاج سے انہیں ٹھیک کیا۔ تب سے وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ موشن، چکن گونیا، یہاں تک کہ جسم میں نکلی وہ گلٹیاں جنہیں دوسرے ڈاکٹرز آپریشن کا کہہ دیتے ہیں، ان کا بھی ہم نے علاج کروایا۔ میں نے ایسے مریضوں کو بھی شفا پاتے دیکھا ہے جنہیں دوسرے ڈاکٹرز نے ڈائلیسس کا مشورہ دیا تھا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اگر آپ کو صرف میڈیکل اسٹور کی دوا کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر صاحب وہی لکھ کر دیتے ہیں اور اپنی دوا نہ دینے کی وجہ سے فیس بھی نہیں لیتے۔ آج ڈاکٹر صاحب ماشاء اللہ 81 سال کے ہو چکے ہیں، مگر ان کی فٹنس آج بھی برقرار ہے اور وہ اسی خلوص کے ساتھ مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان جیسے مسیحا پاکستان اور قوم کا فخر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا نام مخفی رکھا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگ تشہیر نہیں چاہتے۔ میری دعا ہے کہ جب بھی کسی مریض کو علاج کی ضرورت پڑے تو اسے کوئی ایسا ہی مسیحا ملے اور وہ اللہ کے کرم سے شفایاب ہو۔ آمین۔













