فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
4

فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین سید الشہداء نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، علی کے دل کے چین امام حسین علیہ الصلوٰة والسلام کی دین کی عظمت و شان اور بقاء کیلئے قربانی کبھی نہ بھلائی گئی ہے نہ قیامت بھلائی جائے گی۔ جب بھی محرم الحرام کا مہینہ آنے کے قریب ہوتا ہے کربلا اور کربلا والے شہیدوں علیہم الرضوان کی یادیں پھر تازہ ہونے لگتی ہیں اور یوں ہی لگتا ہے جیسے یہ واقعہ سامنے آج ہی ہوا ہو۔ بہرحال اہلِ ایمان سید الشہداء امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے احسان مند ہیں اس کردار پر آپ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ باقی غم کا اظہار، آنسوؤں کی روانی اور دیگر جلوسوں اور سبیلوں کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات کو اپنانے کی اصل ضرورت ہے کیونکہ آپ نے جلوسوں اور سبیلوں کی بجائے اپنا گھر بار پیش کیا۔ مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک اور آپ زم زم سے لے کر نہرِ فرات تک قرآن پاک کی تلاوت اور نماز ذکر کو اپنا معمول بنائے رکھا۔ آج ہم ثانوی حیثیت کے کام جو جائز تو ہیں سب کرتے ہیں لیکن نماز میں ہماری حاضری بہت کم ہے اور قرآن پاک کی تلاوت سے ہم عاری نظر آتے ہیں۔ غم کا اظہار جائز مگر نماز فرض ہے اور منقبتیں جائز مگر قرآن پاک کی تعلیم و تعلم فرض ہے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعتِ مطہرہ پر عمل کریں۔ قرآن پاک کی تعلیمِ عام ہو، شراب نوشی، بدکاری اور سود خوری کی صرف مذمت ہی نہ کی جائے بلکہ اسے روکنے کیلئے مؤثر اقدامات ہونے چاہئیں، اگر ان چیزوں کو روکنے کی بجائے ہم رواج دیں اور پھر حسینیت کے دعویدار بھی بنیں تو ہم خود ہی تعلیمِ امام عالی مقام کے غدار ٹھہریں گے۔ لہٰذا اس امر کو انتہائی گہرائی میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ باقی اظہارِ غم کے سلسلے میں اگر امام عالی مقام علیہ السلام اور آپ کے خانوادہ رضی اللہ عنہم کے کردار کو دیکھا جائے تو واویلا وغیرہ کی بجائے صبر، توکل اور رضا کے پیکر نظر آئیں گے۔ ان کے کردار میں تو ہمیں توکل ہی توکل، صبر ہی صبر اور رضا ہی رضا نظر آتی ہے۔ یہ کیوں نہ ہو وہ تو توکل کے ماحول میں رضا کی غذا کھا کر اور صبر کا دودھ پی کر پلے تھے۔ بڑے یزید سے لے کر چھوٹے چھوٹے یزیدوں کا ساتھ نہ دینا حسینیت ہے اور یزیدوں سے دوری کا ذریعہ یہی ہے کہ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کی جائے۔ قرآن پاک کی تعلیم کو عام کیا جائے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ اور عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروغ دیا جائے۔ صحابہ و اہل بیت کے درمیان محبت و الفت کے واقعات کو عوام الناس میں بتایا جائے اور علمی اختلافات بیان کرنے سے احتراز و پرہیز کیا جائے، امام عالی مقام علیہ السلام اور شہداء ِ کربلا رضی اللہ عنہم کی جراتوں، بہادریوں اور عبادتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے تاکہ عوام الناس میں بھی ایسے اچھے جذبات پیدا ہوں۔ قصے سنانے والے من گھڑت خطیبوں، نعت خوانوں اور نقیبوں سے بچا جائے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا نام نامی اسمِ گرامی حسین، کنیت ابو عبداللہ، لقب سبط الرسول، ریحان الرسول ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت بچپن میں ہی شہرت پا گئی تھی جس طرح آپ کی پیدائش کی خبر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش سے پہلے ہی عطا فرمادی گئی تھی۔
حضرت ام الفضل بنتِ حارث رضی اللہ عنہا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی تھیں اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم میں نے بہت سہمناک اور عجیب خواب دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ وہ بہت ہی ڈراؤنا خواب ہے، فرمایا کوئی بات نہیں تم بیان کرو۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے جسمِ اقدس کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ گھبرانے کی بات نہیں ہے، یہ تو بڑا مبارک خواب ہے، اس کی تعبیر یہ ہے کہ ان شاء اللہ میری بیٹی فاطمہ کو اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا جسے تم اپنی گود میں لو گی۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور میری گود میں آئے۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں کہ میں ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دیا، اچانک میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زار و قطار رو رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، رونے کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے عرض کی حضور اس بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کو؟ فرمایا کہ جبریل علیہ السلام اس کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے ہیں۔ یہ روایت مشکوٰة شریف کے صفحہ 572 پر موجود ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کربلا کو بیتے ہوئے تقریباً تیرہ سو ستاسی 1387 سال ہو گئے ہیں لیکن امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا ذکرِ بلند ہے کیونکہ ان کا کردار اعلیٰ ہے۔ اس کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہر ایمان والے کے ایمان کا حصہ ہے۔ حقیقت میں یزید مر چکا ہے جبکہ حسین رضی اللہ عنہ کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں۔ نہ یزید کا وہ ظلم رہا نہ ابنِ زیاد کی وہ جفا رہی، جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا۔ اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کے فیضانِ جرات و بہادری سے ہمیں وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here