بیشتر اسلامی ممالک جن کی نمائندگی ورلڈ کپ میں ہورہی ہیںآیا شکست سے دوچار ہوچکی ہیں یا امروز فردا میں ہوجائینگی۔ البتہ چند ایسی ٹیمیں ہیں جنہیں اتفاقا”فتح نصیب ہوگئی ہے اور جس کا جشن اُن کے ملکوں میں زور شور سے منایا جارہا ہے۔ اُن میں گھانا نے پاناما کو کل شب شکست دے کے اپنا حصہ بنا لیا ہے۔ گذشتہ بدھ کی شب گھانا نے میچ کے آخری منٹ میں ایک کامیاب گول کرکے سبھوں کو حیران کردیا۔ یہ گول اِس لحاظ سے اہم ہے کہ پاناما جو سینٹرل امریکا میں واقع ہے فٹ بال کے کھیل کی ضمن میں انتہائی مشہور ہے اور جو وہاں کا ایک مقبول ترین کھیل ہے اور پابندی سے اپنے پڑوسی ملکوں سے اِس کا مقابلہ کرتا رہتا ہے۔ تاہم گھانا کے کھلاڑی صحت کے لحاظ سے سب کے سب باڈی بلڈرز معلوم ہوتے ہیں اور تیز دوڑنے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے اور یہی خاصیت گذشتہ شب اُن کی جیت کی وجہ بنی۔
درحقیقت میچ ختم ہوچکا تھا لیکن اسٹاپیج ٹائم جاری تھا اور جس میں گھانا کے ایک کھلاڑی غالب ییلیری کو ایک پاس ملا اور جو اُسے تیزی سے لے کر پاناماٹیم کے گول کیپر تک پہنچ گیا ، جہاں اُس نے دوسرے کھلاڑی کو پاس دیا جو بال کو لے کر گول کے نیٹ کے اندر چلا گیا۔
گھانا کو تو ایک اسلامی ملک نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی صرف 20 فیصد ہے، جبکہ باقی دوسرے مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔34 ملین کی آبادی کا ملک جہاں کے 29 فیصد افراد کی عمر 15 سال سے کم کی ہے۔
سعودی عرب اپنے میچ کو یور اگوئے سے مقابلے میں برابر رکھ کر ایک اہم کام کیا ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں وہ کیسا کھیل پیش کرتا ہے۔ فٹ بال سعودی عرب کا ایک انتہائی ہردلعزیز کھیل ہے جو وہاں کی آبادی کے کلچر سے ہم آہنگ ہوگیا ہے۔ سعودی حکومت اِس کھیل پر حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے ، اور مزید برآں سال 2030 ئ میں فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب میں منعقد کرانے کی خواہشمند ہے۔ سعودی عرب کی تین ٹیمیں جو بین الاقوامی طور پر مشہور ہیں ، اُن میں الہلال، القیصر اور الاتحاد ہیں ۔
قطر کا سوئٹزر لینڈ کے ساتھ میچ کا برابر رکھنا اور پھر اچانک گذشتہ جمعرات کے دِن کینیڈا سے چھ گول سے شکست کھا جانا اُس کی ساکھ کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک ملک جو گذشتہ ورلڈ کپ کے منعقد کرانے اور انتہائی کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے کس طرح ایک انتہائی پست کھیل کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ دراصل قطر کے ساتھ کینیڈا کا کھیل اُس کے فینز کیلئے اتنا شرمندگی کا باعث تھا کہ بہت سارے لوگوں نے اپنے ٹی وی کو بند کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ میچ شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی بال قطر کی سائڈ میں منڈلانا شروع ہوگیا اور یکے بعد دیگر گول ہونا شروع ہوگئے۔ قطر کے ایک کھلاڑی نے کِک مار کر کینیڈا کے کھلاڑی کی ٹانگ کو اتنا زیادہ زخمی کردیا تھا کہ اُسے اسٹریچر پر فیلڈ سے باہر جانا پڑا۔ ریفری نے قطر کے کھلاڑی کو پینالٹی کے کارڈ سے نواز دیا۔ یہ قطر کیلئے دوسرا ریڈ کارڈ تھا اور جس کی وجہ کر قطر کی ٹیم 9 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہوگئی۔ پتا نہیں قطر کے شیخوں اور وہاں کے ارباب حل وعقد نے اپنی ٹیم کو مناسب تربیت ، مطلوبہ غذائیں اور کامیاب سیلکشن سے کیوں دور رکھا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ یہ ٹیم قطر کی نہیں بلکہ پاکستان کی ہو۔
قطر واحد ملک نہیں جس کے ماتھے پر چھ گول کا ٹیکہ جلوہ افروز ہے ، بلکہ ایک دوسرا ملک کورا سائو جسے جرمنی نے 7 گول سے شکست دے کر اُس کے سارے سنہرے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔ کوراسائو ورلڈ کپ کا سب سے کم آبادی والا ملک ہے جس کی کُل آبادی دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ لیکن اِس چھوٹی آبادی والے ملک نے اپنے سارے پڑوسی ملک کو شکست دے کر ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہوا لیکن اب میچ کے شروع ہوتے ہی شکست پر شکست کھا رہا ہے۔













