اٹوٹ انگ اور شہہ رگ کا الاپ الاپنے والوں کے لیے نیویارک امریکہ میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے کشمیریوں کے احتجاج کی امریکہ کے موقر اردو اخباروں میں پورے پورے صفحے کی کوریج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید کشمیر کاز کے حوالے سے کام اور بھی بڑھ جائے گا۔ ماضی میں کشمیری اور ان کے حامی زیادہ تر بھارتی قونصل خانوں اور سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کیا کرتے تھے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے لہذا اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے لیکن جب احتجاج کا رخ پاکستانی قونصل خانوں کی طرف بھی ہونے لگے تو یہ ایک اہم سیاسی پیغام بن جاتا ہے۔ اس صورتحال کو محض ایک وقتی ردعمل سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میرے امریکہ میں میڈیکل کے امتحانات کے زمانے کا مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والا سٹڈی فیلو ڈاکٹر انوار بتایا کرتا تھا کہ بھارت جتنی سہولیات ہمیں دے رہا ہے اور جیسی پاکستان کی موجودہ حالت ہے، ہمیں نہیں لگتا کہ اگر استصواب رائے ہوا تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرنا پسند کریں گے۔ کشمیری عوام کی ایک بڑی تعداد یہ محسوس کرتی ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نہ بھارت، نہ پاکستان اور نہ ہی عالمی طاقتیں ان کی سیاسی امنگوں اور خواہشات کو مکمل طور پر پورا کر سکی ہیں۔ دوسری طرف دیکھیں تو بھارت نے ماضی میں کشمیری عوام پر جو مظالم ڈھائے وہ اپنی جگہ قائم ہیں، جس کے بعد حق خود ارادیت کے بغیر مقبوضہ کشمیر کو اپنے آئینی اور سیاسی دائرے میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ پاکستان نے سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیر کا مقدمہ تو اٹھایا لیکن کشمیریوں کی توقعات کے مطابق کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہ کر سکا۔
اسی احساس محرومی نے بعض حلقوں میں اس سوچ کو تقویت دی ہے کہ کشمیر کا مستقبل ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اگرچہ اس تصور کے عملی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر شدید اختلاف موجود ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیری معاشرے میں آزادی کے مطالبے کی آوازیں مختلف اوقات میں ابھرتی رہی ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اب صرف دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں رہا بلکہ کشمیری عوام کی شناخت، سیاسی حقوق اور مستقبل سے جڑا ہوا سوال بن چکا ہے۔ جب کشمیری نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل کو دوسروں کے قومی مفادات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے تو وہ اپنی الگ سیاسی شناخت کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا کوئی بھی پائیدار حل کشمیری عوام کی مرضی اور شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر کشمیریوں کو یہ احساس رہے کہ ان کے بارے میں فیصلے ان کی رائے کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق کشمیری عوام کے حقیقی جذبات اور امنگوں کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مقامی قیادت کو بارہ نشستیں دے کر ایک بڑی مصیبت سے بچا جا سکتا ہے تو کیوں نہ اسے عملی جامہ پہنا دیا جائے۔ سیاسی طور پر جہاں ایک طرف سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کیا گیا، وہاں دوسری طرف پاکستان کے چاروں صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے تحت تقریباً خود مختار بنایا ہوا ہے، تو پھر کشمیر پر کسی قسم کی نوآبادیاتی پالیسی کا تاثر کیوں دیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے ہونے والا احتجاج دراصل ایک سوال ہے کہ کیا موجودہ سیاسی حکمت عملیاں، بشمول پچاس سے زائد قیمتی جانوں کا زیاں، کشمیری عوام کو مطمئن کر سکی ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو صرف سفارتی بیانات اور روایتی مؤقف سے آگے بڑھ کر کشمیری عوام کی خواہشات کے آئینے میں دیکھا جائے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوتا جب تک اس کے اصل فریق خود کو اس حل کا حصہ محسوس نہ کریں۔ مزید براں، پاکستان اور بھارت میں دشمنی کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا ایشو ہے۔ اگر کشمیر ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر دنیا کے سامنے آتا ہے تو پاکستان اور بھارت کا جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم سمجھا جائے گا۔ اس صورت میں پانی کا بہاؤ بھی نہیں روکا جا سکتا اور پھر کسی کو بھی اسلحہ کے انبار جمع کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ دونوں ممالک کے وسائل اسلحہ کی دوڑ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے غربت ختم کرنے اور نارمل سیاسی حکومتیں تشکیل دینے میں خرچ ہوں گے۔ یوں خطے میں فوجی اثر و رسوخ بھی شاید کم ہو جائے کیونکہ جب بندوق کی ضرورت ہی نہیں رہے گی تو اسے چلانے کے لیے بندے بھی درکار نہیں ہوں گے۔














