واشنگٹن (پاکستان نیوز)وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ جیمز کومی کو شمالی کیرولائنا کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دینے کے الزامات کے تحت باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کر دیا ہے۔ استغاثہ کا موقف ہے کہ جیمز کومی نے سوشل میڈیا پر سمندری سیپیوں کی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں ہندسوں کو اس ترتیب سے رکھا گیا تھا کہ وہ 86 47 کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔ قانونی ماہرین اور حکومتی حکام کے مطابق ان اعداد کا خفیہ مطلب صدر کو عہدے سے ہٹانے یا انہیں جسمانی نقصان پہنچانے کی ترغیب دینا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے 47 ویں صدر ہیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق سابق ڈائریکٹر پر بین ریاستی تجارت کے ذریعے دھمکی آمیز پیغام رسانی اور صدر کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کے تحت انہیں 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب جیمز کومی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ان اعداد کے پرتشدد مفہوم سے ناواقف تھے اور جب انہیں اس بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر وہ تصویر ہٹا دی تھی۔ یہ جیمز کومی کے خلاف موجودہ انتظامیہ کی جانب سے مقدمہ چلانے کی دوسری کوشش ہے جبکہ اس سے قبل ان کی بیٹی مورین کومی نے بھی وزارت انصاف سے اپنی برطرفی کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جیمز کومی ان کے اہم ترین ناقدین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کے قوانین کی موجودگی میں اس نوعیت کے مقدمے کو ثابت کرنا استغاثہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔












