جمہوریت کا فریب اور انتظامی بحران کے تلخ حقائق

0
2
جاوید رانا

پاکستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک اور پیچیدہ ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ملکی سیاست، معیشت اور معاشرتی ڈھانچہ ایک ایسی دھند میں گم ہو چکا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دشوار نظر آتا ہے۔ حال ہی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان سامنے آیا تو ملک کے فکری اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا۔ اگرچہ ان کا موقف کئی پہلوؤں سے معروضی حقائق کی نشاندہی کرتا ہے، مگر اس تباہی کی تمام تر ذمہ داری صرف موجودہ صورت حال پر ڈال دینا ناانصافی ہوگی۔ موجودہ ابتر حالت کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں، سیاسی بے تدبیری اور جمہوری اقدار کی پامالی کا تسلسل ہے۔
اس معاشی و انتظامی نہج تک پہنچنے میں جہاں سیاست دانوں نے اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو مقدم رکھا، وہاں عسکری قیادت بھی اپنے تاریخی کردار سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ملک میں جب بھی جمہوری عمل نے پنپنے کی کوشش کی، غیر سیاسی اور طاقتور قوتوں نے اس میں مداخلت کرکے آئینی و سیاسی تسلسل کو مفلوج کیا۔ دوسری جانب نام نہاد جمہوری جماعتوں نے بھی جمہوریت کو محض اقتدار کے حصول اور خاندانی بادشاہت کے قیام کا ذریعہ بنایا۔ نسلی، لسانی اور خاندانی بنیادوں پر قائم یہ سیاسی ٹولے کس منہ سے جمہوریت کے پاسبان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ جو جماعتیں اپنے اندرونی نظام میں انتخاب کی جگہ نامزدگی اور موروثیت کو فروغ دیتی ہوں، وہ ملک میں شفاف جمہوریت کیسے قائم کر سکتی ہیں؟
سچائی یہ ہے کہ برصغیر اور تیسری دنیا کے ان ممالک میں جہاں عوام کی اکثریت تعلیم اور فکری شعور سے محروم ہے، وہاں مغربی طرز کا جمہوری نظام ہمیشہ سے ناکام ثابت ہوا ہے۔ مغربی ممالک میں عوامی ترجیحات کا تعین کارکردگی، پروگرام اور فکری صلاحیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، جبکہ ہمارے جیسے معاشرے میں ووٹ کی بنیاد ذات پات، برادری، لسانیت اور تعصبات پر رکھی جاتی ہے۔ جب دس سے پندرہ فیصد باشعور، تجربہ کار اور دردِ دل رکھنے والے شہریوں کا فیصلہ، نوے فیصد ان پڑھ اور کم فہم ہجوم کے زیر اثر آ جائے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ زبانوں اور ذاتوں میں تقسیم قوم نہیں بلکہ صرف ایک ہجوم کہلاتی ہے، اور ہجوم کبھی معاشی یا سیاسی ترقّی کا حامل نہیں ہو سکتا۔
ہم نے اسلامی نظام سیاست کے بنیادی اصول، یعنی شوریٰ، تقویٰ، اور قابلیت کے معیار کو ترک کرکے ایک ایسا مصنوعی جمہوری نظام مستعار لیا جو ہمارے معاشرتی مزاج سے مطابقت ہی نہیں رکھتا۔ اسلامی طرزِ حکومت میں قیادت کا انتخاب تقویٰ اور بہترین صلاحیت کے حامل افراد کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جبکہ مغربی ووٹنگ سسٹم محض سروں کو گنتا ہے، انہیں تولتا نہیں۔ اسی بنیادی غلطی کا نتیجہ ہے کہ آج کرپٹ، نااہل اور مفاد پرست عناصر عوامی نمائندے بن کر ایوانوں میں براجمان ہیںاور نہ صرف آپس میں تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں بلکہ انہی کے نفرت انگیز انداز سیاست اور بیانات کی وجہ سے پاکستانی بھی علاقائی، لسانی بنیادوں اور ذات برادری میں تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ہر علاقے چاہے وہ بلوچستان ہو، جنوبی پنجاب ہو، کشمیر ہو، خیبر پختونخواہ ہو یا پھر سندھ کے پس ماندہ علاقوں میں سراٹھاتی علیحدگی کی تحریکیں ہو یا احتجاجی مظاہرے، یہ سلسلے ہر آنیوالے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے اور حالات مزید سے مزید ابتر ہوتے جائیں گے۔
اگر اس المیے سے نجات حاصل کرنی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی، خاندانی اور وقتی مفادات کی قربانی دینا ہوگی۔ تمام اداروں کو آئینی حدوں میں رہ کر کام کرنا ہوگا اور عسکری تسلسل کے اثرات کو ختم کرنا ہوگا۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنے بچوں، رشتے داروں اور من پسند افراد کی فہرستوں سے باہر نکل کر صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر نئے لوگوں کو آگے لانے کی راہ ہموار نہیں کریں گی، حالات میں کوئی بہتری ممکن نہیں۔ الیکشن میں پارٹی فنڈز اور ٹکٹوں کی خریدو فروخت کا جو گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے، اس پر مکمل اور سخت پابندی عائد ہونی چاہیے۔
اگر یہ بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو ہر دس پندرہ سال بعد ایک نیا محسن نقوی آئے گا اور اسی بربادی کا رونا روئے گا۔ چاہے صوبوں کی تعداد چار سے بڑھا کر پچاس ہی کیوں نہ کر دی جائے، انتظامی اور معاشی اصلاحات کے بغیر مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جائیں گے۔ مسائل کا حل حدود کی تبدیلی میں نہیں بلکہ نیت، بصیرت اور قابل قیادت کے انتخاب میں پنہاں ہے۔
شاید اسی تناظر میں شاعر مشرق نے آٹھ دہائیا ںقبل کہا تھا
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here