محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ تیزی سے بدلتی دنیا اور اس کے بدلتے رنگ اب جو منظر پیش کر رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ حال ہی میں بہت سی ایسی کہانیاں سامنے آئی ہیں جن کو بیان کرنا انسانی دل و جگر کے بس کی بات نہیں۔ یہ دل دہلا دینے والی کہانی محمد اقبال خان صاحب نے شیئر کی ہے جس کو پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ سیالکوٹ کے نواح میں پیش آیا جہاں ایک عورت اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ ایک ڈیرے پر رہائش پذیر تھی۔ شوہر روزانہ صبح کام پر چلا جاتا تھا اور وہ سارا دن بچوں کے ساتھ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اسی دوران اس عورت کے تعلقات زمیندار کے بیٹے کے ساتھ قائم ہو گئے اور یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ ایک روز 16 سالہ بیٹی نے ماں کو اس کے آشنا کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھ لیا اور احتجاجاً کہا کہ وہ یہ سب اپنے ابو کو بتائے گی۔ عورت نے اس وقت بیٹی کو پیار، محبت، پیسے اور چیزوں کا لالچ دے کر خاموش کرا دیا مگر اب یہ لڑکی ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی تھی کیونکہ جب بھی اس کا عاشق گھر آتا، لڑکی وہاں سے ہٹنے کا نام نہ لیتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا کہ عورت اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ تائب ہو جاتی مگر ہوس اور بے چارگی نے اسے سنگدل بنا دیا اور وہ اپنے عاشق کے ساتھ مل کر بیٹی کو راستے سے ہٹانے کے منصوبے بنانے لگی۔ ایک روز وہ اپنی بیٹی کو بہانے سے نزدیکی قبرستان لے گئی جہاں کسی کے آنے جانے کا کوئی امکان نہ تھا اور وہاں اس کا عاشق پہلے سے موجود تھا۔ دونوں نے مل کر لڑکی کو دبوچ لیا اور اینٹوں کے وار سے اس معصوم کلی کو کچل ڈالا۔ اتفاق سے پانچ سالہ چھوٹا بیٹا بھی ماں اور بہن کے پیچھے قبرستان آگیا تھا اور جب اس نے یہ سارا خوفناک منظر دیکھا تو وہ چیخ و پکار کرنے لگا۔ شیطان تو پہلے ہی ان پر سوار تھا، چنانچہ ماں نے اپنے اس معصوم بچے کو بھی پکڑ لیا اور عاشق کے ساتھ مل کر اسے بھی بے دردی سے قتل کر ڈالا۔ اس ہولناک جرم کے بعد عاشق موقع سے فرار ہو گیا جبکہ عورت واپس گھر آگئی۔ گھر آکر اس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ اس کے دونوں بچے غائب ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی انہیں اغوا کر کے لے گیا ہے۔ جب شوہر گھر آیا تو عورت نے اسے بھی یہی اطلاع دی جس کے بعد مقامی مسجدوں میں اعلانات ہونے لگے اور بچوں کی تلاش شروع ہوئی۔ تھوڑی ہی دیر میں خبر آئی کہ دونوں بچوں کی لاشیں قبرستان میں پڑی ہیں، یہ سن کر اس بے رحم ماں نے رونے، چیخنے اور بین ڈالنے کی ایسی اداکاری کی کہ وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہو گئی۔ قصہ مختصر، پولیس نے موقع پر پہنچ کر معاملے کی چھان بین شروع کی اور جب معاملہ حد سے زیادہ پراسرار ہونے لگا تو ڈی پی او بھی خود موقع پر پہنچ گئے۔ اسی دوران ایک مقامی عورت نے خاتون پولیس افسر کو خفیہ طور پر بتایا کہ اس خاتون کے ایک نوجوان کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اور اس سے تفتیش ہونی چاہیے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ نوجوان کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا جبکہ پولیس کی کچھ نفری مقتول بچوں کے گھر ہی موجود رہی۔ تھانے میں جب تفتیش کا آغاز ہوا اور سختی کی گئی تو نوجوان عاشق نے زیادہ دیر نہ لگائی اور ساری کہانی اگل دی۔ تمام تفصیلات جاننے کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ دوبارہ اس گھر پہنچے جہاں وہ خاتون اب بھی زور و شور سے بین ڈالنے میں مصروف تھی، پولیس نے اسے بھی فوراً گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں مظلوم باپ اور رشتہ داروں نے مل کر معصوم بچوں کی تدفین کر دی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عورت اگر گھر کو سنوار سکتی ہے تو ہنستا بستا گھر اجاڑ بھی سکتی ہے۔ موجودہ دور کا شیطان اتنا زیادہ چالاک، مکار اور ذہن ساز ہو چکا ہے کہ وہ مختلف بہانوں سے انسانی معاشرے اور خاندانی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ زمینی حقائق کے پیش نظر بعض اوقات مردوں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور آج کل عدالتوں میں بھی ایسے بیانات آسانی سے دے دیے جاتے ہیں تاکہ علیحدگی اختیار کی جا سکے۔ جب ایک خاندان میں تین بچے پیدا ہو چکے ہوں تو وہاں مرد پر ایسے الزامات عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ بچوں کی خاطر شوہر اپنی بیوی پر پورا اعتماد کر کے اپنا گھر بار اور اپنی جمع پونجی اس کے حوالے کر کے رزق حلال کمانے باہر جاتا ہے اور اگر پیچھے سے ایسا سلوک دیکھنے کو ملے تو ایسی خواتین کے لیے الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر خاندانی زندگی میں اس حد تک مسائل آچکے ہوں تو شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ قانونی طور پر خلع لے کر راستے جدا کر لیے جائیں اور بچوں کو باپ کے حوالے کر کے باقاعدہ نکاح کر لیا جائے، اگرچہ گناہ پھر بھی بڑا ہے لیکن دو معصوم جانیں تو بچائی جا سکتی تھیں، تاہم جو لوگ گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں وہ حلال اور جائز راستوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اس پورے معاملے کے حقیقی حقائق کا مکمل اندازہ تو دونوں فریقین کی بات سن کر ہی ہو سکتا ہے لیکن اہل علم و بصیرت اور وہ لوگ جو زندگی کی پچاس بہاریں دیکھ چکے ہیں اور جنہوں نے عمر بھر خاندانوں کو اجڑتے اور گھروں کو ٹوٹتے دیکھا ہے، وہ ایسے حالات کے اسباب کو بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ تجربے سے بڑا کوئی استاد نہیں ہوتا۔ ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے مسائل اور زندگی کا کٹھن تجربہ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ دعا ہے کہ جس طرح اس محنت کش کا گھر اجڑا، بچے جان سے گئے اور عورت بے وفا نکلی، اللہ تعالٰی کسی دشمن کو بھی ایسے کڑے امتحان میں نہ ڈالے کیونکہ ایسا صدمہ مرد کو اندر سے توڑ دیتا ہے اور وہ کسی سے شکوہ بھی نہیں کر سکتا اور نہ سب کے سامنے رو سکتا ہے۔ بدکردار مرد و عورت کو کبھی بھی عزت دار خاندانوں کے ساتھ رشتہ استوار نہیں کرنا چاہیے اور شادی سے قبل اچھی طرح سوچ لینا چاہیے تاکہ کسی کی زندگی برباد نہ ہو۔ امید ہے کہ معاشرہ دوبارہ مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت کو تسلیم کرے گا کیونکہ گھر کے بزرگ ایک محافظ کی مانند ہوتے ہیں جو اکیلی عورت کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتے ہیں، جن کی قدر مغربی اقدار اپنانے کی وجہ سے کھو گئی ہے اور بدلے میں ایسے عبرتناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اللہ پاک ہر شادی شدہ جوڑے کو ایسی محبت اور وفاداری عطا فرمائے کہ وہ ایک دوسرے کی قدر کریں اور کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیں کیونکہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو مسلمانوں میں بھی شادی کا مقدس رواج ختم ہو جائے گا اور لوگ گمراہی کے راستوں پر چل پڑیں گے جس سے دنیا بھی خراب ہوگی اور آخرت بھی برباد۔ اللہ تعالٰی ایسے حالات اور برے وقت سے ہر انسان اور ہر کلمہ گو کو محفوظ رکھے۔ آمین۔














