گرمیوںکی بہاریں!!!
امریکہ میں لوگ گرمیوں کی بہاروں کے منتظر رہتے ہیں اور نیویارک شہر میں دو ماہ کی یہ گرمیاں مختلف رنگ دکھاتی ہیں۔ کبھی شدید گرمی، طوفانی بارشیں اور بونداباندی ہوتی ہے تو کبھی موسم انتہائی خوشگوار ہو جاتا ہے۔ نیویارک کے رہائشی ہر حال میں ان ایام سے لطف اندوز ہونے کا مزاج رکھتے ہیں کیونکہ پورا سال شدید سردی میں گزرتا ہے اور ہر وقت گرم لباس، جوتوں، سویٹر اور جیکٹ کی فکر لگی رہتی ہے کہ مبادا موسم خراب ہو جائے۔ ایسے میں جب دو ماہ کے لیے اسکول بند ہوتے ہیں تو ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر دن کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔ غریب ہو یا امیر، چھوٹے ہوں یا بڑے، سبھی جوش و خروش سے یہ وقت گزارتے ہیں۔ لوگ ان دو مہینوں کو انتہائی قیمتی سمجھتے ہوئے اپنے اپنے انداز میں وقت بتاتے ہیں۔ سمندر کے کنارے بچے اور بڑے کھلے آسمان تلے سورج کی دھوپ سیکھتے نظر آتے ہیں، ایسا منظر سال بھر دیکھنے کو نہیں ملتا۔
شہر کے ساحلوں پر جہاں چہل پہل، ٹھیلے اور لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے، وہیں شہر سے دور بوستانِ سمندر پر بے شمار افراد دھوپ سیکھنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سال کے دس مہینے گرم کپڑوں کا بوجھ اٹھانے کے بعد لوگ ہلکے سے ہلکا لباس پہننا پسند کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلمان خواتین کو اکثر لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں جو شدید گرمی میں بھی عبایا اور حجاب پہن کر سڑکوں پر بلا کسی شکایت کے اپنے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں۔ وہ گھروں یا ٹھنڈے مقامات پر ہلکے لباس میں ہوں، لیکن باہر نکلتے وقت اپنے مذہبی پہناوے کا کامل اہتمام کرتی ہیں۔ ماضی میں امریکہ اور انگلینڈ جیسے ممالک میں یہ منظر غیر معمولی سمجھا جاتا تھا، مگر اب ان خواتین کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ معاشرہ اسے ان کا مذہبی پہناوا تسلیم کر چکا ہے۔
لوگوں کے اعتراضات اور انگلی اٹھانے کے باوجود یہ خواتین اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور اپنے دینی انتخاب پر قائم رہتی ہیں۔ گرمی، سردی، بارش یا طوفان ان کے عزم کو بدل نہیں سکا۔ گرمی کے موسم میں جہاں بچوں کی تفریح ہوتی ہے، وہیں والدین بھی ذہنی طور پر تروتازہ ہو جاتے ہیں کیونکہ بچوں کو جلدی سلانے یا اٹھانے کی فکر ختم ہو جاتی ہے۔ کھیل کود کے مقامات، میوزیم، پارک اور لائبریریاں بچوں کے لیے بہترین انتظامات فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ سال بھر کا تعلیمی بوجھ اتار پھینکیں۔
اس موسم میں نیویارک ایک متنوع اور متحرک جگہ بن جاتا ہے جہاں ہر ثقافت کے لوگ اور تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ ہر بلاک پر شام کے وقت روایتی کھانے اور دیگر سرگرمیاں میسر ہوتی ہیں جن کے لیے گاڑی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور لوگ پیدل ہی بچوں کے ساتھ نکل پڑتے ہیں۔ یہ تمام سہولیات ان تمام افراد کے لیے ایک بڑی نعمت ہیں جو دور دراز علاقوں کی سیر کے لیے نہیں جا سکتے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ان وسیع انتظامات کے بعد اب یہ تمام تر ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کتنا معیاری وقت دیتے ہیں۔












