انسانیت محض لفظ نہیں بلکہ ایک طرزِ عمل کا نام ہے جس کا مشاہدہ ایک چھوٹی سی دکان پر کیا جا سکتا ہے۔ بچے اکثر پانچ روپے لے کر آتے ہیں اور ان بچوں کو کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا، حالانکہ یہ رقم شاپر اور سلاد کی قیمت کے لیے بھی ناکافی ہوتی ہے، مگر ہر جگہ منافع نہیں دیکھا جاتا۔ دیگ میں شامل کی جانے والی مرغی کی بوٹیاں خاص طور پر ان ہی بچوں کے لیے ہوتی ہیں جو پانچ یا دس روپے لے کر آتے ہیں اور جب وہ چاول کے ساتھ یہ چھوٹی سی بوٹی دیکھ کر مسکراتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ عبادت قبول ہو گئی ہے۔ آج کے دور میں امیروں کے بچے پانچ دس روپے لے کر نہیں آتے بلکہ یہ غریب بچے ہی ہوتے ہیں جو اس خدمت کے مستحق ہیں۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ضعیف اور کمزور لوگوں کو تلاش کرنے میں میری مدد کرو کیونکہ کمزوروں اور ضعیفوں کی وجہ سے ہی تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ انسان تو ہر جگہ پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے اور عبادت وہاں تک نہیں پہنچتی جہاں تک غریب اور ضرورت مند کی خدمت پہنچاتی ہے۔ انسان کے چہرے پر حقیقی خوشی اور اطمینان دوسروں کی مدد سے ہی آتا ہے۔ اس ضمن میں ایک آنکھوں دیکھا حال یہ ہے کہ ایک بچہ دس روپے لے کر پلاؤ والے کے پاس آیا تو ریڑھی پر موجود لڑکے نے چاول دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے کہ میں بچہ کو چاول دینے کی پیشکش کرتا، پلاؤ والا خود آگے آیا اور بچے سے دس روپے لے کر اسے پیار سے چاول شاپر میں ڈال دیے۔ جب میں نے اس سے سوال کیا کہ مہنگائی کے اس دور میں دس روپے کے چاول کیسے ممکن ہیں تو اس کا جواب تھا کہ بچوں کے لیے کیسی مہنگائی۔ یہ واقعہ انسانیت کا ایک ایسا درس ہے جو محبت کے خالص جذبے اور غریبوں کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی لیے چاول والے کے چہرے پر مسکراہٹ بسیرا کرتی ہے اور اسے دیکھ کر روحانیت کا احساس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ منافع نہیں دیکھا جاتا کیونکہ اگر ہر سرمایہ کاری صرف دنیاوی فائدے کے لیے کی جاتی رہے گی تو آخرت میں انسان کے پاس کیا بچے گا۔ لہذا ایسی سرمایہ کاری ضرور کرنی چاہیے جس کا منافع وہاں ملے گا جہاں کوئی سکا نہیں چلتا۔
مٹی کی مورتوں کا ہے میلہ لگا ہوا
آنکھیں تلاش کرتی ہیں انسان، کبھی کبھی
٭٭٭











