اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں!!!

0
10

اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں۔ اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔ اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔ اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں اور خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و باکردار سمجھے جاتے ہیں تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نیک لوگوں کا بھی بگڑ سکتا ہے۔ اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی اور کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنے اور ہوشیار ہیں بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدمعاشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔ یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منظم ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو ناپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے اور ان کا مذاق اڑاتا ہے مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔
اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو اسے تین کام کرنے چاہئیں۔ اوّل یہ کہ جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجالاتا رہے۔ دوئم یہ کہ جن کو کم یا ناپا تلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے اور نہ ہی ان لوگوں سے حسد کرے جن کو وافر مقدار میں رزق میسر ہے کیونکہ یہ سب رزاق کی اپنی تقسیم ہے اور اس کے بھید وہی جانتا ہے۔ سوئم یہ کہ جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے، رزق زیادہ ہے تو زیادہ اور کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے جن میں نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی شامل ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں اور چچی وغیرہ جبکہ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ آتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ انسان کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موسلا دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلزار بنا دے گی۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here