دوستی سو چ سمجھ کر کریں!!!

0
10

ایسی خاتون کو دوست نہ بنانا بہتر ہے جس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو یعنی وہ دین سے غافل ہو۔ ایک بار ایک خاتون کے ساتھ بیٹھنے کا اتفاق ہوا جو پورے وقت صرف قیمتی کپڑوں، سونے کے زیورات، مہنگے فرنیچر، سیر و تفریح کے سفروں اور خریداریوں کے بارے میں ہی باتیں کرتی رہی۔ اس گفتگو کا اثر یہ ہوا کہ وہاں بیٹھے ہوئے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس دنیا میں کوئی مادی آسائش موجود ہی نہیں، جبکہ اس خاتون کے پاس دنیا کی ہر چیز دست یاب ہے۔ ایک دن جب اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو وہ صفائی کے سامان کی خریداری کی فہرستیں اور اپنے گھر کے پردوں کی تبدیلی کے قصے سنانے لگی۔ اس صورت حال پر تھوڑی سوچ بچار کے بعد ایک بہت بڑا انکشاف ہوا اور یہ بات سامنے آئی کہ ایسی صحبت انسان کے اندر محرومی اور نقص کا احساس پیدا کرتی ہے، جبکہ اس کے بغیر انسان خود کو اس دنیا میں مطمئن اور بھرپور محسوس کرتا ہے۔ اسی بنا پر ایسی مجالس سے دور ہونے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
اسی دوران ایک جمعہ کو سورہ کہف کی تلاوت کے دوران اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر نظر پڑی جس کا ترجمہ ہے کہ اور اس شخص کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ اس قرآنی آیت کی تفسیر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہاں فرطاً سے مراد وہ شخص ہے جس نے اپنے دین کے معاملے کو ضائع کر دیا ہو، اس میں سستی برتی ہو، اور اپنی دنیا میں ایسا مگن ہو گیا ہو کہ اس کی مثال اس ہار یا مالا جیسی ہو جائے جو ٹوٹ جائے اور اس کے موتی بکھر جائیں۔ اس تفسیری نکتے نے سابقہ فیصلے کے بالکل درست ہونے کا پختہ یقین دلا دیا۔
انسان کو ہمیشہ اپنی سہیلیوں اور مصاحبین کے بارے میں غور کرنا چاہیے کیونکہ صحبت کا اثر لازمی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن پاک یاد کرنے والیوں یعنی حفاظ کی صحبت اختیار کرے گا تو ان کی طرح قرآن حفظ کر لے گا۔ اہل علم کی صحبت اختیار کرنے سے علمی فوائد حاصل ہوں گے اور تخلیقی صلاحیت رکھنے والے افراد کا ساتھ انسان کو تخلیقی بنا دے گا۔ اسی طرح خیر اور نفع پہنچانے والے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے انسان ان جیسا بن جاتا ہے۔ لہذا جب بھی کسی کے پاس بیٹھنا ہو تو کسی صالحہ اور نیک خاتون کے پاس بیٹھیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں سنور سکیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here