امام حسین کی قربانی اور حق و باطل!!!

0
3

کسی بھی ظالم و جابر مقتدرہ کے سامنے کلم? حق بلند کرنا بلاشبہ ہمیشہ سے ایک انتہائی مشکل اور خطرناک عمل رہا ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ ہر فرعونِ وقت کے لئے ایک نہ ایک موسیٰ ہر دور میں موجود رہتا ہے۔ نبی اکرم ۖ کے نواسے سیدنا حسین کا ١٦ ہجری میں یزید کی بیعت کرنے سے انکار رہتی دنیا تک حق و باطل کی کشمکش میں حق کے علمبرداروں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ علامہ اقبال نے رموزِ بیخودی میں اس حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ!
مدعایش سلطنت بودے اگر
خود نکردے با چنیں سامان سفر
تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس
رمز قرآں از حسین آموختم
زآتش او شعلہ ہا اندوختم
اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے۔ ان کی تلوار صرف عزت دین کیلئے ہے اور اس کا مقصد صرف شریعت کی حفاظت کرنا ہے۔ ہم نے قرآن کے رموز امام حسین سے سیکھے ہیں ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں۔ آزادی کے یہی شعلے ہیں جو فلسطین و کشمیر کے عوام کو وہاں قابض طاقتوں کے خلاف بے چین رکھتے ہیں اور انہی شعلوں سے دنیا بھر کی اشرافیہ کی نمائندگی کرنے والی نام نہاد بڑی طاقتیں ہر لمحے خوفزدہ رہتی ہیں۔ سانح? کربلا کے دوران سیدنا حسین اور ان کے خانوادہ کی عظیم قربانی کو لازوال بنانے میں عزادارانِ حسین کا بھی بہت اہم اور بڑا کردار ہے۔ روایتی طور پر ماہِ محرم کے پہلے دس دن اس عزاداری کیلئے مخصوص ہیں اور یہ عزاداری درحقیقت یزیدی طاقتوں کے خلاف ایک سیاسی احتجاج ہے۔ انسانی کمزوریاں کہیں کہیں اس جدوجہد کو افراط و تفریط کا شکار ضرور کر دیتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ سالانہ عزاداری حق و باطل کی جدوجہد میں مثبت کردار ہی ادا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں ماتمی نوحہ سیدنا حسین کی عظیم قربانی میں ان کی بہن حضرت زینب کے مثالی کردار کو واضح کرتا ہے
رہی دیکھتی زہرہ ثانی، شبیر پہ چل شمشیر گئی
گوناگونا لوگ ہزاروں، شام میں آگئے سارے
تازیانے مارے کسی نے، پتھر کسی نے مارے
جب شام والے بازاروں میں، ہائے زہرہ کی تصویر گئی
رہی دیکھتی زہرہ ثانی، شبیر پہ چل شمشیر گئی
نام تھا میرا زینب لیکن ام المصائب بن گئی
داغ بہتر بھول گئی تجھے چھوڑ بے گور کفن گئی
مجھے ہوگئی تھی مجبوری، میری چھن چادر تطہیر گئی
رہی دیکھتی زہرہ ثانی، شبیر پہ چل شمشیر گئی
جعفری، ام المصائب کر گئی زندہ نام خدا کا
دین نبی کا زندہ کیا اور نام رسول اللہ کا
توہین اسلام کی نہ دیکھی گر شام میں ہو تشہیر گئی
رہی دیکھتی زہرہ ثانی، شبیر پہ چل شمشیر گئی
سانحہ کربلا میں کوفیوں کا منفی کردار بہت کلیدی مانا جاتا ہے کیونکہ حق و باطل کی جدوجہد میں خاموشی یا غیر جانبداری اختیار کر لینا منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ شہادتِ امام حسین کے بعد بہت سے کوفی بے حد پچھتائے تھے کہ یزید اور ابنِ زیاد کے خوف کی وجہ سے وہ حضرت امام حسین سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے اور آج تک ان کے اس منافقانہ کردار کو مطعون کیا جاتا ہے۔ اقبال نے خوب کہا ہے کہ
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here