مقتدرہ رے مقتدرہ!!!

0
3
عامر بیگ

پاکستان میں صحافت کی آزادی کا ذکر اکثر بڑے فخر سے کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر ہر شخص کو بولنے اور لکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی طور پر بہت سے صحافی، لکھاری اور تجزیہ کار یہ محسوس کرتے ہیں کہ بعض موضوعات پر قلم اٹھانے سے پہلے انہیں کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔ یہ خوف صرف پاکستان کے اندر موجود صحافیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی جب ملکی سیاست یا مقتدر حلقوں پر لکھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں سب سے پہلے اپنے وطن میں موجود اہل خانہ اور عزیز و اقارب کا خیال آتا ہے۔ جب ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا ایک شخص بھی اپنی رائے کے ممکنہ نتائج سے خائف ہو تو یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک ایسی فضا کا مظہر ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ پیکا قانون بھی پاس ہو چکا ہے تو اس کا دھڑکا بھی رہتا ہے کہ کہیں اس قانون کی لپیٹ میں ہی نہ آ جائیں۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار کی ایک پریس کانفرنس کا وہ بیان بھی طویل عرصے تک زیر بحث رہا جسے بہت سے لوگوں نے ریاستی اداروں کے وسیع اثر و رسوخ کی علامت کے طور پر دیکھا کہ ان کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی پاکستان کے اندر آ سکتا ہے اور نہ باہر جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر طاقت کے مراکز کا اثر اتنا وسیع سمجھا جاتا ہے تو کیا عوامی بیانیہ، سیاسی مباحث اور میڈیا کی سمت اس سے مکمل طور پر آزاد رہ سکتی ہے؟ اسی بحث کو حالیہ دنوں میں ایک نئی جہت اس وقت ملی جب ایک سرکاری صحافی کی گفتگو نے یہ تاثر پیدا کیا کہ بعض اوقات منتخب حکومتوں کے بارے میں میڈیا کا رویہ بھی طاقت کے مراکز کے مرہون منت ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے دعوے مختلف آرا کا موضوع ہیں، لیکن ان کا سامنے آنا خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں میڈیا، سیاست اور ریاستی اداروں کے تعلق پر بحث ختم نہیں ہوئی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں یہ احساس عام ہو جائے کہ منتخب حکومتوں کو ابتدا ہی سے تنقید کا نشانہ بنا کر دفاعی پوزیشن میں رکھا جاتا ہے اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو مسلسل کمزور کیا جاتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان جمہوری نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہونے لگتا ہے کہ سیاست دان نااہل ہیں اور اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ یوں جمہوریت پر اعتماد مجروح ہوتا ہے اور غیر منتخب طاقت کے مراکز نسبتاً مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تاثر جان بوجھ کر بنایا جاتا ہے تاکہ مقتدرہ کا رعب، ڈر اور خوف قائم رہے۔ یہ سب کچھ ٹیلی وڑن اسکرینوں پر بیٹھے معروف اینکرز اور تجزیہ کاروں کی گفتگو میں بھی اکثر نمایاں ہوتا ہے جو عوامی بحث کا حصہ بنتی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے یہ تشویش کی بات ہے۔ جمہوریت کی بنیاد صرف ووٹ نہیں، بلکہ آزاد صحافت، اختلاف رائے کے احترام اور اداروں کی آئینی حدود کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے۔ صحافی کا کام سوال پوچھنا اور سچ لوگوں تک پہنچانا ہے، نہ کہ خوف کے سائے میں مخصوص ایجنڈے پر کام کرنا۔ اسی طرح ریاستی اداروں کی مضبوطی بھی اسی میں ہے کہ وہ تنقید کو ریاست دشمنی نہ سمجھیں، بلکہ اسے بہتر طرز حکمرانی کا ذریعہ تصور کریں۔ انسان کی فطرت آزادی ہے۔ خیالات کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو اگر ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار جمہوری ریاست بننا ہے تو ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے۔ صحافی بلا خوف و خطر سوال پوچھ سکیں اور عوام کو یہ یقین ہو کہ ملک کا مستقبل ان کی رائے اور ووٹ سے طے ہو، نہ کہ کسی غیر مرئی طاقت کے فیصلوں سے۔ اسی راستے میں ریاست کی مضبوطی، جمہوریت کی بقا اور عوام کے اعتماد کی بحالی پوشیدہ ہے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here