قارئین کرام کو السلام علیکم۔
آج کا موضوع دنیا کے ہر صاحبِ اولاد گھرانے کا ایک خاص مسئلہ ہے اور یہ مضمون زندگی کے عملی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالکریم بکار ایک نامور شامی مفکر ہیں جو اپنے منفرد مقالات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ چالیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور سعودی عرب کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ والدین کو اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ تربیت گاہیں ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں گی، بلکہ انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں اگر والدین گھروں میں کچھ ایسے ضوابط قائم کریں جن پر عمل سے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہو تو یہ ایک بہترین قدم ہوگا۔
والدین ان ضوابط کو حسبِ ضرورت اختیار کر سکتے ہیں یا ان میں ترمیم و اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ گھر کا ہر فرد نماز وقت پر ادا کرے اور مہربانی نیز جزاک اللہ جیسے کلمات بنیادی گفتگو کا حصہ ہوں جن سے کوئی استثنا حاصل نہ ہو۔ گھر میں مار پیٹ، گالم گلوچ یا لعن طعن کی بالکل اجازت نہ ہو اور ہر شخص اپنے محسوسات اور خیالات ادب و احترام کے ساتھ بیان کرے۔ جو فرد کسی چیز مثلاً دروازہ، کھڑکی یا ڈبہ کھولے تو اسے بند بھی کرے، جبکہ کچھ گر جائے تو اسے اٹھا کر جگہ صاف کرے۔ ہر فرد کا کمرہ خالصتاً اس کی اپنی ذمہ داری ہے اور کسی کی بات کو ٹوکے بغیر مکمل سنا جائے گا۔ دوسروں کے سامنے اتنے دھیمے لہجے میں بات نہ کی جائے کہ کوئی سن ہی نہ سکے اور گھر کے بزرگوں یا والدین کے مشورے و حکم کو تسلیم کیا جائے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرنا لازمی ہو اور ہر فرد روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرے۔ گھر انے والے مہمان بھی ان قوانین کا احترام کریں اور کوئی بھی فرد کمروں میں کھانے پینے سے گریز کرے۔ رات 10:00 بجے کے بعد کوئی بیدار نہ رہے اور فجر سے پہلے تمام بچوں اور بڑوں کا جاگنا ضروری ہو۔ سمارٹ فون اور ڈیوائسز کا استعمال صبح 9:00am سے رات 9:00pm کے درمیان کیا جا سکتا ہے، جبکہ مسلسل 15 منٹ کے استعمال کے بعد 1 گھنٹے کا وقفہ لازمی ہوگا اور رات 10:00 بجے کے بعد کسی تعلیمی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ والدین کا احترام بے حد ضروری ہوگا اور ایک ساتھ بیٹھنے کا وقت طے کیا جائے گا جس میں تمام مواصلاتی ڈیوائسز کا استعمال ممنوع ہوگا۔ کھانے کے وقت تمام افراد کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی اور تمام افراد گھر اور اس میں موجود اشیائ کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ اپنا کام ہر شخص خود کرے اور دوسروں پر حکم نہ چلائے، البتہ گھر کے سربراہ اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں۔ خاندان کی ضروریات دیگر تمام امور پر مقدم ہوں گی اور کسی کے کمرے یا تنہائی کی جگہ پر بغیر اجازت و دستک داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مہمان کے آنے پر خوش دلی سے استقبال کیا جائے اور ان کی خاطر تواضع کی جائے کیونکہ مہمان اپنے ساتھ اللہ کی رحمت لاتا ہے۔
اولاد کی تربیت ایک مسلسل عمل ہے جسے ہفتے کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے انجام دینا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر اولاد کو قرآن کریم کی سورہ نب?، سورہ واقعہ، سورہ یٰسین اور سورہ کہف حفظ کرا دی جائیں تو ان کے مستقبل کی جانب سے اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت اس مضمون کے انگریزی ترجمے پر کام جاری ہے تاکہ وہ بچے بھی اس سے مستفید ہو سکیں جو اردو سے ناآشنا ہیں۔
معاشرے کی تعمیر میں تربیتِ اولاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بچوں کی تربیت ایک اہم ترین عمل ہے جو بچے کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ زوجین کے لیے شادی سے قبل ازدواجی امور کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت کے اصول سیکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ معاشرہ مختلف ماحول کے مجموعے کا نام ہے جو ہر گھر، دفتر، ادارے اور مارکیٹ سے تشکیل پاتا ہے، اس لیے اگر ہر فرد اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے امور کی اصلاح کر لے تو باقی امور خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ گلی محلوں کی اصلاح اور معاشرتی بہتری کے لیے ہر شخص فکر مند ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے گھر اور اپنی اولاد کی تربیت کے لیے کتنا فکر مند ہے۔ آج کے دور میں متعدد والدین اس بات سے ناواقف ہیں کہ انہیں اپنی اولاد کو کس سمت میں لے جانا ہے اور معاشرے میں ان کا کیا کردار قائم کرنا ہے۔ چند تعلیمی مراحل طے کر لینا آخری منزل نہیں بلکہ یہ آگے بڑھنے کے لیے ایک قدم ہے۔ بچے اللہ کی نعمت اور امانت ہیں اور اس امانت کا حق ادا کرنے کا طریقہ سیکھنا ضروری ہے۔ سورة لقمان کے دوسرے رکوع کی روشنی میں قرآنی ہدایات کو بچپن ہی سے بچوں کی شخصیت میں اس طرح راسخ کر دینا چاہیے کہ وہ تمام عمر ان کا حصہ رہیں۔ اس مقصد کے لیے والدین، بالخصوص والد کا اپنی اولاد کو وقت دینا نہایت ضروری ہے کیونکہ محض مادی وسائل فراہم کرنا کافی نہیں ہوتا۔
قرآنی ہدایات کے مطابق سب سے پہلے عقیدہ توحید یعنی ایمان کی تربیت ضروری ہے تاکہ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کا یقین پختہ ہو جائے۔ اس کے بعد حقوق العباد کی تربیت کے تحت والدین کا ادب، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت اور اقارب، اساتذہ و پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سکھایا جائے۔ عقیدہ آخرت کی تربیت کے ذریعے بچے میں احساسِ جواب دہی پیدا کیا جائے تاکہ اسے یقین ہو کہ کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی اور کوئی گناہ اللہ سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ آدابِ زندگی کے حوالے سے نماز اور عبادات کا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طہارت و وضو کے مسائل سکھائے جائیں، بچے کے اندر امت کا درد اور نیکی پھیلانے کا جذبہ پیدا کیا جائے، اور اسے مشکلات پر صبر و استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا سکھایا جائے۔
اس کے علاوہ اخلاقی زندگی کے بارے میں ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگوں سے میل جول میں تواضع، بشاشت اور خوش اخلاقی اختیار کی جائے اور تکبر سے بچا جائے۔ کردار اور رویے میں وقار قائم رکھا جائے تاکہ کامیابی پر غرور اور ناکامی پر بے صبری غالب نہ آئے، اپنی ضروریات اور خواہشات میں اعتدال و میانہ روی اپنائی جائے، اور گفتگو میں نرمی، شائستگی اور متوازن لہجہ اختیار کیا جائے کیونکہ حقیقی رہنمائی وہی ہے جو وقار اور حکمت کے ساتھ دلوں میں اتر جائے۔ اولاد کو محض اشیاء کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انہیں اپنے والدین کے وقت، توجہ، رہنمائی اور محبت کی حاجت ہوتی ہے، اور گھر کی اصلاح ہی دراصل معاشرے کی اصلاح کی جانب پہلا قدم ہے۔








