حضرت نوری بریلوی اپنے کلام کے آئینے میں!!!

0
5

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ پرملال سے متاثر ہو کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہایت اندوہناک انداز میں قلم برداشتہ ہو کر اپنے جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔ ان کے اشعار درج ذیل ہیں:
ان عربی اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک مرتبہ بھی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکِ پا کو سونگھ لیا ہو، اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اگر وہ ساری عمر کوئی اور خوشبو نہ سونگھے۔
حضور کی جدائی میں آپ پر ایسی مصیبتیں ٹوٹی ہیں کہ اگر یہ مصائب دنوں پر نازل ہوتے تو وہ بھی تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔
اس عظیم سانحے کے باعث آسمان کی پہنائیاں غبار آلود ہو گئیں، دن کا سورج لپیٹ دیا گیا اور سارا زمانہ تیرہ و تار ہو گیا۔
زمین بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مبتلائے درد و غم ہے اور ان کے رنج میں سراپا ڈوبی ہوئی ہے۔
اب ان کی جدائی پر مشرق و مغرب بھی آنسو بہا رہے ہیں کیونکہ فخر تو صرف ان کے لیے ہے جن پر یہ روشنیاں چمکیں۔
آخر میں وہ فرماتی ہیں کہ اے آخری رسول، آپ برکت و سعادت کی جوئے فیض ہیں اور آپ پر تو خود قرآن نازل کرنیوالے رب نے بھی درود و سلام بھیجا ہے۔
مذکورہ بالا اشعار کی تشریح و توضیح کے لیے دفاتر کے دفاتر بھی ناکافی ثابت ہوں گے کیونکہ ان اشعار کے لفظ لفظ سے جہاں محبتِ رسول کے سوتے پھوٹتے ہیں، یہ اپنے اندر مطالب و مفاہیم کا ایک ناپید کنار سمندر لیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کسی اور موقع پر صحابہ کرام کی نعت گوئی مع تشریح پیش کی جائے گی، لیکن یہاں صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ نعت گوئی کی روایت کوئی نئی نہیں بلکہ انتہائی قدیم ہے۔ ان تاریخی شواہد سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نعت گوئی سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ پاک میں بھی بے پناہ مقبولیت رکھتی تھی۔ اسی بنیاد پر اب پورے دعوے کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نعتیہ شاعری کی ابتدا عربی شعراء سے ہوئی، جس کے بعد یہ فن بتدریج اپنی ارتقائی منزلیں طے کرتا ہوا فارسی شعراء تک پہنچا۔ بعد ازاں رفتہ رفتہ اردو شعراء نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور آج اس فن نے پوری دنیا میں اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کر کے اپنی اہمیت و افادیت کا لوہا منوا لیا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here