فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! سالانہ عرس مجدداعظم، امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت احمد رضا رضی اللہ عنہ کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ یقیناً آپ شیخ الاسلام والمسلمین، قاطع بدعت، حامی ٔسنت اور قادیانیت و رافضیت اور ناصبید کاردّ بلیغ فرمانے والے اہل اسلام کے محسن ہیں۔ مرکز اہل سنت آستانہ عالیہ محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ پر قائد ملت اسلامیہ، پیرطریقت، رہبر شریعت صاحبزادہ قاضی محمد فیض رسول حیدر قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدّث اعظم پاکستان کی زیر سرپرستی25صفر المظفر بروز اتوار بمطابق 9 اگست کو ہر سال کی طرح دھوم دھام سے منایا جانے والا عرس پاک اہل سنت وجماعت کا نمائندہ پروگرام ہوتا ہے جس میں پوری دنیا سے علماء ومشائخ اور عوام اہل سنت شرکت کرتے ہیں اور حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی خدمات دینیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ اردو زبان میں جب کبھی ”آں حضرت” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے سرکار ختمی مرتبت کا وجود باجود ذہن میں آجاتا ہے۔ اور جب اعلیٰ حضرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے سرکارۖ کے غلام اور اہل سنت وجماعت کے امام ”احمد رضا” کا نام سامنے آجاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ مقام امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کو ان کے ماننے والوں کی خوش عقیدگی سے نہیں ملا بلکہ یہ ان کے منافی الرسولۖ اور ایک ہمہ جہت شخصیت ہونے کا فیضان ہے۔ برصغیر میں یوں تو کئی جامع الصفات شخصیات گزری ہیں۔ مگر جب ایک غیر جانبدار مبصران سب کا جائزہ لیتا ہے تو جیسی ہمہ صفت موصوف امام احمد رضا کی نظر آئی ہے ویسی کوئی دوسری نظر نہیں آتی۔ کون سا علم تھا جس پر انہیں دسترس حاصل نہیں تھی۔ تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، ہندسہ، ریاضی، سائنس، فلسفہ، علم ہیئت، جفر، طبعیات، کیمیا، اقتصادیات، ارضیات، طب، جغرافیہ، تاریخ سیاسیات، علم مناظرہ، منطق، جبرومقابلہ، صرف، نحو، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم صنائع، قرآت، تجوید، تصوف، سلوک، لغت، شاعری، ادب، خط نستعلیق وغیرہ ہزاروں علوم ظاہری وباطنی پر آپ رضی اللہ عنہ کو دسترس حاصل تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ بیک وقت ایک ادیب، خطیب، مناظر، متکلم، محدّث، مفسّر، فقیہ، مفتی اور سیاست دان بھی تھے۔ آپ کے لئے یہ شعر بالکل درست ہے!
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
حیدر آباد کے ایک مسلمان بھائی کا بیان ہے کہ1990ء کی بات ہے بدعقیدگی نے ہمارے خاندان میں اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے۔ میں خود تذبذب کا شکار تھا کہ کون ساگروہ سیدھے راستے پر ہے۔ ایک رات میں نے سخت پریشانی کے عالم میں یہ دعا کی ”یااللہ عزّوجلّ مجھے صحیح عقیدے اپنانے کی توفیق عطا فرما” اس کے بعد میں سو گیا۔ سر کی آنکھیں تو کیا بند ہوئیں میرے دل کی آنکھیں کھل گئیں۔ مجھے پیارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰۖ کا دیدار نصیب ہوگیا۔ قریب ہی امام احمد رضا رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ نبی پاکۖ نے اشارہ فرما کر فرمایا کہ ان کا دامن مضبوطی سے تھام لو۔ یہ تمہارے مسلک کے امام ہیں۔ تو تب سے میں نے عقیدہ اہل سنت کو باقاعدہ اختیار کیا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ عاشقوں کے امام ہیں۔
پھر تصانیف کو دیکھا جائے تو ہزاروں کتب آپ رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمائی ہیں۔ فتاویٰ جات تو لاکھوں ہیں کیونکہ جب بھی کسی مفتی صاحب کو کسی مسئلہ میں دِقّت پیش ہوئی وہ مسئلہ بھی آپ کی بہارگاہ اقدس سے حل ہوتا۔ عوام الناس کا تو کیا کہنا؟ پھر آپ کا دین سے شوق دیکھئے کہ مسائل کو صرصری طور پر حل نہیں فرمایا بلکہ ایک ایک مسئلہ پر پوری کتاب تحریر فرما دی۔ اور دلائل کا انبار لگا دیا۔ آپ صرف لائنیں پروی نہیں فرماتے تھے بلکہ اوراق کو دلائل وبراہین کے حسن سے مزین فرماتے تھے۔ آپ کا فتاویٰ رضویہ شریف آج بھی اس بات کی گواہی پیش کر رہا ہے۔ اور پھر دوسرے مصنفین کی لکھی ہوئی ہزاروں کتابیں آپ کے لکھے ہوئے ایک مسئلہ کے جواب کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں۔ بہرحال اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ اہل ایمان کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس نعمت کا جس قدر بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے چار ماہ بائیس دن پہلے خود اپنے وصال کی خبر دے کر سورہ دھر کی ایک آیت کے کچھ حصہ سے سال وفات کا استخراج فرمایا تھا۔ سورہ دھر آیت نمبر15 ہے۔ ٢٥ صظفر المظفر ١٣٤ھ بمطابق١٩٢١ کو جمعتہ المبارک کے دن مئوذن علی الفلاح پر اذان پڑھتے ہوئے پہنچا تو آپ نے جان جان آفرین کے سپرد کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجے بلند فرمائے۔ اور ہمیں آپ کے فیض سے زیادہ سے زیادہ مستفیض فرمائے۔(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭








