فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
3

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول علی کے دل کے چین امام عالی مقام امام حسین علیھم الصّلواة والسّلام کے اخلاق وعادات کے بارے میں ابن عسا کر جلد نمبر٤ ص233یہ ہے کہ ایک بار ایک شخص کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تو اسے شناخت کے طور پر بتایا کہ جب تم مدینہ منورہ میں پہنچ کر مسجد نبوی میں داخل ہوگے تو وہاں تمہیں لوگوں کا حلقہ نظر آئے گا۔ اس حلقے میں لوگ باادب طریقے سے بیٹھے ہوں گے تو سمجھ لینا کہ یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا حلقہ ہے معلوم ہوا کہ آپ کی اخلاقی خصوصیات اتنی بلند تھیں کہ لوگوں میں آپ بہت مقبول تھے۔ اور لوگ آپ کا ادب واحترام کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کنیز نے پھولوں کا گلدستہ لا کر پیش کیا۔ گلدستہ ہاتھ میں لے کر حضرت رضی اللہ عنہ نے سونگھا اور کنیز سے ارشاد فرمایا، جائو، تم اللہ کی راہ میں میری طرف سے آزاد ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا! آپ نے ایک گلدستہ پر ہی اتنی اچھی خوبرو کنیز کو آزاد کردیا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: جب تمہیں اچھا تحفہ پیش کیا جائے تو تم اس جیسا یا اس سے بہتر تحفہ دیا کرو( پارہ نمبر٥سورہ نسآئ)
پس اس لئے سب سے اچھا تحفہ یہی ہوسکتا تھا کہ میں اسے اللہ کیلئے آزاد کردوں۔ حضرت امام علی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ میں عاجزی وانکساری انتہا درجے کی تھی۔ تکبر سے سخت نفرت تھی۔ آپ کو کسی کام کے کرنے میں یا کسی طبقہ کے لوگوں میں بیٹھنے سے کبھی کسی قسم کی کوئی عار نہ تھی۔ ایک مرتبہ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں چند غریب لوگ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو جو دیکھا تو دوڑتے ہوئے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا حضور آئیے اور کھانا تناول فرمائیے۔ آپ اسی وقت ان غرباء کے حلقہ میں جاکر بیٹھے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ فرمایا مجھے کھانے کی حاجت تو نہیں تھی لیکن تمہاری خوشی کی خاطر چند لقمے تناول کر لئے ہیں۔
دیکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں فرماتا، ایک بار ایک ضرورت مند محتاج دیہاتی آپ کے دروازے پر حاضر ہوا اور چند گزارشات لکھ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں جن کے الفاظ یہ تھے:
ترجمہ: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں رہی جس سے ایک دانہ خریدا جاسکے۔ میری حالت آپ پر ظاہر ہے بتانے کی حاجت نہیں۔ میں نے اپنی آبرو بچا رکھی تھی۔ اسے کسی کے ہاتھ فروخت کرنا پسند نہیں کرتا تھا مگر اب خریدار مل گیا ہے اتفاق سے جواب آنے میں کچھ دیر لگ گئی تو اعرابی دیہاتی نے چار مصرعے اور لکھ بھیجے۔
ترجمہ: جب میں لوٹوں گا تو مجھ سے لوگ پوچھیں گے کہ صاحب فضل سخی سے تجھے کیا ملا ہے تو میں کیا جواب دوں گا؟ اگر کہوں گا کہ مجھے دیا ہے تو جھوٹ ہوگا اور اگر کہوں گا کہ سخی نے اپنا مال روک لیا ہے۔ تو یہ بات مانی نہ جائے گی۔
سّیدنا امام علی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ نے دس ہزار درہم کی تھیلی اس سائل کو بھیجی اور ساتھ ہی اس کو اشعار میں ہی یہ جواب عطا فرمایا:
ترجمہ: تم نے جلدی مچا دی ہے۔ سو تمہیں یہ قلیل حصہ مل گیا ہے۔ اگر تم جلدی نہ کرتے تو تمہیں اور زیادہ ملتا۔ اب لے لو اور یوں سمجھنا کہ سوال کیا ہی نہیں اور ہم سمجھیں گے کہ کچھ دیا ہی نہیں۔
(ابن عساکر) ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حضورۖ کی دعوت کی۔ آپ بمعہ صحابہ رضی اللہ عنھم ان کے گھر تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں امام عالی مقام بچوں سے کھیل رہے تھے۔ حضورۖ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر پیار کرنا چاہا تو امام حسین اللہ عنہ نے دوڑ لگا دی۔ سرکار بھی پیچھے دوڑے اور آپ نے پکڑ لیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ حضورۖ نے ایک ہاتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے نیچے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے امام حسین رضی اللہ عنہ کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر بوسہ لیا اور پھر چھوڑ دیا(مسند امام احمد)
نہ پوچھ کیسے کوئی شہ مشرقین بنا
بشر کا ناز نبوت کا نور عین بنا
علی کا خون، لعاب رسول، شیر بتول۔ ملے ہیں جب یہ عناصر تو پھر حسین بنا(علیھم الصّلوٰة والسّلام) سّیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے باب مدینہ العلم مولا علی المرتضیٰ کرّمَ اللہُ وجہہ کی آغوش میں بچپن سے لے کر جوانی تک تعلیم وتربیت پائی۔ باب مدینہ العلم نے جس کو خود تعلیم دی ہو۔ صحبت رسالت مآبۖ کے تربیت یافتگان سے جس نے براہ راست کسب فیض کیا ہو اس کو اگر علم کا بحر بیکراں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ علماء سیروتواریخ اس بات پہ متفق ہیں کہ امام علی مقام اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فاضل تھے۔ آپ کے معاصرین بھی آپ کے تبحرعلمی کے معترف تھے۔ اور آپ کی فقہی بصیرت کے مداح تھے۔ جب بھی کو علمی مشکل پیش ہوتی تو حل مشکل کیلئے آپ ہی کی طرف رجوع کرتے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ دودھ پینے والے بچے کا وظیفہ مقرر کرنے کے متعلق مسئلہ معلوم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس مسئلے میں بھی انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ بطن مادر سے نکلنے کے بعد جب بچہ آواز دے تو اسی وقت وہ وظیفہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ آپ علم وحکمت کے بہت بڑے فاضل تھے۔ عبادت وریاضت میں بھی آپ نے کمی نہیں رکھی۔ آپ کے دن درس وتدریس میں اور راتیں قیام وسجود میں بسر ہوتیں۔ میدان کربلا کے عظیم مصائب کے وقت بھی آپ نے دن اللہ کے کلام کی تلاوت اور رات اللہ کے حضور رکوع وسجود میں گزار دی۔ آپ نے اپنی زندگی میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرح خود پچیس حج پیدل ادا فرمائے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے فیضان جرات وبہادری، علم وعمل اور زہر وتقویٰ سے وافر حصہ عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here