امریکی انتخابات اور کشمیر پارٹ 2!!!

0
11
کوثر جاوید
کوثر جاوید

بزرگ فرماتے ہیں کہ جب کسی کا ظرف اور ذہنیت معلوم کرنی ہو تو اسے غصے میں دیکھنا چاہیے۔ اس وقت امریکہ میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے باشندوں سمیت کشمیری کمیونٹی بھی ہزاروں کی تعداد میں وہاں مقیم ہے۔ ان پاکستانی اور کشمیری کمیونٹیز کے ابتدائی دور میں آنے والے لوگوں کو یہاں سخت محنت کرنا پڑی اور اپنے امیگریشن کے مسائل اور روزگار کو مستحکم کرتے کرتے انہیں ایک عشرہ لگ گیا۔ موجودہ حالات میں اب اس کمیونٹی کے ہزاروں افراد امریکہ کے ہر شعبے میں بڑی کامیابی سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستانیوں کی تیسری نسل وہاں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد پاکستانی سیاست میں بھی سرگرم ہے جس میں کوئی حرج نہیں اور امریکی سیاسی پارٹیوں میں بھی ان کی نمائندگی موجود ہے۔ البتہ بنیادی فرق یہ ہے کہ امریکی سیاستدان اپنے عوام کی روزمرہ زندگی کی ضروریات، صحت، تعلیم اور ٹیکسز جیسے عوامی معاملات پر فوکس کرتے ہیں۔ تمام امریکی سیاستدانوں کی توجہ عوام کی بہتری، بھلائی، عدل و انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے قانون پر ہوتی ہے اور ان کی الیکشن مہم میں بھی یہی موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی سیاست میں دھونس، دھاندلی اور فرعونیت کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اور جو لوگ امریکہ میں ان پاکستانی اور کشمیری پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کی ذہنیت بھی کچھ ایسی ہی بن چکی ہے۔ پاکستان میں ظلم، بربریت، لاقانونیت اور قتل و غارت گری تو پہلے ہی موجود ہے لیکن آزاد کشمیر میں کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا گیا تھا۔ ہم لوگ ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے حالات پر روتے رہے لیکن اب آزاد کشمیر میں وہاں سے بھی زیادہ حالات بگاڑ دیے گئے ہیں۔
واشنگٹن کے علاقے میں چند مبینہ جعلی کشمیری مشیر اور کوآرڈینیٹر گزشتہ پچیس سال سے کمیونٹی کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ جو کشمیر کے علمبردار بنتے تھے، اصل میں جعلی نکلے۔ آزاد کشمیر میں کشمیریوں نے صرف اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا ہے جس میں ہسپتال، بجلی اور پانی کی فراہمی، ایئرپورٹ کی تعمیر، سڑکوں کی مرمت، سیاستدانوں کی مراعات کی واپسی اور مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ شامل ہے۔ تاہم حکومت نے وہاں ظلم، بربریت، گرفتاریاں اور معصوم کشمیریوں کا اغوا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیری قوم متحد ہو گئی اور عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت میں اتنی سختیاں جھیلنے کے باوجود اب بھی پرامن ہے۔ پاکستان میں تو میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں لیکن ذرا غور کریں کہ جو لوگ واشنگٹن کے علاقے میں گزشتہ پچیس سال سے کشمیر کے نام پر اپنی سیاست چمکانے کا منجن بیچ رہے تھے، اب ان کا نام و نشان نظر نہیں آرہا جبکہ غیرت مند کشمیری سفارت خانے کے سامنے کشمیریوں کی حقیقی نمائندگی کر رہے ہیں جنہیں یہ مفاد پرست عناصر غدار کہہ رہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں کشمیری اور پاکستانی مقبوضہ و آزاد کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جبکہ یہ چند خود ساختہ لیڈر ٹھنڈے کمروں اور کھانے کی دعوتوں کی تصویریں لگا کر پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کو دھوکہ دینے کے چکر میں ہیں۔ اب ہماری کمیونٹی کو ان کے چہرے یاد رکھنا ہوں گے اور ان کی جعلی تقریبات منعقد کرنے والوں اور ان کے ہینڈلرز کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔
اسی دوران ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ میری لینڈ میں امریکی مین سٹریم انتخابات سے قبل پرائمری انتخابات ہو رہے ہیں جس میں کئی پاکستانی بھی امیدوار ہیں۔ ان میں ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں جو پہلے بھی صوبائی اسمبلی کے کئی ٹرمز کے لیے امیدوار رہ چکے ہیں اور وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ دو پاکستانی خواتین بھی میدان میں ہیں جن میں سے ایک انتہائی قابل احترام خاتون ہیں جو چار سال پہلے بھی الیکشن جیت کر امریکن پاکستانی اور مسلمان کمیونٹیز کی خدمت میں مصروف رہی ہیں۔ وہ اب دوبارہ انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں اور بڑی بہادری سے مسلم ثقافت اور تعلیمات کے مطابق سر کو مکمل ڈھانپ کر اسلامی حلیے کے ساتھ الیکشن مہم چلا رہی ہیں۔ دوسری قابل احترام خاتون وہ ہیں جنہوں نے کئی دفعہ صوبائی اور کانگریس کے پرائمری انتخابات میں حصہ لیا لیکن کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ گزشتہ دنوں ایک کمیونٹی تقریب کے دوران اس خاتون نے محض کوریج نہ کرنے پر ایک سنجیدہ اور پڑھے لکھے پاکستانی امریکن کو امریکہ سے ڈیپورٹ کرانے کی دھمکی تک دے ڈالی جبکہ ان کے انتخابی اشتہار میں اصلاحات لانے کے بڑے بڑے وعدے لکھے ہوئے ہیں۔
یہ سب لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ تمام پاکستانی امریکنز کو سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ، سپورٹ اور فنڈز کا استعمال کرنا چاہیے اور غصے یا حسد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے درست فیصلے کرنے چاہئیں۔ معاشرے میں ہمیشہ دیانتدار اور پڑھے لکھے لوگوں کو آگے لانا چاہیے۔ اس وقت جو تاریخ بن رہی ہے اس میں اگر آپ درست اور دیانتدار مسلمان قیادت کو آگے لائیں گے تو آپ کا نام روشن ہوگا اور اگر آپ غلط مشیروں، کوآرڈینیٹروں اور فیک لوگوں کو سپورٹ کریں گے تو آپ کا شمار میر جعفر اور میر قاسم کی صفوں میں ہوگا، لہذا اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here