اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی!!!

0
4

کائنات کا یہ دستور ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ مال محفوظ کرنے کے جھانسے میں رہتا ہے اور مزید کی خواہش اسے مسلسل بھگاتی رہتی ہے۔ اس اندھی دوڑ میں وہ دوسروں سے زیادتیاں کرتا ہے اور جہاں بھی اس کا بس چلے وہ کسی کو نہیں چھوڑتا۔ زیادہ مال بنانے کیلئے بظاہر حلال نظر آنیوالے طریقوں سے حرام کے چور راستے ڈھونڈھ لیتا ہے۔ وہ اپنی باتوں اور دکھاوے سے خود کو اور دوسروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے، ظاہری طور پر دوسروں کی مدد کرتا ہے اور صدقات بھی دیتا ہے لیکن اس کی بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اندر سے ایک انجانی سی لہر گاہے بگاہے اسے ایک بے نام ذہنی تناؤ اور بے سکونی میں مبتلا رکھتی ہے۔
اس صورتحال میں یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک لمحے کو تھم جائیں اور اپنے کمانے کے ذریعوں پر غور کریں۔ ہمیں یہ ڈھونڈنا ہوگا کہ کہیں کسی باریک سے سوراخ سے کوئی حرام کا روپیہ آ کر ہمارے حلال رزق کو گدلا تو نہیں کر رہا۔ یاد رہے کہ ہمیں زندگی گزارنے کیلئے برکت کی ضرورت ہے، کثرت کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں، گھروں اور نسلوں میں خیر و برکت رکھے۔
اس حوالے سے ایک تاریخی روایت ملتی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت علی سے فرمایا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ حضرت علی نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے یقین کو شک نہ بنائیں، یعنی روزی کا ملنا یقینی ہے اس کی تلاش میں اس طرح اور اتنا منہمک نہ ہوں کہ آپ کو اس کے ملنے میں کوئی شک پیدا ہو جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ آپ یہ بات جان لیں کہ آپ کی دنیا تو صرف اتنی ہے جو آپ کو ملی اور آپ نے اسے آگے روانہ کر دیا یا تقسیم کر کے برابر کر دیا یا پھر پہن کر پرانا کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا حقیقی رزق تو صرف اتنا ہی ہے، پھر بھی وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز بھول جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم سب جانتے ہیں کہ گدھ ایک ایسا پرندہ ہے جو مردار کھاتا ہے۔ وہ مسلسل کھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا پیٹ بہت بھر جاتا ہے لیکن اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ پھر وہ بھاگتا ہے اور سارا کھایا ہوا الٹ دیتا ہے، اور جیسے ہی معدہ خالی ہوتا ہے تو وہ دوبارہ کھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ حرام کھانے والے کا پیٹ، گھر اور تجوریاں تو بھر جاتی ہیں لیکن پھر بھی اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور اسے اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کی فکر لگی رہتی ہے۔
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here