تعجب بالائے تعجب یہ کہ بعض ہمدردانِ ادب نے یہ کہہ ڈالا کہ اردو میں نعتیہ شاعری کی روایت نئی ہے، تو ایسے لوگوں کے لیے جو بات اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ انہیں تاریخ سے کوئی آشنائی ہے اور نہ حقائق سے کسی قسم کا تعلق۔ حالانکہ یہ کہا جائے تو قطعی بے جا نہ ہوگا کہ اردو میں نعتیہ شاعری کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود اردو شاعری۔
اگر تاریخِ ادب کا استیعابِ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ناقابلِ انکار ہوگی کہ اردو کی اشاعت میں صوفیائے کرام نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے اور اردو حقیقتاً ایسی ہی تقدس مآب شخصیتوں کے زیرِ سایہ پلی بڑھی اور پروان چڑھی کیوں کہ ان ذواتِ مقدسہ کا مقصد اصلی خلقِ خدا کی خدمت اور دینِ متین کی ترویج واشاعت کرنا تھا اور ان کی تبلیغ کا میڈیا کوئی اور زبان نہیں بلکہ اردو ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں آج بھی حمدیہ اور نعتیہ اشعار کی کثرت نظر آتی ہے۔ ان صوفیائے کرام میں حضرت فرید گنج شکر، امیر خسرو، شرف الدین احمد یحییٰ منیری، حمید الدین ناگوری، بندہ نواز گیسو دراز وغیرہ ہم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
اب ہم ذرا اٹھارویں اور انیسویں صدی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان ادوار میں اردو شاعری بلاشبہ انتہائی عروج پر تھی اور ہر چہار جانب غزل گوئی کی دھوم ہی نہیں مچی ہوئی تھی بلکہ اس کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ مگر اس کے باوجود ایسے وقت بھی ہمارے سامنے بیشتر ایسے خوش نصیب نعت گو شعراء کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے کہ جن لوگوں نے نعت گوئی کو اپنا مشغلہ بنا کر جہاں نعتیہ شاعری کو جلا بخشی وہیں اردو ادب کے بیمار جسم میں تازہ روح پھونک دی۔ اس دور میں سرِفہرست محسن کاکوروی، صوفی منیری، امیر مینائی، بیدم شاہ وارثی کے اسماء شمار کیے جا سکتے ہیں۔
مگر یہاں ایک الگ المیہ ہے کہ دنیائے ادب نے نعت گو شعراء کو ایسا مقام نہیں دیا جس کے وہ متحمل تھے اور جس کی ان کی فکری کاوشیں متقاضی تھیں۔ جب ہم مذکورہ نعت گو شعراء اور حضرت نوری بریلوی کے مابین تقابلی تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند کا کلام یقیناً فصاحت و بلاغت کا جامع اور فنی نقطہ نگاہ سے مابہ الامتیاز کی حیثیت رکھتا ہے۔
٭٭٭










