فاردرذ ڈے!!!

0
4
رعنا کوثر
رعنا کوثر

فاردرذ ڈے!!!

آج پیر کا دن ہے اور گزشتہ روز اتوار 21 جون فادرز ڈے تھا۔ امریکہ میں ماؤں اور باپوں کے احترام کے یہ مخصوص دن انتہائی اہمیت کے حامل مانے جاتے ہیں۔ جب ہم ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئے تو اکثر یہ سوچا کرتے تھے کہ ان مخصوص دنوں کی کیا تک ہے کیونکہ والدین کی خدمت اور محبت تو روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب ماں باپ ہر وقت پاس ہوں تو ان کے ساتھ رہا جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور ان کی خدمت کے لیے کسی خاص دن کا انتظار نہ کیا جائے۔ اولاد کا اصل تحفہ تو یہ ہے کہ وہ روزانہ والدین کو کھانا بنا کر دے، ان سے تسلی سے باتیں کرے، انہیں معالج کے پاس لے جائے اور اسی طرح والد کے کپڑے استری کرنے اور چائے بنانے جیسے چھوٹے بڑے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ اگر اولاد کے پاس ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانے کا وقت اور مروجہ ماحول میسر ہو تو یقیناً ایسے مخصوص دنوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
تاہم امریکہ آنیوالے خاندانوں کو جلد ہی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہاں کا طرزِ زندگی بالکل مختلف ہے۔ چھوٹے بچوں کی حد تک تو والدین ہر وقت ان کے ساتھ بندھے رہتے ہیں لیکن جوں ہی بچے اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کر کے کالجوں میں داخل ہوتے ہیں، تو امتحانات اور ملازمتوں کی مصروفیات انہیں شدید مصروف کر دیتی ہیں۔ اگر وہ اعلیٰ تعلیم یا پیشہ ورانہ ڈگریوں کے لیے کسی دوسرے ملک یا ریاست میں چلے جائیں تو والدین سے رابطہ صرف فون تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد جب عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے تو ملازمت کی سختیاں وقت کی مزید کمی کا باعث بنتی ہیں۔ یہاں کے معاشرتی مزاج کے مطابق بچے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، وہ والدین کے گھر کے حجم سے قطع نظر اپنے لیے الگ رہائش گاہ کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ صورتحال تقریباً ہر دوسرے خاندان کے ساتھ پیش آتی ہے جہاں بچوں کی نجی و پیشہ ورانہ مصروفیات اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ وہ چاہ کر بھی والدین کی اس طرح خدمت نہیں کر پاتے جس کا تصور ہمارے مشرقی معاشروں میں کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں بچوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ یہ یہاں کے ثقافتی ماحول، پڑھائی کے دباؤ اور شدید مسابقت کا نتیجہ ہے جو پاکستان کے روایتی ماحول سے بالکل مختلف ہے۔ اس مادی دنیا میں تعلیمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی جدوجہد انسان کو ایک مشینی زندگی کا حصہ بنا دیتی ہے۔ اس تیز رفتار ماحول میں اچھے سے اچھا، فرمانبردار اور درد مند دل رکھنے والا بچہ بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر والدین کو وہ مطلوبہ وقت نہیں دے پاتا جو ان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث مغربی معاشرے میں ماؤں اور باپوں کے عالمی دن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ ان مخصوص دنوں پر بچے اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر والدین کے پاس پہنچتے ہیں، ان کے لیے پسندیدہ پکوان تیار کرتے ہیں یا انہیں باہر لے جا کر کھانا کھلاتے ہیں۔ وہ انہیں خوبصورت تحائف پیش کرتے ہیں اور پھولوں سے ان کے گھروں کو سجا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن دراصل ان کی یکسر مصروف زندگی میں خوشی کے چند لمحات بکھیرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بنتا ہے۔
اب یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اگرچہ ہر دن ہی ماں اور باپ کی خدمت اور تکریم کا دن ہوتا ہے، لیکن جب حالات اور ماحول انسان کو بے حد مصروف کر دیں تو ایسے مخصوص ایام ہی وہ واحد موقع ہوتے ہیں جب اولاد اپنی دبی ہوئی خواہشات کو عملی جامہ پہنا کر والدین کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب یا معاشرہ ایسا نہیں ہے جو والدین سے محبت اور ان کے احترام کا درس نہ دیتا ہو۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے دل سے خود بخود پھوٹتا ہے اور ہر بچہ اپنے بزرگوں کے لیے وقت نکالنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ خود والدین ہی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو کامیابی کی بلندیوں پر دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور کے کامیاب بچے اگر اپنی زندگی کی دوڑ میں بے انتہا مصروف ہو چکے ہیں، تو امریکی معاشرت میں رہتے ہوئے والدین کو انہی مخصوص دنوں کی خوشیوں پر سمجھوتہ کر لینا چاہیے کیونکہ یہی ان کی محبت کا متبادل اظہار بن چکے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here