لاس اینجلس (پاکستان نیوز)فلوریڈا میں دو بنگلادیشی طلبہ کے لرزہ خیز قتل کے مقدمے میں انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ملزم نے واردات سے قبل مصنوعی ذہانت کے ایک چیٹ بوٹ سے انسانی لاش کو ٹھکانے لگانے کے متعلق تفصیلی سوالات کیے تھے۔ مقتول جمیل لیمون جو کہ جغرافیہ اور ماحولیاتی سائنس میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ناہیدہ برسٹی جو کیمیکل انجینئرنگ کی طالبہ تھیں اس افسوسناک واقعے کا شکار ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس سنگین جرم کے شبے میں 26 سالہ ہشام صالح ابو غربہ کو حراست میں لیا ہے جو مبینہ طور پر مقتول جمیل لیمون کا ہم کمرہ ساتھی تھا۔ عدالتی دستاویزات سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ ملزم نے 13 اپریل کو ڈیجیٹل معاون سے پوچھا تھا کہ اگر کسی انسان کو کچرے کے تھیلے میں ڈال کر کوڑے دان میں پھینک دیا جائے تو کیا ہوگا اور جب اسے خبردار کیا گیا تو اس نے مزید یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکام کو اس کا پتہ کیسے چلے گا۔ تفتیش کے دوران ایک دوسرے ساتھی نے گواہی دی کہ اس نے ملزم کو کوڑے دان کے پاس مشکوک ڈبے منتقل کرتے دیکھا تھا جس کے بعد تلاشی کے دوران وہاں سے مقتول کا شناختی کارڈ اور دیگر سفری دستاویزات برآمد ہوئیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے نمونوں اور ڈی این اے کے تجزیے نے بھی ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں جہاں باورچی خانے سے ملنے والا جینیاتی مواد ناہیدہ برسٹی کے لاپتہ ہونے اور ان کی ممکنہ ہلاکت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ ناہیدہ کی لاش تاحال مکمل طور پر برآمد نہیں ہو سکی ہے تاہم غوطہ خوروں کی ٹیمیں ٹمپا کے قریبی پل کے اطراف سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں سے کچھ انسانی باقیات ملنے کی اطلاع ہے۔ ملزم نے ابتدائی طور پر تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور مقتولین سے کسی بھی قسم کے تعلق یا انہیں اپنی گاڑی میں بٹھانے سے انکار کیا مگر جغرافیائی مقام کے ڈیٹا اور تکنیکی شواہد کے سامنے آنے پر اس نے اپنا بیان بدل لیا۔ اس مقدمے نے تعلیمی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے اور مصنوعی ذہانت کے منفی استعمال سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












