واشنگٹن (پاکستان نیوز)فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی ایف بی آئی کے موجودہ سربراہ کاش پٹیل کے بارے میں ایک پرانا انکشافی خط سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماضی میں شراب نوشی سے متعلق دو مختلف واقعات میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھیالیس سالہ کاش پٹیل نے یہ انکشاف 2005 ء میں فلوریڈا بار میں اپنی درخواست کے ساتھ جمع کرائے گئے ایک خط میں کیا تھا۔ پٹیل نے اس خط میں لکھا کہ جب وہ یونیورسٹی آف رچمنڈ میں زیر تعلیم تھے تو انہیں ایک باسکٹ بال میچ کے دوران عوامی مقام پر نشے کی حالت میں پائے جانے پر گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت ان کی عمر قانونی حد سے کم تھی۔ دوسری گرفتاری نیویارک میں اس وقت ہوئی جب وہ قانون کے طالب علم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات دوستوں کے ساتھ جشن منانے اور شراب پینے کے بعد وہ سڑک پر نازیبا حرکت یعنی کھلے عام پیشاب کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اگرچہ کاش پٹیل ان واقعات کو اپنی عام زندگی کا حصہ نہیں مانتے لیکن حالیہ دنوں میں ان کے موجودہ طرز زندگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان کی سیکیورٹی ٹیم کو کئی بار انہیں جگانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بظاہر نشے میں دھت ہوتے تھے اور ایک بار تو ان کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے لیے خصوصی آلات بھی منگوائے گئے۔ ان الزامات کے بعد کاش پٹیل نے متعلقہ میڈیا ادارے کے خلاف 250 ملین ڈالر کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے جبکہ فروری میں اٹلی کے دورے کے دوران بھی ان کی کھلاڑیوں کے ساتھ شراب پینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔












