فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
12

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! تمام اہل اسلام کو نیا اسلامی سال 1448 مبارک ہو۔ اسلامی سال جسے قمری بھی کہا جاتا ہے کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، جس طرح کے عیسوی سال کا آغاز جنوری سے ہوتا ہے۔ اسے شمسی سال بھی کہتے ہیں۔ قمری کا مطلب ہے چاند سے تعلق رکھنے والا اور شمسی کا مطلب ہے سورج سے تعلق رکھنے والا۔ اسلامی سال کا حساب چاند دیکھ کر ہوتا ہے اور شمسی سال کا حساب سورج دیکھ کر ہوتا ہے۔ محرم الحرام کا مہینہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی یاد سے جڑا ہوا ہے۔ اہل بیت اطہار نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے ہیں، یعنی ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن، بنات پاک، حسنین کریمین اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم ورضی اللہ عنہم یہ افراد اصطلاح کے اعتبار سے ہیں۔ باقی عام معنی کے اعتبار سے ہر ماننے والا اہل بیت میں شامل ہے کیونکہ قرآن پاک میں ماننے والوں پر اہل و آل کا اطلاق ہوا ہے اور نہ ماننے والوں سے نفی ہوئی ہے خواہ وہ رشتے میں بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ بہرحال نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور آل پاک رضی اللہ عنہم کی بڑی عظمت اور شان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی قدر ہے کہ اے میرے محبوب آپ فرما دیں کہ میں تم سے اے لوگو! کچھ صلہ طلب نہیں کرتا اس تبلیغ دین اور خیرخواہی پر سوائے قرابت کی محبت کے یعنی میرے قریبیوں سے محبت کرو۔ یہ ارشاد سورہ شوریٰ کی آیت 23 میں موجود ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے جن قریبوں کی محبت ہم پر لازم قرار دی گئی ہے وہ کون خوش نصیب ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے رضی اللہ عنہم اس آیت کی تفسیر ہیں۔ ہمارے علمائ کرام اس ضمن میں ایک عجیب نکتہ محبت بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لا اطالبکم یا اس طرح کا کوئی اور لفظ ارشاد نہیں فرمایا اگرچہ معنی ایک ہی بنتا ہے لیکن لا اسئلکم چونکہ سوال سے بنا ہے کہ میں تم سے کچھ سوال نہیں کرتا، کچھ نہیں مانگتا کہ تم تو خود میرے حبیب محمد رسول اللہ کی بارگاہ کے سوالی اور منگتے ہو تو منگتوں سے کیا مانگنا۔ تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تو اپنی بارگاہ وہ ہے کہ جہاں سے جبریل امین کو بھی میری رحمت کا حصہ مل رہا ہے اور نبیوں رسولوں کو بھی، کیونکہ میں عالمین کے لئے بھی رحمت ہوں جو عالم کی جمع ہے اور عالم ماسوی اللہ کو کہتے ہیں تو جس کی بارگاہ میں انسانوں سے لے کر فرشتوں تک اور زمین والوں سے لے کر آسمان والوں تک سب سوالی بن کر کھڑے ہیں وہ محبوب کسی سے کیا مانگے اور کوئی اس کو کیا دے۔
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹیں کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی علیہ الصلوٰة والسلام کے گھر والو! اللہ تعالیٰ ارادہ رکھتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی آلودگی و ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں پاک کر دے خوب پاک کرنا۔ سورہ الاحزاب کی آیت 33 میں مذکور یہ آیت دراصل آیت تطہیر کہلاتی ہے۔ اس کا سیاق و سباق اگرچہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے تو یقیناً اس آیت سے بھی وہی مراد ہیں لیکن تفاسیر و احادیث میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ، فاطمتہ الزہراء اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم بھی اس سے مراد ہیں۔ مشکوٰة شریف کی حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام حضرات کو اپنی چادر مبارکہ میں لے کر یوں دعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص ہیں ان سے ناپاکی دور فرما اور ان کو خوب پاک کر دے۔ اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ حضور کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا کہ تو بہتری پر ہے۔ ان کے علاوہ دیگر کچھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی ذکر آتا ہے کہ ان کو بھی حضور علیہ الصلوٰ? والسلام نے اپنے اہل بیت میں سے قرار دیا، مثلاً حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔ اسی طرح حضرت واثلہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے اہل بیت میں سے ہو۔ علامہ ثعلبی فرماتے ہیں کہ اہل بیت سے مراد تمام بنو ہاشم ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس اور ان کی صاحبزادیوں کو بھی اسی طرح چادر میں لے کر دعا فرمائی کہ اے اللہ! یہ میرا چچا ہے اور باپ کی طرح ہے یہ میرے اہل بیت ہیں، انہیں دوزخ کی آگ سے ایسے محفوظ فرما جیسے میں نے ان کو اپنی چادر میں لے کر محفوظ کر لیا ہے۔ قرآن مجید میں اہل اور آل کا لفظ تقریباً اٹھاسی مرتبہ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً متبع، مالک، منتظم، ہم عقیدہ اور بیوی، لہذا کسی ایک گروہ پر اصرار کرنا اور باقی سب کو نکالنے پر تل کر رہنا انصاف نہیں۔ بعض اہل بیت کی محبت کے جھوٹے دعویداروں نے بغض صحابہ کرام اور بغض ازواج مطہرات میں انتہا کی ہوئی ہے، یہ شریعت مطہرہ کے اصولوں کے سخت خلاف ہے۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہونا چاہیئے جو شیخ الاسلام والمسلمین اعلیٰ حضرت، مجدد اعظم رضی اللہ عنہ نے دیا ہے اور کیا خوب فرمایا ہے کہ
اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور نجم ہیں
اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
تمام صحابہ اور اہل بیت کا احترام اور عزت ہمارے جزو ایمان ہے اور یہی کامیابی اور برکت کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے، کہنے اور تائید کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اہل بیت و صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذکر کی برکتیں عطا فرمائے، آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here