ہمارے گزشتہ کالم ادھوری کامیابی کو ہمارے قارئین نے تو حسب معمول پذیرائی بخشی ہی ہے الحمد اللہ پاکستان کے ڈپلومیٹک حلقوں نے باالخصوص آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور بھارت کی پروردگی سے فیضیاب ہونیوالی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کردار پر ہمارے تجزئیے کو سراہا ہے جس کیلئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وطن عزیز کو درپیش معاملات ہوں یا عالمی امور و حالات، ہمارا مطمع نظر یہی رہا ہے کہ غیر جانبداری سے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا نکتۂ نظر پیش کر سکیں اور وطن عزیز کے ناطے صائب رائے و مشورہ دے سکیں، بقول شاعر ”ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے”۔ اپنے گزشتہ کالم میں ہم نے جہاں ایران و امریکہ کے درمیان نزاعی کیفیت کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کی تھیں وہیں آزاد کشمیر میں برپا ہونیوالی شورش کے حوالے سے بھارتی شیطنیت و پاکستان دشمن کردار کے سبب عرض کیا تھا کہ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ کالعدم قرار دے کر مذاکرات سے حکومتی گریز کسی بھی طرح نہ پاکستان کے حق میں جائیگا نہ ہی جموں و کشمیر کی آزادی و استصواب کے حق میں ہے بلکہ بھارت کے مکروہ مقاصد کیلئے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت اسرائیل اور افغانستان کے پاکستان دشمن گٹھ جوڑ کے سبب وطن عزیز ان کی پراکسیز سے نبرد آزما ہے اور پاکستان ان کے دانت کھٹے کر رہا ہے لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ اس حوالے سے ہمیں وطن کے بیٹوں کی شہادتوں کیساتھ معاشی و معاشرتی کس قدر قربانیاں دینی پڑ رہی ہیں۔ آزادکشمیر کا معاملہ بڑھنے سے نہ صرف ہماری سلامتی کو ہمارے دشمنوں کی جانب سے مزید خطرات بڑھ سکتے ہیں بلکہ ریاست اور امن کی صورتحال کے سوال بھی سامنے آسکتے ہیں۔ اس سچائی میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے عساکر دشمنوں اور سازشوں کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی تو سوچا جائے کہ ایران امریکہ کے 47 برسوں کے تنازعے میں اگر مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے صلح جوئی ہو سکتی ہے تو اپنے گھر میں مذاکرات کے ذریعے صلح و امن پر آنا کیوں نہیں۔ ہمیں اس با ت پر نیز ساری قوم کو فخر ہے کہ نصف صدی پر محیط ایران امریکہ تنازع کے حل کیلئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ہماری سیاسی و عسکری قیادت کا ثالثی و مصالحانہ کردار ساری دنیا سراہ رہی ہے۔ 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری اور تعطل پر پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین کی کاوشوں سے مشترکہ اعلامیہ کا اجراء تحسین و کامیابی کا مظہر ہے۔
قارئین اعلامیہ کے اجراء اور اس کی تفصیل و شقوں سے بخوبی بذریعہ میڈیا واقف ہو چکے ہیں تاہم اکناف عالم میں پاکستان کو جہاں ایک جانب امن پسند ریاست کی سند دی جا رہی ہے وہیں اسپوائیلر اسرائیل وبھارت کو ذلت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ آنے والے وقت میں اس معاہدے کے کیا نتائج و اثرات ہوتے ہیں، اس سے قطع نظریہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت مذاکرات کا راستہ بخوبی اور کامیابی سے استوار کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت اور سیاسی اشرافیہ اس راستے کو وطن عزیز اور عوام کے امن و سکون، خوشحالی اور نزاعی معاملات کو نپٹانے کیلئے کیوں نہیں اپنا سکتیں؟ کیا محض اس لئے کہ بوجوہ معاملات کا تعلق ذاتیات، رقابت، اقتدار اور اغراض و مفادات کی بنیاد پر ہے اور اس وجہ سے کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں خواہ با اختیار و مقتدرین ہوں یا مخالفین، سچ تو یہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی معاشرتی، اخلاقی اور سماجی حوالوں سے مفادات و خود پسندی کے بھنور میں محصور ہے اور ملک و قوم، قانون و انصاف اور سچائی کو اپنے لئے غیر ضروری سمجھتا ہے، یہ حالات کسی بھی ملک یا قوم کے انحطاط کا سبب تو بن سکتے ہیں ترقی یا خوشحالی کا سبب نہیں ہو سکتے۔ دیگر اکناف میں ثالثی، اعانت، صلح و عافیت بہت اچھی بات ہے لیکن اپنے وطن کی عافیت، سالمیت اور امن و خوشحالی فرض عین ہے۔ صرف اتنا ہی کہنا تھا کیونکہ کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔
٭٭٭٭٭٭٭














