فٹ بال یا ساکر: ایک معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا!!!

0
10

آج کل دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹ بال کے فیفا ورلڈ کپ میں مقابلہ کرنے والی 48 ٹیمیں، برِ اعظم شمالی امریکہ کے تین وسیع و عریض ممالک پر پھیلے ہوئے 16 بڑے شہروں میں وہ کھیل کھیل رہی ہیں جسے میزبان ممالک، میکسیکو، کینیڈا اور امریکہ کے شہری فٹ بال کے نام سے پکارتے بھی نہیں۔ یہاں کا میڈیا اس ٹورنامنٹ کو ساکر ورلڈ کپ کا نام دے رہا ہے کیونکہ امریکہ کا اپنا مقبول ترین کھیل بھی فٹ بال کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ 80 کی دہائی میں جب ہم امریکہ پہنچے اور بیضوی شکل کے اس بدنما امریکی فٹ بال کو دیکھا تو اپنا مکمل گول فٹ بال بہت یاد آیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امریکی فٹ بال کے وحشیانہ کھیل میں فٹ کا استعمال تو بہت ہی کم ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہاں کی مقامی آبادی کا اصرار یہی ہے کہ ہم اپنے اس کھیل کو فٹ بال ہی کہیں گے۔ فانی بدایونی نے خوب کہا تھا کہ!
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
اس معمے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی 48 ماہر ترین ٹیمیں، اس مشہورِ زمانہ ٹورنامنٹ کے 104 میچز، ایک ایسے ملک میں بنے ہوئے جدید ترین فٹ بالوں سے کھیلنے جائیں گی جس نے کبھی فیفا کے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوالیفائی ہی نہیں کیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہرِ اقبال، سیالکوٹ اتنے معیاری فٹ بال بناتا ہے کہ دنیا بھر کی ستر فیصد فٹ بال مارکیٹ اس کے بنائے ہوئے فٹ بالوں کے گن گاتی ہے۔ جرمنی میں ڈیزائن شدہ فٹ بال، سیالکوٹ کے محنتی اور نیک نیت ورکرز اپنی پیشہ ورانہ مہارت استعمال کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک کا نام بھی روشن کرتے ہیں اور قیمتی زرِ مبادلہ کمانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس فٹ بال کے غیر معمولی معیار پر ہر چار سال بعد ہونے والے اس فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی کامیابی کا انحصار ہے، اسی کا خالق ملک، پاکستان، آج تک اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے قابل نہیں ہو سکا۔ مرزا غالب کے الفاظ میں!
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
امریکی فٹ بال یقیناً عالمی فٹ بال کے مقابلے میں اچھا خاصا وحشیانہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے امریکہ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی فٹ بال کو اپنائے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ میرے دونوں بیٹے جب پرائمری اسکول میں تھے تو ہم انہیں اپنے شہر کی ساکر لیگ میں کھلانے کے لیے کافی وقت صرف کرتے تھے۔ دونوں بیٹوں کی ٹیموں نے اتفاق سے اپنے اپنے سالوں کی چیمپئن شپس بھی جیتیں۔ کھیلوں کی کسی بھی قسم کی چیمپئن شپ جیتنے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ بڑے بیٹے دانیال نے گول کیپر کی پوزیشن سے پینالٹی کک روک کر فائنل میں اپنی ٹیم کو فتح دلائی تھی۔ ٹرافی لینے کے بعد پوری ٹیم نے جب اسے کندھوں پر اٹھایا تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ اسی طرح چھوٹے بیٹے بلال نے فارورڈ کی پوزیشن سے ایک بہت مشکل زاویے سے جب ایسا گول کیا جس نے فائنل میں اس کی ٹیم کو فتح دلائی تو ہماری خوشیاں دوبالا ہو گئی تھیں۔ شاعر کی زبان میں
میدان میں ڈٹ کر آج کھلاڑی ہمارے کھیلے
قدموں سے لپٹ کر گیند کی جیسے ہوائیں کھیلے
فیفا ورلڈ کپ کا فائنل چند ہفتے بعد ہمارے ہاں نیو جرسی میں ہوگا۔ شائقین کو فٹ بال کا بخار چڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ ہماری دعوت ٹیم، کھیلوں کے اس طرح کے بڑے مقابلوں کے دوران اسلام کا معلوماتی لٹریچر شائقین میں مفت تقسیم کرتی ہے۔ آج کل یہ کام عروج پر ہے اور دعوت کے بل بورڈ بھی مختلف بڑی بڑی شاہراہوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ نیو جرسی کی مشہور شاہراہ ٹرن پائیک پر فٹ بال اسٹیڈیم کے بالکل قریب، زکو? فاؤنڈیشن نے بھی ایک دیوقامت بل بورڈ نصب کروایا ہے۔ اس کے ذریعے شائقین سے چاولوں کے پانچ کلو گرام کے لیے 5 ڈالر کی امدادی اپیل کی گئی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ یہ ساری کوششیں قبول فرمائے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here