مصری نژاد امریکی سرجن آدم حماوی کو کچھ لوگ تو سابقہ امریکی فوجی سرجن کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن صیہونیوں کے پراپیگنڈے کے برعکس اب زیادہ تر لوگ انہیں غزہ کے مظلوموں کا ہمنوا اور ہمدرد سمجھتے ہیں۔ برادر آدم حماوی نے غزہ کے ہسپتالوں میں سسکتے ہوئے معصوموں کے علاج کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالی اور ایک طویل عرصے تک وہاں خدمات سرانجام دیں۔ مرکزی نیو جرسی کے علاقے میں لوگ انہیں قریبی مساجد میں جمعہ المبارک کے خطیب کی حیثیت سے بھی جانتے ہیں۔ انتہائی خوش اخلاق اور خوشگوار طبیعت کے مالک ڈاکٹر آدم حماوی کا امریکی کانگریس کے ابتدائی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونا یقیناً ان کی نیک نیتی اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیا کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مایوسیوں کے باوجود امریکی رائے عامہ کا یہ فیصلہ جگر مراد آبادی کے اس شعر کی یاد دلاتا ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
نوے کی دہائی کے اوائل میں جب ووٹرز نے امریکی شہریت اپنائی تھی تو ووٹ کا حق حاصل کرنا ہی اس فیصلے کا سب سے بڑا محرک تھا۔ اس طویل دورانیے میں امریکہ کے مختلف حلقوں میں تو مسلمان اور انصاف پسند ووٹرز اچھے امیدواروں کی مالی، اخلاقی اور عملی مدد کرتے رہے لیکن اپنے ذاتی ووٹ کے ذریعے ایک مثالی امیدوار کا انتخاب ایک دیرینہ خواب ہی رہا۔ اس ہفتے جب مقامی ووٹرز اپنے خاندانوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشن پہنچے تو انہوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخاب میں برادر آدم حماوی کے مقابلے میں ویسے تو درجن بھر امیدوار موجود تھے لیکن ان کا اصل مقابلہ پڑوس کے شہر ایسٹ برنسوک کے موجودہ مئیر بریڈ کوہن سے تھا۔ یہ صاحب یہودی النسل امریکی ہیں اور ان کے حامی آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ وہی کامیاب ہوں گے مگر برادر آدم حماوی کی بھاری اکثریت سے فتح ان کے لیے یقیناً ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کا یہ بارہ نمبر حلقہ ایک طویل مدت سے ڈیموکریٹک امیدواروں کو جتاتا رہا ہے اس لیے نومبر کے فیصلہ کن انتخابات میں اب برادر آدم حماوی کی کامیابی کافی حد تک یقینی دکھائی دیتی ہے اور برادر آدم کے اسی سفرِ کامیابی کے لیے یہ خوبصورت شعر یاد آتا ہے
چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیلِ کامرانی ہے
جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے
برادر آدم حماوی کی انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں کی بھرپور اور والہانہ شرکت، مساجد کا مثبت کردار اور ووٹرز کا جوش و خروش بہت متاثر کن رہا۔ غزہ کے بے قصور مظلوموں کی قربانیوں کے صدقے غیر مسلم ہمسائیوں نے بھی صیہونی ایجنڈے کو نظر انداز کر کے حق کا ساتھ دیا۔ نیو جرسی کی ریاست میں پہلی مرتبہ صیہونی طاقتوں کو ایک ایسی شکستِ فاش ہوئی جس کا دو سال پہلے تک کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ امریکی رائے عامہ کی یہ بڑی تبدیلی بہت سارے رہنماؤں اور دانشوروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں کی نئی نسل کے سوچنے کا انداز اب بہت مختلف ہو چکا ہے اور صیہونیت کا پراجیکٹ اسرائیل ان کے نزدیک بہت مہنگا اور غیر ضروری ہے۔ لبنان اور ایران پر غیر معمولی طاقت کا استعمال بھی نئی نسل کے لیے اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ کئی دہائیوں کی کسمپرسی کے بعد آج امریکی سیاست میں کچھ مثبت تبدیلی دیکھ کر شبینہ ادیب کا یہ شعر گنگنانے کو دل کرتا ہے
بہار کا آج پہلا دن ہے، چلو چمن میں ٹہل کے آئیں
فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوں میں رنگت نئی نئی ہے












