ہیپی فادرز ڈے!!!

0
4
عامر بیگ

جب انسان خود باپ بنتا ہے تو اسے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ والدین اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی محبت، قربانیاں اور دعائیں اولاد کے لیے ایک ایسا سرمایہ ہیں جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔ میرے والد محترم محمد بیگ مرحوم ایسی ہی عظیم شخصیت کے مالک تھے جن کی یاد آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے اور جن کی تربیت کے اثرات ہماری زندگیوں میں نمایاں ہیں۔ والد محترم 1938 میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم جالندھر اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد انہوں نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی۔ ان کی شادی 19 سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔ زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں ان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داریاں آ پڑیں۔ دادا اور تایا جی کی وفات کے بعد خاندان کی متعدد ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ان پر آن پڑا مگر انہوں نے ثابت قدمی، حکمت اور خوش اسلوبی سے تمام فرائض ادا کیے اور خاندان کے ہر فرد کا سہارا بنے رہے۔
والد محترم اپنی اہلیہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ والدہ محترمہ کی جلد وفات ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا صدمہ تھی مگر انہوں نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ والدہ کی وفات کے بعد مسلسل دس برس تک وہ روزانہ ان کی قبر پر جا کر قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے اور ان کے ایصال ثواب کا اہتمام کرتے رہے۔ بعد ازاں جب تمام بچوں کی شادیاں ہو گئیں تو انہوں نے تنہائی دور کرنے کی خاطر 55 برس کی عمر میں دوسری شادی کی اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں اس رشتے سے بھی اولاد نرینہ سے نوازا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ان کا نہایت محبوب بیٹا تھا۔ انہوں نے میری تعلیم و تربیت پر دل کھول کر خرچ کیا اور میری شخصیت کی تعمیر میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد ان سے بہتر مقام حاصل کرے۔ ان کا یہ قول آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے کہ اصل ترقی یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ سے بہتر ہو۔
والد محترم نہایت ملنسار، مہمان نواز، نرم دل اور شفیق انسان تھے۔ اگرچہ بچپن میں انہوں نے ہماری تربیت کے لیے سختی بھی کی مگر اس کا مقصد صرف نظم و ضبط اور اچھے اخلاق سکھانا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شخصیت محبت، شفقت اور خلوص کا روشن مینار بن گئی۔ میری ان سے اکثر بحث بھی ہو جاتی تھی لیکن وہ کشادہ دل تھے اور میری بات سننے اور اچھا مشورہ ماننے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ کبھی محبت بھرے انداز میں دوستوں سے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہتے کہ یہ تو میرا بھی باپ ہے۔ یہ دراصل ان کی اعلیٰ ظرفی اور اس تربیت کا نتیجہ تھا جو انہوں نے خود مجھے دی تھی۔ ان کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ وہ دوستی نبھانا جانتے تھے اور رشتہ داروں، دوستوں اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے۔ آج بھی بے شمار لوگ انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں اور ان کے احسانات کا ذکر کرتے ہیں۔ یہی ایک نیک انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگ اسے دعاؤں میں یاد رکھیں۔
والد محترم کا انتقال نیو جرسی کے بیتھ اسرائیل ہسپتال میں ہوا۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں مسجد نمازیوں سے بھر گئی اور بڑی تعداد میں لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ بعد ازاں پاکستان میں ان کی تدفین کے موقع پر بھی سینکڑوں افراد شریک ہوئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تعلیم اور کام کی غرض سے مجھے مختلف ممالک کے سفر درپیش رہے، پھر کچھ عرصہ ان کے ساتھ گھریلو زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ ان سے دعائیں لینے کے ساتھ ساتھ ان کی بیماری کی وجہ سے زندگی کے آخری دو ماہ مجھے ان کے ساتھ مسلسل ہسپتال میں شب و روز گزارنے کا موقع بھی ملا جو میرے لیے ایک عظیم سعادت تھی۔ ان ایام میں انہوں نے اپنی زندگی کے بے شمار واقعات اور تجربات مجھ سے شیئر کیے۔ مجھے ان کی خدمت کا موقع بھی ملا اور میں نے ان کے صبر، ایمان اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کو قریب سے دیکھا۔ پھر جمعہ کے دن وہ زندگی کی آٹھ دہائیاں گزارنے کے بعد اپنے رب کریم کے حضور اسی کا کلمہ پڑھتے ہوئے حاضر ہو گئے۔
وفات سے تقریباً ایک سال قبل وہ ایک بار پھر عمرے کی سعادت حاصل کرنے گئے۔ ان کی صحت بے مثال تھی اور وہ چاک و چوبند زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ ہم اکثر رات تین بجے ان کے تہجد کے وقت اٹھنے والے الارم پر جاگ جاتے تھے مگر وہ رات کو خبرنامہ دیکھتے ہوئے سو جاتے تھے۔ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری کی ایک خاص تڑپ تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہونے سے پہلے اس مقدس بارگاہ میں حاضر ہو کر آخری سلام پیش کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کی یہ حاضری قبول فرما لی۔
آج میں تمام قارئین سے عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ جن کے والدین حیات ہیں وہ ان کی قدر کریں، ان کی خدمت اور اطاعت کو اپنی سعادت سمجھیں، ان کی دل آزاری سے بچیں اور محبت و احترام کے ساتھ ان کے ساتھ پیش آئیں۔ جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں وہ ان کے لیے دعا، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کا اہتمام کریں تاکہ ان کی آخرت سنور سکے۔ ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے بچے ہمارے اعمال کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے والدین کے ساتھ سلوک کریں گے ویسا ہی سلوک آنے والی نسلیں ہمارے ساتھ کریں گی۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کی تعمیر کردہ عمارت کی اینٹ ہیں۔ اگر اس اینٹ کو اچھی جگہ مضبوط بنیاد میں رکھا جائے تو اس کا اجر اور ثمر بھی بہترین ہوگا۔ اللہ تعالیٰ میرے والد محترم محمد بیگ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here