واشنگٹن (پاکستان نیوز)ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے ملکی لیبر مارکیٹ اور روزگار کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا ہے جس کا مقصد ایچ ون بی ویزا پروگرام کو تین سال کے لیے مکمل طور پر معطل کرنا ہے۔ اینڈ ایچ ون بی ویزا ابیوز ایکٹ 2026 کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ موجودہ ویزا نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ امریکی شہریوں کو ملازمتوں میں ترجیح مل سکے۔ اس مجوزہ قانون کے مطابق ایچ ون بی ویزوں کی سالانہ تعداد 65,000 سے نمایاں طور پر کم کر کے صرف 25,000 تک محدود کر دی جائے گی جبکہ برسوں سے رائج لاٹری سسٹم کو بھی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت ویزا کے اجرا کا فیصلہ اب لاٹری کے بجائے تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی کارکن کے لیے کم از کم سالانہ تنخواہ 100,000 ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سستی لیبر کی درآمد کو روکا جا سکے۔ کمپنیوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ ویزا کی درخواست دینے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ مطلوبہ ملازمت کے لیے کوئی اہل امریکی شہری دستیاب نہیں تھا۔ بل میں مزید سخت شرائط بھی شامل کی گئی ہیں جن کے مطابق ویزا ہولڈرز نہ تو ایک سے زائد ملازمت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے اہل خانہ کو امریکا لا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تربیتی پروگرام او پی ٹی کو ختم کرنے اور گرین کارڈ کے حصول کے راستے کو بھی مزید مشکل بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مقامی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔












